حزب اللہ کا ماہر ہمیں تربیت دینے کے لیے آیا : حوثی قیدی کا اعتراف

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th January 2018, 9:57 PM | عالمی خبریں |

صنعاء، 12؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)یمن میں سرکاری فوج نے جمعرات کے روز الجوف صوبے میں حوثی ملیشیا کے قیدی بنائے گئے ایک رکن کی وڈیو جاری کی ہے جس میں اْس نے ساجد نامی ایک ماہر کے زیرِ نگرانی لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے ارکان سے تربیت حاصل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔اسیر حوثی باغی نے بتایا کہ اْس نے اپنے دیگر 39 ساتھیوں سمیت تربیت حاصل کی۔ اس کے بعد ان تمام افراد کو سعودی عرب کے ساتھ سرحد کے نزدیک الجوف ، صعدہ اور حجہ صوبے کے محاذوں پر تقسیم کر دیا گیا۔

حوثی باغی نے انکشاف کیا کہ نظریاتی تربیت یمنی دارالحکومت صنعاء میں دی جاتی تھی جب کہ عملی تربیت کا انتظام دیگر علاقوں میں کیا گیا۔ ساجد نامی عسکری امور کا ماہر ہر ہفتے تربیت دینے کے لیے آیا کرتا تھا۔ وہ لبنانی باشندہ ہے جو عراق میں بھی لڑائی میں حصّہ لے چکا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس بھی کئی وڈیوز میں لبنانی حزب اللہ کے تربیت کاروں کی حوثی ملیشیا کے ارکان کے ساتھ اْنہیں تربیت دینے کے لیے موجودگی کا انکشاف ہوا تھا۔رواں ماہ 8 جنوری کو یمن میں حیس اور خوخہ کے محاذ پر حوثی ملشیا کے ایک ذمّے دار کمانڈر نے خود کو اماراتی فورسز کے حوالے کر دیا تھا۔ اْس نے سعودی عرب کے زیر قیادت عرب اتحاد کی فورسز کے لیے کام کرنے پر آمادگی کا بھی اظہار کیا تھا۔

مذکورہ کمانڈر نے انکشاف کیا تھا کہ ایران نواز حوثی ملیشیا لوگوں کو اپنی صفوں میں شامل ہونے پر مجبور کرتی ہے اور بچوں کو بھی لڑائی کے میدانوں میں اگلی صفوں میں رکھتی ہے۔اْس کا مزید کہنا تھا کہ جو کوئی ایران نواز حوثی ملیشیا میں شمولیت سے انکار کرتا ہے اْسے گھر والوں سمیت علاقے سے نکال دیا جاتا ہے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

گولان پہاڑیوں کے قریب باغیوں کے ٹھکانوں پر شام کا قبضہ

شام کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے صدر بشار الاسد کی وفادار فورسز نے ملک کے جنوب مغرب میں باغیوں کے ٹھکانوں کے خلاف اپنی پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے فوجی اہمیت کی ایک چوٹی تل الحارہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جہاں سے اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی چوٹیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔

افغانستان میں داعش نے 20 افراد اور طالبان نے 9 پولیس اہل کار ہلاک کر دیے

داعش کے ایک خودکش بمبار نے منگل کے روز شمالی افغانستان میں دھماکہ کر کے 20 افراد کو ہلاک کر دیا جن میں ایک طالبان کمانڈر بھی شامل ہے۔ جب کہ جنوبی صوبے ہلمند میں ایک سرکاری کمانڈو یونٹ نے طالبان کی جیل سے 54 لوگوں کو آزاد کر ا دیا۔