کینیا: انتخابی نتائج کے بعد حزب اختلاف کے مظاہرے

Source: S.O. News Service | Published on 12th August 2017, 6:19 PM | عالمی خبریں |

نیروبی12اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کینیا میں حکام نے بتایا ہے کہ منگل کو منعقدہ انتخابات میں کینیا کے صدر اوہرو کینیٹا دوبارہ منتخب کر لیے گئے ہیں۔اوہرو کینیٹا سنہ 2013 سے ملک کے صدر ہیں۔ حالیہ انتخابات میں انھوں نے اپنے مد مقابل رئیلا اوڈنگا کو شکست دی ہے۔صدر اوہرو کینیٹا کو انتخابات میں 4.3 فیصد ووٹ ملے جبکہ ان کے حریف کو 44.7 فیصد ووٹ ملے۔انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد صدر کینیٹا نے اتحاد کی اپیل کی اور حزب اختلاف سے کہا: 'ہم آپ کے پاس آئے ہیں۔۔۔ ہم سب اسی جمہوریہ کے باشندے ہیں۔لیکن حزب اختلاف نے نتائج کے اعلان سے قبل ہی اسے مسترد کر دیا اور اسے 'معمہ' قرار دیا۔
بہر حال ان نتائج کو بین الاقوامی مبصرین نے قبول کیا ہے۔ اوہرو کینیٹا نے کہا کہ انھوں نے 'آزاد، شفاف اور قابل اعتماد' انتخابات کو یقینی بنایا ہے۔انتخابات کے نتائج کے بعد حزب اختلاف کے گڑھ کیسومو شہر اور کیبیرا سمیت دارالحکومت نیروبی کی بہت سی کچی آبادیوں میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہاں کاروبار کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔
انتخابات کے نتائج کے امکان میں ان علاقوں میں پولیس تعینات کی گئی تھی اور انھوں نے کء? مقامات پر اشک آور گیس کے گولے داغے ہیں۔کیسومو میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار نے کہا کہ مظاہرین نے سڑکوں پر آگ جلا رکھی ہے۔اس سے قبل مسٹر اوڈنگا کے حامیوں نے کہا کہ وہ انتخابات میں جیت گئے ہیں اور انھوں نے اپنے نتائج جاری کر دیے تھے۔ الیکشن کمیشن نے اسے غیر قانونی اور قبل از وقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بنیادی ریاضی کی غلطیاں ہیں۔بعض مبصرین نے یہ تشویش ظاہر کی ہے کہ کہیں یہ دس سال قبل ہونے والے انتخابات جیسا نہ ہو جس میں 1100 سو سے زیادہ افراد ہلاک اور چھ لاکھ افراد بے گھر ہو گئے تھے۔
اوہرو کینیٹا نے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے کہا: ہم نے سیاسی تشدد کا نتیجہ دیکھ رکھا ہے۔ اور ہم سے کوئی ایسا کینیائی شہری نہیں ہوگا جو اسے دہرانا چاہتا ہو۔اس کے علاوہ نتائج سے قبل مسٹر اوڈنگا نے بھی اپنے حامیوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی تھی لیکن کہا تھا کہ وہ کسی کو کنٹرول نہیں کریں گے کیونکہ 'لوگ انصاف کے طلبگار ہیں۔'

ایک نظر اس پر بھی

روہنگیا کے خلاف بدھ بھکشوؤں کا مظاہرہ

اتوار کے روز ہزاروں سخت گیر نظریات کے حامل بدھ بھکشوؤں نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مظاہرے میں مطالبہ کیا کہ علاقہ چھوڑ کر جانے والے روہنگیا کو قبول نہ کیا جائے۔