ہم اْس معاہدے کو نہیں دْہرانا چاہتے جو دوسری جنگ عظیم کا سبب بنا: محمد بن سلمان

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th April 2018, 4:46 PM | عالمی خبریں |

پیرس 11اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ ایران اپنے مالی اثاثے عوام کی بہبود اور ترقی پر نہیں خرچ کر رہا بلکہ وہ یہ رقم اپنے نظریات پھیلانے پر لْٹا رہا ہے۔منگل کے روز پیرس کے الیزے پیلس میں فرانسیسی صدر امانوئل ماکروں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں بن سلمان نے کہا کہ ایران کے توسیع پسندی کے منصوبے پر روک لگائی جانی چاہیے۔سعودی ولی عہد کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنا ناگزیر ہے اور "ہم 1938ء میں ہونے والے معاہدے کو دہرانا نہیں چاہتے جو دوسری جنگ عظیم کا سبب بنا تھا"۔محمد بن سلمان نے واضح کیا کہ سعودی عرب اور فرانس کی شراکت داری بالخصوص موجودہ وقت میں نہایت اہم ہے۔ فرانس اور سعودی عرب کے درمیان اسلحے کی خریداری کے معاہدے ہیں اور یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے۔سعودی ولی عہد نے ویژن 2030 پروگرام کے اہداف کے حوالے سے بتایا کہ آنے والے وقت میں سعودی عرب تینوں براعظموں کے لیے کلیدی محور ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مملکت نے ابھی تک اپنی صلاحیتوں کا 10% سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔شام کے حوالے سے شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ "ہم ضرورت پڑنے پر اپنے حلیفوں کے ساتھ کسی بھی عسکری کارروائی کے لیے تیار ہیں"۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "ہم خطّے کی صورت حال مزید بگاڑنا نہیں چاہتے ہیں"۔

ایک نظر اس پر بھی

شمالی کوریا میزائل ٹیسٹ سائٹ کو بند کر دے گا: صدر مون

جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے میزائل لانچ اور ٹیسٹ کرنے کے ایک مرکز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں دونوں ممالک کے صدور کے درمیان ملاقات کے بعد صدر مون نے کہا کہ انھوں نے کم جونگ اُن کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کے ...

افغانی اور بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کو پاکستان کی شہریت دیں گےعمران خان

پاکستان میں جو بچے پیدا ہوئے ہیں، ان کو شہریت دی جائے گی۔پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت پاکستان میں پیدا ہوئے تمام افغانی اوربنگلہ دیشی پناہ گزینوں کو شہریت فراہم کرے گی۔ ایکسپریس ٹریبیونل کی خبر کے مطابق حکومت بنانے کے بعد اتوار کو اپنے پہلے دورے ...

امریکا 2019 میں 30 ہزار پناہ گزین قبول کرے گا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پیر کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ آئندہ برس کے لیے پناہ گزین پروگرام کے سلسلے میں پناہ گزینوں کی حد 30 ہزار مقرر کی گئی ہے۔