شہریت ترمیمی بل: لوک سبھا میں امت شاہ کے جھوٹے دعووں پر مورخین نے اٹھائی انگلی

Source: S.O. News Service | Published on 10th December 2019, 8:47 PM | ملکی خبریں |

ممبئی،10/دسمبر(ایس او نیوز/ایجنسی) شہریت ترمیمی بل کو لوک سبھا میں بھلے ہی منظوری مل گئی ہو، لیکن اصل امتحان راجیہ سبھا میں ہونا ہے۔ ممکن ہے یہ بل بدھ کے روز راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے۔ اس درمیان مرکزی وزیر داخلہ کے لوک سبھا میں دیے گئے اس بیان پر ہنگامہ برپا ہو گیا ہے جس میں انھوں نے کانگریس پر الزام عائد کیا کہ اس نے مذہب کی بنیاد پر ملک کو تقسیم کیا۔ جب امت شاہ نے لوک سبھا میں یہ بیان دیا تھا تو انھیں ایوان میں بھی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور اب پارلیمنٹ سے باہر مورخین نے ان کے بیان پر انگشت نمائی کی ہے۔

تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے رام چندر گہا نے ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے 1943 میں ساورکر کا حوالہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جناح کے دو قومی نظریہ کے ساتھ میرا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ ہم ہندو اپنے آپ میں ایک قوم ہیں اور یہ ایک تاریخی سچائی ہے کہ ہندو اور مسلمان دو قوم ہیں۔‘‘

اس سے قبل لال کرشن اڈوانی کے نزدیکی تصور کیے جانے والے مورخ سدھیندر کلکرنی نے امت شاہ کے بیان کی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارلیمنٹ کی تاریخ میں شاید ہی کبھی کسی سینئر وزیر کو ایک سیاہ قانون کا دفاع کرنے کے لیے اس طرح سے سفید جھوٹ بولتے دیکھا گیا ہو۔

کلکرنی نے اپنے اگلے ٹوئٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’’کانگریس نے مذہب کی بنیاد پر ملک کو تقسیم نہیں کیا۔ لیکن امت شاہ نے نہ صرف تحریک آزادی کی تاریخ کو غلط بتایا ہے بلکہ اپنے سب سے بڑے اور سب سے معزز لیڈروں کی بھی بے عزتی کی ہے، جن میں مہاتما گاندھی، نہرو، پٹیل، آزاد شامل ہیں۔ انھوں نے مزید لکھا کہ ’’اب ان کو تاریخ کا سبق کون پڑھائے گا کہ کانگریس نے مذہب کی بنیاد پر ملک کو تقسیم نہیں کیا؟ ایک سفید جھوٹ کا سہارا لے کر حکومت شہریت ترمیمی بل کو پاس کرنے جا رہی ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ امت شاہ کے بیان پر لوک سبھا میں کانگریس رکن منیش تیواری نے حیرانی ظاہر کی تھی اور انھیں بتایا تھا کہ دو ملکی نظریہ ساورکر نے دیا تھا۔ منیش تیواری نے مزید کہا تھا کہ ’’پہلی بار احمد آباد میں 1935 میں ویر ساورکر نے دو ملکی نظریہ کا اصول پیش کیا تھا۔ ہندو مہاسبھا کے اجلاس میں انھوں نے یہ بات کہی تھی۔ حکومت جانتی ہے کہ یہ قانون کیوں لایا جا رہا ہے، ہم جانتے ہیں کہ یہ قانون کیوں لایا جا رہا ہے، عوام جانتی ہے کہ یہ قانون کیوں لایا جا رہا ہے۔‘‘

ایک انگریزی اخبار نے بھی آر ایس ایس مفکر ونایک دامودر ساورکر کے 1923 میں تحریر کردہ مضمون ہندوتوا کا حوالہ دے کر بتایا ہے کہ ساورکر نے پاکستان کے بانی محمد علی جناح سے بھی کافی پہلے دو ملکی نظریہ کی پیروی کی تھی۔ یہ مضمون جناح کی طرف سے دو ملکی نظریہ پیش کرنے سے 16 سال قبل شائع ہوا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

یوم جمہوریہ کے موقع پر پس مرگ پدما وبھوشن ایوارڈ پانے والوں میں شامل ہیں اڈپی پیجاورمٹھ سوامی اور جارج فرنانڈیز

یوم جمہوریہ کے موقع پر مرکزی حکومت کی طرف سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو پدما بھوشن اور پدماوبھوشن جیسے اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ امسال جن شخصیات کو پس مرگ پدماوبھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا ہے اس میں پیجاور مٹھ کے سوامی اور سابق مرکزی وزیر ...

شاہین باغ وہ انقلاب ہے جو اب تھمنے والا نہیں ... آز:ظفر آغا

شاہین باغ اب محض ایک پتہ نہیں بلکہ ایک تاریخ ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جس کا سلسلہ 1857 سے ملتا ہے۔ جی ہاں، 1857 میں جس طرح انگریزوں کے مظالم اور ناانصافی کے خلاف بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں ایک بغاوت پھوٹ پڑی تھی، ویسے ہی نریندر مودی کے خلاف شاہین باغ سے ایک بغاوت کا نقارہ بج اٹھا ہے اور ...

دہلی کے شاہین باغ میں لاکھوں مظاہرین نے منایا پورے جوش وخروش کے ساتھ یوم جمہوریہ؛ شہریت قانون کی سخت مخالفت

شہریت قانون کی مخالفت کرنے والے احتجاجیوں نے آج 26 جنوری کے موقع پر پورے جوش و خروش کے ساتھ یوم جمہوریہ کی تقریب منائی اور لاکھوں لوگوں کی موجودگی میں  شاہین باغ میں ہی ترنگا جھنڈا لہراتے ہوئے  ملک میں نئے انقلاب  کی جھلک دکھائی۔

شہریت قانون اور این آر سی ملک کے دلتوں، غریبوں اور پسماندہ طبقہ کے خلاف ہے؛ سیتامڑھی میں انسانی زنجیر کے ذریعے احتجاج

  سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاجی مظاہرے اب شہروں سے نکل کر گاوں اور دیہاتوں میں بھی پھیل چکے ہیں اور ملک کے تقریبا ہر علاقوں سے بڑے پیمانے پر ریلیاں اور احتجاج کئے جانے کی خبریں موصول ہورہی ہیں، اسی طرح ایک خبر بہار  کےضلع سیتامڑھی کے سونبر سا بلاک کے مہولیا ...

شہریت قانون کی مخالفت میں اب شیموگہ میں نظر آرہا ہے شاہین باغ ؛26 جنوری کی رات کو پبلک پارک میں عورتوں کا جم غفیر!

جیسے جیسے شہریت قانون کی مخالفت میں اُٹھنے والی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ اُتنی ہی تیزی کے ساتھ اُبھرتی نظر آرہی ہے، اب تازہ خبر ریاست کرناٹک کے شہر شموگہ سے سامنے آئی ہے جہاں 25 جنوری کی شام سے ہی  آر ایم نگر میں موجود پبلک پارک میں خواتین کی بھیڑ جمع ہونی شروع ...

جدوجہد کرنے والے نوجوان گاندھی جی کے عدم تشدد کے پیغام کو ہمیشہ یاد رکھیں: صدر جمہوریہ رامناتھ کووند کا قوم کو پیغام

صدر جمہوریہ رامناتھ کووند نے جمہوریت کے لئے حکمراں اور اپوزیشن دونوں فریقوں کو اہم قرار دیتے ہوئے عوام خاص طورپر نوجوانوں کو بابائے قوم مہاتما گاندھی کے عدم تشددے کے منتر کو ہمیشہ یاد رکھنے کی تلقین کی۔