دوبارہ پارلیمانی انتخابات صرف وفاقی عدالت کی ذمہ داری ہے:العبادی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th June 2018, 12:36 PM | عالمی خبریں |

بغداد 13جون ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی کے ترجمان نے کہا ہے کہ ملک میں دوبارہ پارلیمانی انتخابات صرف سپریم وفاقی عدالت کی ذمہ داری اور اس کے دائرہ اختیار میں ہے۔ اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنے کا مجاز ادارہ صرف عدالت ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک غیرملکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے العبادی کے ترجمان سعد الحدیثی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دوبارہ انتخابات کا فیصلہ سپریم وفاقی عدالت کے اختیار میں ہے اور اس کا انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں۔خیال رہے کہ عراق کی پارلیمنٹ نے مئی میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے بعد ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا فیصلہ کیا ہے جب کہ دارالحکومت بغداد میں اتوار کے روز بیلٹ بکس کے ایک گودام میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں نصف کے قریب بیلٹ بکس جل کر خاکستر ہوگئے ہیں۔عراقی الیکشن کمیشن کے ایک رکن سعد کاکائی کا کہنا ہے کہ بیلٹ بکس باقاعدہ منصوبے کے تحت جلائے گئے ہیں اور اقدام کا مقصد دھاندلی کی تحقیقات کے لیے ہونے والی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔ادھر عراق کے سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ بیلٹ بکس نذرآتش کرنے میں تین پولیس اہلکار اور الیکشن کمیشن کا ایک ملازم ملوث ہیں اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

خشوگی کے مبینہ قتل کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2 اکتوبر کو جب صحافی جمال خشوگی استنبول کے سعودی قونصلیٹ میں داخل ہوا تو وہاں 15 سعودی ایجنٹ پہلے سے ہی ان کے منتظر تھے اور انہوں نے منٹوں کے اندر اسے ہلاک کر ڈالا۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ خشوگی مر چکا ہے: صدر ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ سعودی صحافی جمال خشوگی مر چکا ہے اور یہ کہ اس حوالے سے سعودی عرب کی جانب امریکہ کا رد عمل بہت سخت ہو گا، لیکن وہ اب بھی اس نتیجے پر پہنچنا چاہتے ہیں کہ اصل میں ہوا کیا تھا۔

خواتین کا عوامی مقامات پر بچوں کو چھاتی سے دودھ پلانا، صحیح یا غلط؟

آسٹریلوی رکن پارلیمان لاریسا واٹرز نے جب ایوان بالا میں اپنے نومولود بچے کو چھاتی سے دودھ پلایا، تو عالمی سطح پر ایک انتہائی شدید بحث شروع ہو گئی کہ آیا بچوں کو عوامی مقامات پر ماں کا دودھ دیا جا سکتا ہے؟