اڈپی اورجنوبی کینرا ضلع کے ساحلی علاقے میں زوردار بارش۔ ریاست میں دس افراد ہلاک

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 16th April 2018, 6:01 PM | ساحلی خبریں |

منگلورو 16؍اپریل (ایس او نیوز) جنوبی کینرا اور اڈپی ضلع کے ساحلی علاقے میں اتوار کے دن صبح اور پھر شام میں ہونے والی زوردار بارش کی وجہ سے ہر طرف جل تھل ہوگیااور درجہ حرارت میں اس قدر کمی آئی کہ لوگوں نے راحت کی سانس لی۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق بادلوں کی گھن گرج اور بجلیوں کی کڑک کے ساتھ بعض علاقوں میں مسلسل دو دو گھنٹے تک برسات ہوتی رہی۔کئی مقامات پر بجلی کی سپلائی منقطع ہوئی تو کہیں پر کمپاونڈ کی دیواریں گرنے کے واقعات پیش آئے۔بہت سارے مقامات پر عوامی پروگرام اور جلسے متاثر ہونے کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں۔اس کے علاوہ کرناٹکا کے دیگر مقامات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اتوار کے دن ہونے والی بارش سے زبردست نقصان ہوا ہے ۔ جس میں بجلیاں گرنے سے الگ الگ مقامات پر جملہ 10افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

محکمہ موسمیات کی پیشین گوئی کے مطابق ساحلی کرناٹکا پر ابھی تین چار دن تک بادل چھائے رہیں گے اور کچھ علاقوں میں پانی بھی برسے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کیخلاف کانگریس کا جاری کردہ ٹیپ جعلی، کرناٹک کانگریس رکن اسمبلی کابیان، کانگریس پریشان 

بی جے پی کے خلاف کانگریس کے ایک جاری کردہ ٹیپ سے کانگریس کی ٹکٹ پر جیت درج کرنے والے یلاپور کے رکن اسمبلی شیورام ہیبار نے پارٹی کی جانب سے جاری کردہ ٹیپ کو جعلی قرار دیاہے۔ اور اس بات کو غلط قرار دیا ہے کہ بی جے پی کی طرف سے انہیں رقم کی پیشکش کی گئی تھی اور وزارتی عہدہ دینے کا بھی ...

فتح کے جشن میں پاکستان نواز نعرے بازی کا جھوٹا ویڈیو۔ مینگلور پولس اسٹیشن میں کانگریس کی طرف سے شکایت درج

بی جے پی کے وزیراعلیٰ ایڈی یورپا کے استعفیٰ دینے اور کانگریس جے ڈی ایس محاذ کے لئے حکومت سازی کی راہ ہموار ہونے کی خوشی میں منگلور و کے کانگریس دفتر میں جشن فتح منایاگیاتھا۔ لیکن اس تعلق سے ایک ویڈیو کلپ سوشیل میڈیا پر عام ہواتھا جس میں جشن کے دوران پاکستان نواز نعرے بازی ...

بھٹکل میں گائیوں سے بھری دو لاریوں پر حملے کے الزام میں گیارہ افراد گرفتار؛ کیاجانوروں کو بی جے پی لیڈر کے ڈیری فارم لےجایا جارہا تھا ؟

  تعلقہ کے مرڈیشور نیشنل ہائی وے پر کل رات ہوئی ہندو شدت پسند تنظیموں کے کارکنوں کی غنڈہ گردی کے واقعے کے بعد پولس متحرک ہوکر اب تک گیارہ لوگوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے، جبکہ دیگر حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔