آئندہ صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لوں گی:ہلیری کلنٹن کا اعلان 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th September 2017, 11:50 AM | عالمی خبریں |

واشنگٹن،12ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ وہ اگرچہ سیاسی طور پر متحرک رہیں گی لیکن صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لیں گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے اس فیصلے کا اظہار اپنی نئی کتاب واٹ ہیپنڈ میں کیا ہے جس کا اجرا منگل کو کیاگیا۔ اس حوالے سے سی بی ایس ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ان کے ملک کا مستقبل داو پر ہے۔انھوں نے کہا کہ اب وہ سیاست میں پہلے جیسی سرگرمی سے حصہ نہیں لیں گی خاص طور سے 2020ء کے صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لیں گی۔اپنی کتاب میں ہلیری کلنٹن نے اگرچہ 2016ء کے صدارتی انتخابات میں اپنی شکست کی ذمہ داری قبول کی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ان کی شکست میں امریکی صدارتی انتخاب کی مہم میں روسی مداخلت اور ان کی طرف سے سرکاری ای میل ذاتی سرور پر وصول کرنے کے معاملے جیسے بیرونی عناصر کا بھی کردار رہا ہے۔لیکن موخر الذکر میری فاش غلطی تھی۔انہوں نے ایف بی آئی کے سابق سربراہ جیمز کومی کے بارے میں کہا کہ ان کی طرف سے ای میلز کے معاملے کی تحقیقات کو صدارتی انتخاب سے چند روز قبل افشا کرنا ان کی شکت میں فیصلہ کن ثابت ہوا۔انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ کے عہدے سے سبکدوشی کے بعد ان کی طرف سے مختلف اداروں میں معاوضہ لے کر لیکچر دینا بھی ان کی ایسی غلطی تھی جس کا نتیجہ ان کو صدارتی انتخاب میں شکست کی صورت میں ملا۔ان لیکچرز کے حوالے سے میرے مخالفین کے پروپیگنڈے نے مجھ پر امریکی عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔
 

ایک نظر اس پر بھی

جرمن انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری

براعظم یورپ کی سب سے طاقتور اقتصادیات کے حامل ملک جرمنی میں آج چوبیس ستمبر کو پارلیمانی الیکشن میں ووٹ ڈالنے کا سلسلہ صبح آٹھ بجے سے شروع ہے۔

ووٹ ڈالنا سماجی ذمہ داری ہے، جرمن صدر

جرمنی کے صدر فرانک والٹر اشٹائن مائر نے جرمن عوام کو پولنگ میں جوق در جوق شریک ہونے کی تلقین کی ہے۔ انہوں نے عوام سے کہا ہے کہ ووٹ ڈالنا ایک سماجی ذمہ داری ہے اور اس کا احساس کیا جائے۔

فتح کے قریب ہیں، شامی وزیر خارجہ

شامی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ میں عالمی رہنماؤں کو بتایا ہے کہ ان کا ملک دہشت گردی کے خاتمے کے ہدف کی طرف بتدریج بڑھ رہا ہے اور گزشتہ چھ برس سے جاری جنگ میں فوجی فتح ’’اب دسترس میں‘‘ ہے۔

جرمن الیکشن، ووٹرز کون ہیں اور وہ کسے پسند کرتے ہیں؟

24 ستمبر کے جرمن وفاقی پارلیمانی انتخابات میں قریب ساٹھ ملین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ان ووٹرز میں عمررسیدہ، خواتین، مرد اور تارکین وطن پس منظر افراد کے حامل ووٹرز کا تناسب کیا ہے؟