کشمیر: ہڑتال اور پابندیوں کا 68واں دن، جامع مسجد سری نگر میں دسویں جمعہ بھی نماز ادا نہیں ہو سکی

Source: S.O. News Service | Published on 12th October 2019, 11:23 AM | ملکی خبریں |

سری نگر،12؍اکتوبر (ایس او نیوز؍ یو این آئی)  وادی کشمیر میں جمعہ کے روز جہاں 5 اگست کو شروع ہونے والی ہڑتال 68 ویں دن میں داخل ہوگئی وہیں گرمائی دارالحکومت سری نگر کے نوہٹہ میں واقع تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں مسلسل دسویں جمعہ کو بھی نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

زائد از 600 سال قدیم یہ مسجد جو کشمیر کی سب سے بڑی عبادت گاہ ہے، 5 اگست جس دن مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر کو آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات منسوخ کئے اور ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام والے علاقوں میں منقسم کیا، سے بدستور مقفل ہے اور اس کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اہلکار تعینات ہیں جو کسی بھی شہری یا صحافی کو جامع مسجد کے نزدیک جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق جو جامع مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیتے تھے، کو اپنی رہائش گاہ میں نظر بند رکھا گیا ہے۔ انہیں گزشتہ ماہ پولیس تھانے سے رہا کرکے نگین میں واقع اپنی رہائش گاہ میں نظر بند رکھا گیا جہاں ان کو باہر آنے سے روکنے کے لئے ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات رکھے گئے ہیں۔

دریں اثنا وادی میں غیر اعلانیہ ہڑتال کا سلسلہ جمعہ کو 68 روز بھی جاری رہا۔ جمعہ کو سری نگر کے پائین شہر کے چند حصوں میں لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر معمولی نوعیت کی سیکورٹی پابندیاں عائد رہیں۔ دیگر 9 اضلاع کے قصبہ جات میں دفعہ 144 کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔ نیز وادی بھر میں سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری بدستور تعینات ہے۔

اس دوران ریاستی حکومت کی طرف سے جاری ایک اشتہار جمعہ کو سری نگر سے نکلنے والے چند انگریزی روزناموں میں شائع ہوا جس میں لوگوں کو اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں بحال کرنے کی تاکید کی گئی۔ اشتہار میں کہا گیا کہ دکانیں بند رکھنے اور پبلک ٹرانسپورٹ بند رکھنے سے اہلیان کشمیر کو نقصان کے سوا اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق کشمیر کے سبھی دس اضلاع میں جمعہ کو مسلسل 68 ویں دن بھی دکانیں اور دیگر تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا۔ تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کا عمل معطل رہا اور سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری معمول سے کم دیکھی گئی۔ تاہم جمعہ کو بھی سری نگر کے سول لائنز اور اضلاع کو سری نگر کے ساتھ جوڑنے والی سڑکوں پر نجی گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔ اس کے علاوہ سول لائنز اور بالائی شہر میں صبح کے وقت دکانیں و دیگر تجارتی مراکز کھلے نظر آئے۔
جمعہ کو نماز کی ادائیگی کے بعد کچھ جگہوں پر مقامی لوگوں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں جس دوران فورسز نے پتھرائو کے مرتکب احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغے۔ جھڑپوں کے دوران کتنے افراد زخمی ہوئے یہ فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکا۔

یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے جمعہ کی صبح سری نگر کے ڈاون ٹاون کا دورہ کیا نے بتایا کہ ڈاون ٹاون میں لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر معمولی نوعیت کی سیکورٹی پابندیاں عائد ہیں اور کچھ سڑکوں پر خاردار تار بچھی ہوئی ہے۔ پابندیوں کو سختی سے نافذ کرنے اور پتھرائو کے واقعات سے نمٹنے کے لئے ڈاون ٹاون میں بھاری تعداد میں سیکورٹی فورسز اہلکار تعینات رکھے گئے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ وادی میں پانچ اگست کے بعد سے وادی کشمیر میں معمول کی زندگی متاثر ہے۔ ہر طرح کی انٹرنیٹ اور موبائل فون خدمات بدستور منقطع ہیں۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ پڑوسی ملک پاکستان کشمیر میں فون اور انٹرنیٹ خدمات کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کرتا ہے۔ تاہم ایک رپورٹ میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وادی میں آئندہ ایک یا دو دن میں پوسٹ پیڈ موبائل فون کالنگ خدمات بحال ہوسکتی ہیں۔ وہیں براڈ بینڈ اور موبائل انٹرنیٹ کی بحالی سے متعلق کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔

سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ احتیاط کے طور پر سری نگر کے پائین شہر کے کچھ حصوں میں پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ وادی کے کچھ قصبہ جات میں بھی دفعہ 144 کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جمعہ کی صبح نافذ کی گئی پابندیاں ہفتہ کی علی الصبح تک ہٹائی جائیں گی۔

وادی میں جموں خطہ کے بانہال اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے درمیان چلنے والی ریل خدمات بھی 5 اگست سے لگاتار معطل ہیں۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ سروسز مقامی پولیس و سول انتظامیہ کی ہدایت پر معطل رکھی گئی ہیں اور مقامی انتظامیہ سے گرین سگنل ملتے ہی بحال کی جائیں گی۔

وادی بھر کے تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کی سرگرمیاں گزشتہ زائد از دو ماہ سے ٹھپ ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے جو تعلیمی ادارے کھولے گئے ہیں ان میں طلباء کی حاضری صفر کے برابر ہے۔ اگرچہ سرکاری دفاتر کھلے ہیں تاہم ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان میں ملازمین کی حاضری کم دیکھی جارہی ہے۔ لوگ بھی دفاتر کا رخ نہیں کرپاتے ہیں۔

وادی میں بی جے پی کو چھوڑ کر تمام سیاسی جماعتوں کے درجنوں لیڈروں کو نظر بند رکھا گیا ہے۔ تاہم حکومت نے ان کی رہائی کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور چند روز قبل علاقائی جماعتوں سے وابستہ تین لیڈران کو رہا کیا گیا۔ نیشنل کانفرنس صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق کیا گیا ہے۔ انہیں اپنے ہی گھر میں بند رکھا گیا ہے۔ علاحدگی پسند لیڈران بھی بدستور خانہ یا تھانہ نظر بند ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی