شاہین باغ: مظاہرین اور مذاکرات کاروں کی بات چیت بے نتیجہ،شہریت قانون واپس لینے تک ڈٹے رہنے کا عزم

Source: S.O. News Service | Published on 20th February 2020, 11:26 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،20/فروری(ایس او نیوز/ایجنسی) شاہین باغ میں گزشتہ68 دنوں سے شہریت ترمیمی قانون، این آر سی و این پی آر کے خلاف جاری عالمی شہرت حاصل کر چکے دھرنا و مظاہرہ میں 19فروری کا دن بہت خاص رہا کیونکہ سپریم کورٹ کے ذریعہ مقرر کردہ مذاکرہ کار سنجے ہیگڈے اور سادھنا رام چندرن بات چیت کرنے پہنچے- سب سے پہلے وکیل سنجے ہیگڈے نے سپریم کورٹ کے حکم کو انگریزی میں پڑھ کر مظاہرین کو سنایا اور اس کے بعد وکیل سادھنا رام چندرن نے اس کا ہندی میں مطلب اختصار کے ساتھ سمجھایا- سادھنا نے لوگوں سے کہا کہ سپریم کورٹ نے سب سے بڑی جو بات کہی ہے وہ یہ ہے کہ مظاہرہ کرنا ان کا حق ہے اور یہ حق ان سے چھینا نہیں جائے گا- لیکن ساتھ ہی سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ سڑک بند ہونے سے جو پریشانیاں دوسرے لوگوں کو ہو رہی ہیں، اس کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے تاکہ دوسروں کے حقوق بھی نہ چھینے جا سکیں -سادھنا رام چندرن نے لوگوں سے بات چیت کا سلسلہ شروع کرنے سے پہلے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہر طرح کی بات کرنے کے لیے تیار ہیں اور بات چیت سے ہی ہم ایسا حل نکالیں گے جو دنیا کے لیے مثال بنے گا- انھوں نے مزید کہا کہ مظاہرین کے ساتھ ان کی جو بات چیت ہوگی اس میں میڈیا کے لوگ موجود نہ ہوں - لیکن مظاہرہ میں شامل کئی لوگوں نے اس بات پر اعتراض کیا اور کہا کہ وہ میڈیا کے سامنے بات چیت کرنا چاہتے ہیں - پھر یہ یقین دلائے جانے کے بعد کہ میڈیا کو وہ بعد میں تفصیل بتا دیں گی، میڈیا اہلکاروں کو اس ٹینٹ سے دور کر دیا گیا جہاں خواتین بڑی تعداد میں موجود تھیں -بعد ازاں مذاکرہ کاروں نے مظاہرین سے بات چیت کا سلسلہ شروع کیا- وہاں موجود شاہین باغ کی ایک ”دادی“نے اپنی بات سادھنا رام چندرن کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے حق کی لڑائی لڑتے ہوئے صرف ایک روڈ بند کیا ہے- باقی روڈ پولیس والوں نے بند کئے ہیں، تو ان سے سوال کیوں نہیں کیا جاتا؟ایک دیگر خاتون نے کہا کہ ہم یہاں آئین کی حفاظت کے لیے بیٹھے ہیں اور جب تک سی اے اے واپس نہیں لے لیا جاتا، ہم اپنا مظاہرہ ختم نہیں کریں گے- مظاہرین بار بار پی ایم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے اور عوام کے مسائل سے منھ پھیرنے کی بات سنجے ہیگڈے اور سادھنا رام چندرن سے کہتے ہوئے نظر آئے- مظاہرہ میں شامل ایک شخص نے جامعہ کے طلبا کے خلاف دہلی پولیس کی کارروائی اور جامعہ و شاہین باغ مظاہرہ میں ہوئی فائرنگ کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ ان سب کے خلاف اب تک کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوئی- مظاہرہ میں شامل ایک خاتون نے کہا کہ ہم نے جب انگریزوں کو نکال باہر کیا تو پھر یہ (مودی- شاہ) کون ہیں، ہم انھیں بھی اقتدار سے باہر کا راستہ دکھائیں گے- ایک بزرگ خاتون نے سادھنا رام چندرن سے کہا کہ ”روڈ بلاک ہونا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے جتنا بڑا مسئلہ سی اے اے نافذ ہونے کے بعد ہم لوگوں کے سامنے کھڑا ہو گیا ہے-“مظاہرہ میں شامل ایک خاتون نے مذاکرہ کاروں کے سامنے مظاہرین کے مسائل رکھے اور کہا کہ جس مشکل حالات میں خواتین یہاں بیٹھی ہیں، اس کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے- لیکن سبھی خواتین اپنے حق کی لڑائی لڑ رہی ہیں اور وہ پیچھے ہٹنے والی نہیں - ایک خاتون نے کہا کہ ہم یہاں سرد راتوں میں بیٹھے رہے، کوئی سننے نہیں آیا ہے- دو مہینے سے گھر چھوڑ کر بچوں کے ساتھ عورتیں ہر وقت بیٹھی رہتی ہیں، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں - اب کوشش ہو رہی ہے کہ اس مظاہرہ کو ختم کیا جائے تاکہ شاہین باغ کی طرح دوسری ریاستوں میں جو مظاہرے شروع ہوئے ہیں، انھیں بھی ختم کیا جا سکے- لیکن ہم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک مودی حکومت سی اے اے واپس لینے کا وعدہ نہ کرے-

ایک نظر اس پر بھی

کورونا وائرس کے مشتبہ افراد کی زیادہ سے زیادہ تشخیص ضروری: سیتا رام یچوری

 مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری نے کورونا وائرس (کووڈ -19) سے لڑنے کے لئے حکومت کے سامنے سات سوال اٹھاتے ہوئے کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کی زیادہ سے زیادہ جانچ کرانے پر زور دیا ہے تاکہ ہم بروقت اس کا حل نکال سکیں۔