پی ایم مودی کے ’پیکیج‘ کو موڈیز نے دکھایا ٹھینگا، راہل نے کہا ’ابھی تو حالات مزید خراب ہوں گے‘

Source: S.O. News Service | Published on 2nd June 2020, 8:51 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،2؍جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) پہلے سے ہی سست پڑی ہندوستانی معیشت کو کورونا کے قہر نے پوری طرح سے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ مودی حکومت نے معیشت کو رفتار دینے کے لیے 20 لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ اس پیکیج کا باجہ پورے پانچ دن تک میڈیا میں بجتا رہا۔ وزیر مالیات لگاتار پانچ دن تک پریس کانفرنس کر کے میڈیا کو پیکیج کی تفصیل بتاتی رہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ اس پیکیج کا ملک کی معیشت پر کوئی مثبت اثر نہیں پڑ رہا ہے۔ دراصل ریٹنگ ایجنسی 'موڈیز' نے مودی حکومت کے پیکیج کو ہندوستان کی معیشت کو رفتار دینے میں ناکام بتایا ہے۔ اتنا ہی نہیں، ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے ہندوستان کی ریٹنگ میں بڑی گراوٹ کر دی ہے۔

کورونا سے نمٹنے کے لیے نافذ ہوئے طویل لاک ڈاؤن، بڑھتے قرض اور کاروباری ماحول میں بحران کو وجہ بتاتے ہوئے ایجنسی نے ہندوستان کی ریٹنگ میں کٹوتی کی ہے۔ ہندوستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو اب Baa2 سے گھٹا کر Baa3 کر دیا گیا ہے۔ موڈیز نے کہا کہ اس کی وجہ سیدھے طور پر کورونا وبا نہیں ہے، لیکن اس کی وجہ سے مشکلیں بڑھی ہیں اور ہندوستان کی کریڈٹ پروفائل میں کٹوتی کرنی پڑی ہے۔ Baa3 کا مطلب سب سے کم انویسٹمنٹ گروتھ یا انویسٹمنٹ کے لیے سب سے ذیلی سطح کی ریٹنگ ہے۔

بی اے اے 3 سب سے ذیلی انویسٹمنٹ گریڈ والی ریٹنگ ہے اور اس کے نیچے کباڑ والی ریٹنگ ہی بچتی ہے۔ ایجنسی نے کہا ہے کہ موڈیز نے ہندوستان کی مقامی کرنسی بغیر گارنٹی والی ریٹنگ کو بھی بی اے اے 2 سے گھٹا کر بی اے اے 3 کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جز وقتی مقامی کرنسی ریٹنگ کو بھی پی-2 سے گھٹا کر پی-3 پر لا دیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی کا رد عمل سامنے آیا ہے اور انھوں نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت گرتی معیشت کو سنبھالنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے اور حالات مزید خستہ ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ "موڈیز نے مودی کے ذریعہ ہندوستانی معیشت کو سنبھالنے کو کباڑ (جنک) والی ریٹنگ سے ایک قدم اوپر رکھا ہے۔ غریبوں اور ایم ایس ایم ای سیکٹر کو حمایت کی کمی کا مطلب ہے کہ ابھی حالات مزید خراب ہونے والے ہیں۔"

واضح رہے کہ 20-2019 کی آخری سہ ماہی میں ہندوستان کی جی ڈی پی شرح ترقی محض 3.1 فیصد ہی رہی ہے، جو گزشتہ 8 سالوں میں سب سے کم ہے۔ موڈیز نے موجودہ مالی سال میں بھی جی ڈی پی میں 4 فیصد کی گراوٹ کی بات کہی ہے۔ موڈیز کا کہنا ہے کہ مارچ سے لے کر مئی تک لاک ڈاؤن جاری رہنے کے سبب یہ حالات پیدا ہوئے ہیں۔ موڈیز سے پہلے فچ اور اسٹینڈرڈ اینڈ پور نے بھی ہندوستان کی ریٹنگ میں کمی کی ہے اور اسے بی بی بی کر دیا ہے۔

اس درمیان انڈیا ریٹنگ کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے پیکیج سے معیشت کو رفتار ملنا مشکل لگ رہا ہے۔ ایجنسی کے مطابق 23-2022 سے پہلے معاشی ترقی میں اضافہ ہونے کے آثار نظر نہیں آتے۔ ایجنسی نے کہا کہ حکومت نے جو 20 لاکھ کروڑ روپے کا پیکیج جاری کیا ہے، اس میں سے 2.14 لاکھ کروڑ روپے ہی نقد کے طور پر خرچ کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی رقم کریڈٹ گارنٹی اسکیم کے طور پر ہی اعلان کیا گیا ہے، جس کا حکومت پر کوئی مالی بوجھ نہیں پڑنے والا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

معروف عالم دین اور جمعیۃ علما ہند کے نائب صدر مولانا امان اللہ قاسمی کا انتقال

 کوہ کن کے معروف عالم دین اور جمعیۃ علما ء ہند کے نائب صدر مولانا امان اللہ قاسمی نے سنیچر کے روز مختصر علالت کے بعد 84 سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔ موصوف قدیم دینی و علمی درسگاہ دار العلوم حسینیہ شری وردھن ضلع رائے گڑھ (مہاراشٹرا) کے مہتمم بھی تھے۔

’کیا چین کا ہندوستانی سرزمین پر قبضہ نہیں ہے؟ مودی جی کو بتانا چاہیے‘

 کانگریس نے کہا ہے کہ چین نے وادی گلوان میں ہندوستانی حدود میں دراندازی کی ہے اور اس کے فوجی دستے ملک کے اسٹریٹجک نقطہ نظر سے متعدد اہم علاقوں میں تعینات ہیں، اس لیے اب وزیر اعظم نریندر مودی کو یہ بتانا چاہiے کہ کیا چین کا ہندوستانی سرزمین پر قبضہ نہیں ہے۔