کرناٹک میں سیاسی رسہ کشی پرگورنروجوبھائی والا پرسب کی نظریں مرکوز

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 15th May 2018, 10:53 PM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

میسورو،15؍مئی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) کرناٹک میں کسی بھی پارٹی کو اکثریت نہیں ملنے کے بعد اب جس کا سب سے اہم رول ہوگا، وہ کرناک کے گورنر وجوبھائی والا ہیں۔ ان کے فیصلوں پر اب سب کی نظریں مرکوز ہوں گی کہ وہ کیا کرتے ہیں۔کس پارٹی کو حکومت سازی کے لئے مدعو کرتے ہیں۔

شمال مشرقی ریاستوں میں نتائج آنے کے بعد بی جے پی کی حکمت عملی سے شکست سے دوچار ہونے والی کانگریس کرناٹک میں الیکشن کے نتائج آنے سے پہلے ہی سرگرم ہوگئی ہے۔ انتخابی نتائج مکمل ہونے سے قبل ہی کانگریس نے جے ڈی ایس کو حکومت بنانے کے لئے بغیر شرط حمایت دینے کا اعلان کردیا۔

کانگریس کے دو سینئر لیڈران غلام نبی آزاد اور اشوک گہلوت کو کانگریس ہائی کمان نے کل ہی بنگلور بھیج دیا تھا تاکہ میگھالیہ اور گوا کی غلطی دوبارہ نہ ہونے پائے۔ اس معاملے میں غلام نبی آزاد نے سبقت بھی حاصل کی اور بی جے پی سے پہلے ہی انہوں نے جے ڈی ایس سے رابطہ کرکے حمایت دینے کا اعلان کردیا۔

کرناٹک میں انتخابی نتائج ظاہر کررہے ہیں کہ بی جے پی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری ہے، لیکن اکثریت کے 113 اعدادوشمار سے دور ہے۔ دوسرے نمبر پر کانگریس ہے اور تیسرے مقام پر جے ڈی ایس ہے۔ اگر کانگریس اور جے ڈی ایس کی سیٹوں کو ملا دیا جائیتو وہ حکومت بنانے کے اعدادوشمار تک پہنچ جاتی ہیں۔

حالانکہ ابھی تک جے ڈی ایس نے اپنا اسٹینڈ واضح نہیں کیا ہے۔ اس نے یہ ضرور کہا ہے کہ وہ کنگ میکر بننے کے بجائے خود کنگ بننا پسند کرے گی۔ سیٹوں کی موجودہ حالت میں بھی اس نیاسی اسٹینڈ کو دوہرایا ہے۔

اب کرناٹک کے گورنر کیا کریں گے، کیا وہ سب سے بڑی جماعت ہونے کے ناطے بی جے پی کو بلائیں گے۔ یا پھ دوسرے متبادل کی طرف دیکھیں گے۔

حالانکہ گوا اور منی پور میں کانگریس کو بڑی جماعت ہونے کے بعد بھی حکومت بنانے کا موقع وہاں کے گورنر نے نہیں دیا تھا۔ بجائے اس کے ان پارٹیوں کو حکومت بنانے کے لئے مدعو کرلیا، جو گٹھ جوڑ کے ساتھ حکومت بنانے کے لئے اکثریت کا دعویٰ پیش کررہے تھے۔ تقریباً! یہی صورتحال کرناٹک مین ہے۔ اگر جے ڈی ایس خود بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے کے لئے نہیں آتی ہے تو گورنر کیا کریں گے؟

ایک نظر اس پر بھی

ریاستی حکومت اقلیتوں کی ترقی کی پابند: کمارسوامی، بجٹ میں اقلیتوں کے گرانٹس میں پانچ سو کروڑ کے اضافے کا اعلان

ریاست کی مخلوط حکومت کا منشاء ہے کہ اقلیتوں کو اس قدر تعلیمی ، سماجی اور معاشی طور پر مضبوط کیا جائے کہ وہ ملک کے دیگر طبقوں کے شانہ بہ شانہ ملک کی ترقی کے حصے دار بنیں۔

چھٹویں پے کمیشن کی سفارشات زیر غور: کمار سوامی

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر نظر ثانی کے متعلق ریاستی حکومت کو چھٹویں پے کمیشن کی جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اس کی پہلی اور دوسری جلد میں شامل سفارشات پر حکومت سنجیدگی سے غور کررہی ہے،

کابینہ میں توسیع کے ساتھ وزارت میں ردوبدل بھی ممکن، پانچ تا چھ وزراء کو ہٹانے پر غور: دنیش گنڈو راؤ

رناٹکا پردیش کانگریس کمیٹی صدر دنیش گنڈو راؤ نے آج اشارہ دیا کہ ریاستی کابینہ کی 22 دسمبر کو توسیع کے مرحلے میں وزارت میں بڑے پیمانے پر ردوبدل بھی ہوسکتی ہے اور ردوبدل کے مرحلے میں پانچ چھ وزراء کو ہٹایا بھی جاسکتا ہے۔

ریاست کرناٹک میں22 دسمبر کو کابینہ توسیع 

کرناٹک میں ایچ کمار سوامی کی قیادت والے کابینہ میں توسیع 22 دسمبر کی جائے گی ۔ کابینہ میں توسیع نہ ہونے سے پارٹی کے اندر کافی عدم اطمینان کی افواہیں گردش کر رہی ہیں ۔

وزیراعظم مودی کا حملہ:4سال پہلے کسی نے سوچابھی نہیں تھا کہ سکھ فسادمعاملے میں کانگریس لیڈر کوسزا ملے گی

وزیر اعظم نریندر مودی نے 1984سکھ مخالف فسادات میں انصاف میں تاخیر کا خاکہ پیش کرتے ہوئے منگل کو کہا کہ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ کانگریس لیڈر کو معاملے میں مجرم ٹھہرایا جائے گا۔

تین ریاستوں میں شکست کے بعداب بی جے پی صدر امت شاہ دہلی میں بوتھ انچارج کودیں گے ٹپس

بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)کے صدر امت شاہ 2019کے لوک سبھا انتخابات کی تیاری کو لے کر دہلی کے اندرا گاندھی انڈور (آئی جی آئی)اسٹیڈیم میں پارٹی کی دہلی یونٹ کے قریب 12000بوتھ انچارج کو اتوار کو انتظام کی تجاویز دیں گے۔