بھٹکل: شرالی میں نیشنل ہائی وے 45میٹر چوڑا کرنے کو لے کر عوامی احتجاج جاری :ایک ہفتہ تک کام بند رکھنے اے سی کا حکم

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 13th January 2019, 9:42 AM | ساحلی خبریں |

بھٹکل:12؍جنوری (ایس او نیوز) قومی شاہراہ کو 45میٹرتک وسعت دے کر ہی تعمیری کام کرنے کا مطالبہ لےکر شرالی کے عوام نے جمعہ کے بعد سنیچر کو بھی احتجاج کیا۔

سنیچر کو ٹھیکدار  آئی آر بی کمپنی کا عملہ جے سی بی مشین لے کر آگے بڑھا تو عوام نے مشین کو روک کر کام بند کرنےکی تاکید کی۔ شاہراہ کو45میٹر وسعت دینے کے لئے حصولیابی زمین کی نشاندہی کرتے ہوئے کوشش کی گئی تھی اور جو لوگ زمین دینے سے انکار کررہے  ہیں ان مالکان کی منظوری کاغذات پر دستخط لےکر آنے کی صورت میں 45میٹر کی توسیع کے لئے ضروری اقدام اٹھانے کا افسران نے تیقن دیا تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا  ہے  کہ ڈپٹی کمشنر کی بات پر اعتماد کرتے ہوئے 8زمین مالکان کی دستخط لے کر افسران کو سونپے گئے ہیں ۔ لیکن 3-4صنعت کاروں کے مفاد کے آگے جھکتے ہوئے شاہراہ کی توسیع 30میٹر تک ہی محدود کرتے ہوئے افسران کام کے لئے جلدبازی کررہے ہیں۔ عوام نے سوال کیا کہ افسران بتائیں کہ منصوبے میں تبدیلی کس وجہ سے کی گئی ہے۔ عوام نے اعتراض کیا کہ  بے وقوف بنا کر کسی کے مفاد کی خاطر سازش کرنا جمہوری نظام میں ٹھیک نہیں ہے۔

عوام کے مطابق اکثر علاقوں میں 45میٹر کی توسیع کرتے ہوئے شاہراہ کی تعمیر کی جارہی ہےتو صرف شرالی میں ہی کیوں 30میٹر کیا جارہاہے۔ شرالی میں اسکول، کالج ہیں، روزانہ ہزاروں طلبا شرالی کے ذریعے بھاگ دوڑ کرتے رہتے ہیں۔ حالات تقاضا کرتے ہیں کہ علاقے میں سڑکیں کشادہ ہوں ،رکشا اسٹائنڈ کے لئے مناسب جگہ کی ضرورت ہے، 30میٹر کی وسعت میں سرویس روڈ، فٹ پاتھ، رکشا اسٹائنڈکی تعمیر ممکن نہیں ہے۔عوام نے آفسران کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے متنبہ کیا کہ  اگر  یہاں شاہراہ کا کام کرنا ہے تو 45میٹر کی وسعت کے ساتھ ہی کرنا ہوگا،  ورنہ ہمیں شاہراہ کی ضرورت نہیں ہے۔

بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر ساجد ملا، تحصیلدار وی این باڈکر جائے دیگر پولس کی زائد فورس واقعے کی جانکاری ملتے ہی جائے وقوع  پرپہنچ  گئے۔ اے سی نے احتجاجیوں کی شکایات کو سماعت کرنے کے بعد بتایاکہ سرکار نے  شرالی میں 45میٹر تک کی زمین کی حصولیابی  نہیں کی ہے۔ اس طرح کےاحتجاج سے قومی شاہراہ کی توسیع میں تاخیر   ہوگی۔ ہم لوگ اعلیٰ افسران کی ہدایات پر کام کرتے ہیں، انہوں نے عوام سے کہا کہ متعینہ مدت میں کام مکمل کرنے کے لئے عوام کا تعاون ضروری ہے۔ مگر عوام نے انکار کرتے ہوئے 30میٹر  کے ہائی وے کے لئے کام کرنے دینے سے انکار کردیا۔

حالات کو دیکھتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر  نے فی الفور آئی آر بی کمپنی افسران کو ہدایت دی کہ وہ اگلے ایک ہفتہ تک کام بند رکھیں۔جس کےنتیجے میں ڈرنیج کے لئے کھودے گئے گڑھوں کو جے سی بی مشین سے بھر دیا گیا۔ 

17جنوری کو شرالی میں میٹنگ : نیشنل ہائی وے کو 45 میٹر نہ کئے جانے پر ناراض شرالی گرام پنچایت صدر وینکٹیش نائک نے اعلان کیا ہے کہ عوامی رائے کو درکنار کرتے ہوئے شاہراہ کی توسیع 30میٹر تک کئے جانے کی مذمت میں 17 جنوری کو شرالی میں احتجاجی میٹنگ منعقد کی گئی ہے۔ انہوں نے شرالی علاقے کے عوام سے اپیل کی کہ وہ  کثیر تعداد میں شریک ہوکر اپنی آراء سے نوازیں۔

ایک نظر اس پر بھی

دارالعلوم اسلامیہ عربیہ تلوجہ میں علمائے شوافع کی جانب سے فقہی سمینار کا آغاز؛ علماء فقہائے شوافع نے حقیقتاً حدیث اور فقہ میں بہت نمایاں کام کیاہے: خالد سیف اللہ رحمانی 

بروز سنیچر 19؍ جنوری مجمع الامام الشافعی العالمی کی جانب سے دو روزہ پہلے فقہی سمینار کا آغاز کیا گیا اس سمینار کا افتتاحی جلسہ صبح 10؍ بجے جامعہ دارالعلوم اسلامیہ عربیہ تلوجہ ممبئی میں منعقد کیا گیا

بھٹکل: ریاست کے مشہور سد گنگامٹھ کے شری کمار سوامی جی کی وفات پر رابطہ ملت اترکنڑا کا اظہار تعزیت

ریاست کے قدآور ، معروف سد گنگا مٹھ کے شری کمار سوامی جی کے دارِ فانی سے کوچ کر جانے پر رابطہ ملت اترکنڑا ضلع کے عہدیداران نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوامی جی ملک کی ایک قوت کی مانند تھے۔

گنگولی کے آراٹے ندی میں غرق ہوکر لاپتہ ہونے والے ماہی گیر کی نعش آج برآمد

یہاں آراٹے ندی میں غرق ہوکر کل رات ایک ماہی گیر لاپتہ ہوگیا تھا، جس کی نعش آج متعلقہ ندی سے برآمد کرلی گئی ہے۔ ماہی گیر کی شناخت آراٹے کڑین باگل کے رہنے والے  کرشنا موگویرا (50) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

کنداپور میں ہوئی چوری کی واردات کے بعد پولس نے گھر میں نوکری کرنے والے میاں بیوی کوکیا گرفتار

کنداور دیہات کے سٹپاڑی کے ایک گھرمیں ہوئی  چوری کے معاملے میں کنداپور دیہی پولس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسی گھر میں کام کرنےو الے میاں بیوی کو صرف دو دنوں میں ہی گرفتار کر کے معاملے کو حل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی  ہے۔

ہوناور قومی شاہراہ پرگزرنےو الی بھاری وزنی لاریوں سے سڑک خستہ؛ میگنیز کی دھول اور ٹکڑوں سے ڈرائیوروں اور مسافروں کو خطرہ

حکومت عوام کو کئی ساری سہولیات مہیا کرتی رہتی ہے، مگر ان سہولیات سے استفادہ کرنےو الوں سے زیادہ اس کاغلط استعمال کرنے والے ہی زیادہ ہوتے ہیں، اس کی زندہ مثال  فورلین میں منتقل ہونے والی  قومی شاہراہ 66پر گزرنے والی بھاری وزنی لاریاں  ہیں۔