ٹرمپ سعودیہ سے کئی معاہدوں کی منظوری دیں گے: وائٹ ہاؤس دورہ ریاض کے دوران امریکی صدر اسلام پر خطاب کریں گے

Source: S.O. News Service | By Sheikh Zabih | Published on 17th May 2017, 6:26 PM | عالمی خبریں |

ریاض، 17مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)امریکی قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر مکماسٹر نے کہا ہے کہ ان کا ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ وائیٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران کئی معاہدوں کی منظوری دیں گے اور ریاض میں اسلام کے حوالے سے خطاب کریں گے۔مکماسٹر نے صدر ٹرمپ کے مجوزہ دورہ مشرق وسطیٰ کی پیشگی تیاریوں کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کو تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دورہ ریاض کے دوران ’اسلام کے امن پسندانہ پہلو‘ پر روشنی ڈالیں گے۔ اپنے دورے کے دوران صدر یہ واضح کریں گے کہ امریکا اپنے مسلمان اتحادیوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔
امریکی قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے خطاب کا مقصد عالم اسلام کو تہذیب وتمدن کے دشمنوں کے خلاف متحد کرنا اور یہ واضح کرنا ہے کہ امریکا اپنے مسلمان اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں مکماسٹر کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ دورہ ریاض کے دوران سعودی حکومت کے ساتھ کئی سمجھوتوں کی منظوری دیں گے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی اوردفاعی میدانوں میں تعاون کے کئی معاہدوں کی منظوری متوقع ہے۔امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ 50 مسلمان ملکوں کی قیادت سے خطاب کریں گے۔ ان کے خطاب کا مقصد عالم السام کو دہشت گردی کے خلاف اور تہذیب کے دشمنوں کے خلاف متحد کرنا ہے۔ریاض میں ڈونلڈ ٹرمپ ’انسداد تشدد اور اعتدال پسندی کے فروغ‘ کے مرکز کا بھی افتتاح کریں گے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے دورہ مشرق وسطیٰ کے دوران تینوں آسمانی مذاہب، اسلام، عیسائیت اور یہودیت کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا چاہتے ہیں۔امریکی قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی قیادت سے ملاقات کے بعد دریائے اردن کے مغربی کنارے کے تاریخی شہری بیت لحم کا دورہ بھی کریں گے۔مشرق وسطیٰ میں قیام امن اور امریکی صدر کی کوششوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں مکماسٹر کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ فلسطین۔ اسرائیل تنازع کے جلد حل کے خواہاں ہیں اور وہ امن اقدامات کے لیے فریقین کو کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ہرممکن سہولت فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی