کرناٹک کو سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے تین ہزار کروڑ کا مطالبہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 28th August 2018, 11:06 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،28؍اگست(ایس او نیوز) ریاست میں سیلاب اور طوفانی بارش سے متاثرہ کورگ ، ملناڈ اور ساحلی کرناٹک کے علاقوں میں راحت کاری کے کاموں کو آگے بڑھانے کے لئے مرکزی حکومت کی مدد طلب کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی 30 اگست کو دہلی روانہ ہورہے ہیں۔

ریاستی حکومت کی طرف سے پہلے ہی بتایا گیا ہے کہ کورگ ، شمالی کینرا ، شیموگہ ، میسور ، چکمگلور ، اور آس پاس کے علاقوں میں موسلادھار بارش کی وجہ سے کرناٹک کو تین ہزار کروڑ روپیوں کانقصان ہواہے ، اسی لئے فوری طور پر راحت کاری کے لئے مرکزی حکومت فوری طورپر جاری کرے۔ بتایاجاتاہے کہ وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی اس سلسلے میں کل وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کے دوران کمار سوامی مطالبہ کریں گے کہ ریاست کے سیلاب اور بارش سے متاثرہ علاقوں میں فوری باز آباد کاری کے لئے درکار تین ہزار کروڑ روپے جاری کئے جائیں۔

بتایا جاتا ہے کہ ریاست کے سیلاب سے متاثرہ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں سے تباہی کی مکمل رپورٹ طلب کرلی گئی ہے، اس رپورٹ کی بنیاد پر صوبائی خسارے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، خاص طور پر کورگ میں جو تباہی بارش کی وجہ سے مچی ہے یہاں جانی نقصان کے علاوہ عوامی ونجی املاک کو جس طرح کا نقصان پہنچا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ پورے ضلع کی باز آباد کاری ہونی چاہئے۔ان تمام حقائق سے وزیراعظم کو آگاہ کرواکر ان سے گز ارش کی جائے گی کہ بلاتاخیر کرناٹک کو تین ہزار کروڑ روپے بطور امداد جاری کئے جائیں۔ 

ایک نظر اس پر بھی

یڈیورپا میرے صبر کا امتحان نہ لیں؛ حکومت کو گرانے کی بارہا کوشش بی جے پی کو زیب نہیں دیتی: کمار سوامی کا بیان

وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے ریاستی بی جے پی صدر یڈیورپا کو متنبہ کیا ہے کہ بارہا ریاستی حکومت کو گرانے کی کوشش کرکے وہ ان کے صبر کا امتحان نہ لیں۔اگر یہ کوشش جاری رہی تو یڈیورپا کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

ارکان اسمبلی کو خریدنے کی کوشش پرسدرامیا نے کہا؛ اپوزیشن کار ول ادا کرنے کی بجائے بی جے پی بے شرمی پر اتر آئی ہے

سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی  حکمران اتحاد کی رابطہ کمیٹی کے چیرمین سدرامیا نے کہا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کو ایک تعمیری اپوزیشن پارٹی کا رول ادا کرنا چاہئے، لیکن ایسا کرنے کے  بجائے انتہائی بے شرمی سے یہ پارٹی ریاستی حکومت کو گرانے کی کوششوں کو اپنا معمول بناچکی ہے۔