دیرالزور میں اتحادی طیاروں کی بمباری سے 23 شہری جاں بحق

Source: S.O. News Service | By Sheikh Zabih | Published on 16th May 2017, 6:49 PM | عالمی خبریں |

دمشق،16مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)شام کے شہر دیر الزور میں ‘داعش‘ کے زیر تسلط علاقے البوکمال پر گذشتہ روز امریکی قیادت میں قائم عالمی اتحاد کے جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں کم سے کم 23 عام شہری جاں بحق ہوگئے۔شام میں انسانی حقوق پر نظر رکھنے والی بین الاقوامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اتحادی طیاروں کی بمباری سے تئیس عام شہری مارے گئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔آبزرویٹری کے مطابق اتحادی طیاروں نے شام کے مشرق میں عراق کی سرحد کے قریب البوکمال شہر میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔انسانی حقوق گروپ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ دیر الزور گورنری کے البوکمال شہر میں امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کے طیاروں نے بمباری کی جس کے نتیجے میں 23 عام شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ دسیوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بمباری میں مرنے والے 15 شامی پناہ گزین بھی شامل ہیں جو دیر الزور اور الرقہ سے داعش کے چنگل سے جان بچا کر محفوظ مقامات کی طرف جانے کی کوشش کررہے تھے۔
مقامی ذرائع کے مطابق اتحادی طیاروں نے سوموار کو مقامی وقت کے مطابق صبح تین بجے شہری آبادی پر بمباری کی۔ اس وقت شہری سو رہے تھے۔ بمباری سے بڑی تعداد میں شہری زخمی ہوئے ہیں۔ اس لیے ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق داعش نے البوکمال کی متعد کالونیوں میں عمارتوں کو اپنے مراکز میں تبدیل کررکھا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ داعش عالمی اتحادی طیاروں کی بمباری سے بچنے کے لیے اپنے مراکز گنجان آباد مقامات پر منتقل کررہی ہے تاکہ آبادی کو ڈھال کے طور پراستعمال کیا جا سکے۔ادھر مشرقی الرقہ میں داعش کے زیرتسلط علاقے میں اتحادی طیاروں کے ایک دوسرے فضائی حملے میں 12 خواتین کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔انسانی حقوق آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کے مطابق اتحادی طیاروں نے اتوار کو کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں بارہ خواتین ورکر جاں بحق ہوگئیں۔خیال رہے کہ دیر الزور گورنری پر داعش نے سنہ 2014ء میں قبضہ کیا تھا۔ یہ گورنری تیل کی دولت سے مالا مال ہے۔ الرقہ میں داعش کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز گذشتہ برس نومبر میں ’سیرین ڈیموکریٹک فورسز‘ نے کیا تھا۔ اس گروپ کو امریکا اور مغربی ملکوں کی حمایت حاصل ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

یمن میں القاعدہ کے خلاف آپریشن میں متعدد امریکی فوجی زخمی

امریکی وزارت دفاع (پینٹا گون) نے اعتراف کیا ہے کہ گذشتہ روز یمن میں القاعدہ سے وابستہ دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں متعدد امریکی فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت دفاع کے مطابق اس آپریشن میں کم سے کم 7القاعدہ جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔ امریکی وزارت دفاع کے ترجمان ...

قطر:سخت گیر جماعتوں کی آواز

قطر کی جانب سے یکے بعد دیگرے سامنے آنے والی مہم جوئی کا اکثر شکار اس کے پڑوسی ممالک ہوئے.. تاہم اب ایسا نظر آ رہا ہے کہ وہاں ایک مرتبہ پھر ساحر کا جادو اُلٹا ہو گیا ہے۔

سعودی شیعہ عالم دین کی زخمی سیکیورٹی اہلکاروں کی عیادت

سعودی عرب کے ایک سرکردہ شیعہ عالم دین علی الناصر السلمان نے گذشتہ روز العوامیہ کے مقام پر دہشت گردوں کے حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کی عیادت کی۔ سعودی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شیعہ عالم دین نے العوامیہ کے علاقے المسورہ میں دہشت ...

برج الخلیفہ کی مانچسٹر دہشت گردی کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے طور پر برج الخلیفہ نے اوڑھا برطانوی پرچم

برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں گذشتہ روز دہشت گردی کی مجرمانہ کارروائی کے بعد جہاں متحدہ عرب امارات نے سرکاری سطح پر اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے برطانیہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ وہیں دنیا کی بلند ترین عمارت برج الخلیفہ نے بھی برطانوی پرچم اوڑھ کر مانچسٹر دہشت گردی کے متاثرین ...

میزائل تجربات جاری رکھیں گے، روحانی کا امریکا کو جواب

ایرانی صدر حسن روحانی نے پاسداران انقلاب کی طرح میزائل پروگرام کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے امریکا کی طرف سے میزائل تجربات روکے جانے کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران نے تکنیکی طور پر جس وقت بھی میزائل تجربے کی ضرورت محسوس کی تو تجربہ کرنے میں تاخیر نہیں ...

یمن:تعز میں قتل و غارت، باغیوں کی رہائشی علاقوں پر گولہ باری

یمن میں باغی ملیشیاؤں نے مسلسل تیسرے روز تعز شہر کے رہائشی علاقوں کو گولہ باری کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں درجنوں شہری جاں بحق اور زخمی ہو گئے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔حوثی اور معزول صالح کی ملیشیاؤں کی جانب سے مختلف نوعیت کے ہتھیار استعمال کیے گئے۔