شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج، قومی پرچم کی طلب میں اضافہ

Source: S.O. News Service | Published on 13th January 2020, 9:06 PM | ملکی خبریں |

حیدرآباد،13/جنوری (ایس او نیوز/یو این آئی) شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف حیدرآباد میں احتجاجی ریلیوں کے بعد اچانک ترنگے کی طلب میں اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ جتنے بڑے احتجاجی پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں، ہر پروگرام میں شرکاء کی بڑی تعداد قومی پرچم کے ساتھ نظر آرہی ہے جس کے پیش نظر اس کی طلب میں کافی اضافہ ہوگیا ہے اور ترنگے تیار کرنے والوں کو اس کی طلب کی تکمیل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یوم جمہوریہ بھی قریب ہے، ایسے میں ترنگے کی طلب میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ حال ہی میں شہر حیدرآباد میں ملین مارچ اور پھر ترنگا ریلی منعقد کی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں شرکا کے ہاتھوں میں ترنگے تھے۔ جمعہ کو منعقدہ ترنگاریلی میں ایک 25 فٹ چوڑا ترنگا بھی استعمال کیا گیا جو اپنی مثال آپ ہے۔

قومی شہریت قانون، این سی آر اور این پی آر کے خلاف احتجاج کے حصہ کے طور پر حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ و صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین بیرسٹر اسد الدین اویسی نے تاریخی چار مینار کے قریب قومی پرچم لہرانے کا اعلان کیا ہے جس کے لئے 10x30 فٹ کے ترنگے کی تیاری کا آرڈر دیا گیا ہے۔

شیخ عثمان پروپرائٹر ایس کے ٹریڈرس جو تمام جماعتوں کے پرچم تیار کرتے ہیں اور زیادہ ترنگے تیار کرنے والوں میں سے ایک کے طور پر ان کا شمار ہوتا ہے، نے کہا کہ جب سے شہریت ترمیمی قانون، این سی آر اور این پی آر کے خلاف احتجاجی صدائے بلند ہو رہی ہیں، تب سے ترنگے کی فروخت میں اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ مخالف شہریت ترمیمی قانون ریلی اور احتجاج کے موقع پر تقریبا ہر شخص اپنے ہاتھ میں ترنگا رکھنا چاہتا ہے۔

ان ریلیوں کے موقع پر سڑکوں پر بھی کئی افراد نے ترنگے فروخت کیے۔ انہوں نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون، این سی آر اور این پی آر کے خلاف احتجاجی ریلیوں کے پیش نظر اندرون تین ہفتے دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور آندھراپردیش میں تقریباً دس لاکھ قومی پرچموں کی فروخت ہوئی ہے۔ صرف حیدرآباد میں ہی تین لاکھ سے زائد ترنگے فروخت ہوئے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

متھرا : کرشن مندر کے لئے مسجد کے انہدام کا اعلان کرنے والے دیو مراری کے خلاف ایف آئی آر

 ایودھیا میں بابری مسجد کو شہید کرنے کے بعد فیصلہ مندر کے حق میں آنے کے بعد سے ایک طبقہ کے حوصلہ بلند نظر آ رہے ہیں اور اب ان کی نظریں ملک کی دیگر ان مساجد پر مرکوز ہیں جہاں تنازعہ کھڑا ہوتا رہا ہے۔

یوپی میں نظم و نسق کی حالت کافی خراب: مایاوتی

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے اترپردیش میں نظم ونسق پر سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں جرائم پر کنٹرول اور نظم ونسق کے معاملے میں سابقہ سماج وادی پارٹی(ایس پی) اور برسراقتدار بی جے پی میں اب کوئی فرق نہیں رہ گیا ہے۔

دبئی میں ایک سواری نے ایک شخص کو رونڈ ڈالا؛ مہلوک ایشیائی شخص کی شناخت ہنوز نہیں ہوپائی؛ پولس نے عوام سے کی تعاون کی اپیل

یہاں ایک سواری کی ٹکر میں ایک شخص ہلاک ہوگیا مگر اُس شخص کی شناخت ابھی تک معمہ بنی ہوئی ہے اور یہ کون ہے، کس ملک یا کس  شہر سے ہے کچھ پتہ نہیں چل پایا ہے۔ پولس کا کہنا ہے کہ یہ ایشیاء کے  کسی ملک سے تعلق رکھتا ہے۔