اور ایک نئی کہانی گڑھ لی گئی :جمال خاشقجی کا شدت پسند مذہبی گروہ سے تعلق تھا: سعودی ولی عہد

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 2nd November 2018, 8:44 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن 2نومبر ( آئی این ایس انڈیا ؍ایس او نیوز) سعودی صحافی جمال خاشقجی کے بہیمانہ قتل کے متعلق ترکی میڈیا کے ساتھ ساتھ تر ک صدر کی وضاحت اور انکشاف کن بیان کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان جمال خاشقجی کا تعلق مفروضہ شدت پسند اخوان المسلمین سے جوڑتے ہوئے کہا کہ صحافی جمال خاشقجی کا تعلق شدت پسند تنظیم ’اخوان المسلمون‘ سے ہے۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ جمال خاشقجی کے سعودی قونصل خانے استنبول میں قتل کے اعتراف کے بعد ولی عہد محمد بن سلمان نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کے داماد جیئرڈ کْشنر اور مشیر قومی سلامتی جان بولٹن سیٹیلی فونک گفتگو کی۔ٹیلی فونک گفتگو میں ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی عہدیداروں کو بتایا کہ صحافی جمال خاشقجی کا تعلق شدت پسند تنظیم ’اخوان المسلمون‘ سے ہے جو نفرت ا?میز مواد پھیلانے اور انتہا پسندی کو ترغیب دیتے ہیں تاہم صحافی کے قتل سے متعلق انہیں کوئی معلومات نہیں۔دوسری جانب جمال خاشقجی کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ جمال خاشقجی کا تعلق کسی شدت پسند گروہ سے نہیں تھا اور وہ کسی طور بھی خطرناک شخص نہیں تھے۔ جمال خاشقجی کے حوالے سے ولی عہد کا دعویٰ مضحکہ خیز ہے اور صحافی خود بھی چند برسوں سے اس الزام کی مسلسل تردید کرتے آئے ہیں۔واضح رہے کہ استنبول کے سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر سعودیہ عرب نے 18 شہریوں کو حراست میں لیا تھا اور انٹیلی جنس افسران کو معطل کردیا تھا تاہم اب تک صحافی کی لاش سے متعلق کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بنگلہ دیش انتخابات میں شیخ حسینہ کامیاب، اپوزیشن نے نتائج ماننے سے کیا انکار

خبر رساں اداروں کے مطابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکمران جماعت عوامی لیگ نے اتوار 30 دسمبر کو ہونے والے عام انتخابات میں اپوزیشن کے مقابلے میں بڑی برتری حاصل کر لی ہے اور حتمی نتائج میں عوامی لیگ کو کل 350 نشستوں میں سے 281 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

ایرانی حکومت ٹوئٹراستعمال کر رہی ہے مگر عوام کے لیے ممنوع ہے : امریکی سفیر

جرمنی میں امریکی سفیر رچرڈ گرینل کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت خود ٹویٹر کا استعمال کر رہی ہے مگر عوام کے لیے اس کا استعمال روکا ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بات ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی سے منسوب ٹویٹر اکاؤنٹ کھولے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی۔اگرچہ ایرانی میڈیا نے مذکورہ ...