پرینکا گاندھی کے اعلان نے سیاسی جماعتوں کی نیند اڑائی

Source: S.O. News Service | Published on 20th October 2021, 11:05 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،20؍اکتوبر (ایس او نیوز؍ایجنسی)کا کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کے اترپردیش اسمبلی انتخابات میں چالیس فیصد خواتین امیدواروں کو ٹکٹ دینے کا اعلان کرنے سے بیشتر سیاسی جماعتوں کے سامنے ایک نیا چیلنج کھڑا ہوگیا ہے اور پرینکا کے اس اعلان نے ان کی نیند اڑا دی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت بیشتر سیاسی جماعتوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا اس لئے انہوں نے کانگریس کے اس فیصلے کو صرف سیاسی ڈرامہ بازی قرار دیا ہے۔

اترپردیش میں اگلے سال فروری۔مارچ میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں اور ہر سیاسی جماعت اپنی تیاریوں میں مصروف ہے۔ انتخابی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ویسے تو ریاست کی سیاست مذہب اور ذات پر مبنی ووٹوں میں تقسیم ہے اور ہر ایک سیاسی جماعت ذاتوں کو اپنے اپنے حق میں کرنے کی کوشش میں ہے لیکن کانگریس نے خواتین کیلئے چالیس فیصد سیٹیں دینے کا اعلان کرکے ریاست کی سیاسی بحث کو دوسری طرف موڑ دیا ہے۔

سی ایس ڈی ایس کے ڈائرکٹر سنجے کمار نے کہاکہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ کچھ سال میں اگر ہم دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ دس سے زیادہ ریاستوں میں خواتین رائے دہندگان کا ٹرن آوٹ مردوں کے مقابلہ میں زیادہ ہونے لگا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک دہائی پہلے تک جہاں ووٹ دینے میں خواتین ذاتی طورپر فیصلہ نہیں کرتی تھیں لیکن اب تقریباً پچاس فیصد خواتین ووٹ اپنی مرضی سے دینے لگی ہیں۔ ظاہر ہے کہ سیاسی جماعتوں کی نظر اب خواتین ووٹر کو راغب کرنے پر مرکوز ہوگئی ہے۔

بی جے پی کے ترجمان سدھانشو ترویدی کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت ہمیشہ ہی خواتین کو طاقت دینے کے حق میں رہی ہے۔ مرکزی کابینہ میں اب تک کی سب سے زیادہ گیارہ خواتین وزیر ہیں۔ اجولا یوجنا، آیوشمان یوجنا میں خواتین مرکز میں رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم کانگریس کی طرح خالی تھالی دیکر تالی نہیں بجاتے۔

سماج وادی پارٹی کا الزام ہے کہ اترپردیش میں بی جے پی حکومت کی مدت کار میں خواتین پر جرائم کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ خواتین کی عصمت دری میں اضافہ ہوا ہے۔ بہوجن سماج پارٹی کی لیڈر مایاوتی نے کانگریس کے اعلان پر تبصرہ کیا کہ ’یہ کوری ناٹک بازی ہے‘۔

خواتین امیدواروں کا حساب دیکھیں تو سال 2017کے اترپردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے 46 امیدواروں کو ٹکٹ دیئے تھے ان میں 35خواتین منتخب ہوکر آئیں۔ کانگریس کی 12خواتین امیدواورں میں سے دو، بی ایس پی میں 21میں سے دو، سماج وادی پارٹی میں 43میں سے صرف ایک اور اپنا دل میں دو امیدواروں میں سے ایک منتخب ہوکر آئیں۔

2019کے عام انتخابات میں کچھ ریاستوں میں خواتین کے ووٹ دیکھیں تو یہ سیاسی حساب سمجھنا آسان ہوجائے گا۔ سی ایس ڈی ایس کے مطابق گزشتہ عام انتخابات میں بی جے پی کو اترپردیش میں جہاں مجموعی طورپر 49فیصد ووٹ ملے تھیں جن میں خواتین کی حصہ داری 51فیصد تھی جبکہ کانگریس کو کل ملاکر چھ فیصد ووٹ ملے تھے اور پانچ فیصد خواتین نے اس پارٹی کو ووٹ دیئے۔

یعنی اب خواتین ووٹوں کو نظرانداز کرنا سیاسی جماعتوں کے لئے آسان نہیں ہوگا، ساتھ ہی 1996سے زیرالتوا خواتین ریزرویشن بل کے آگے بڑھنے کا راستہ بھی یہیں سے نکلنے کا امکان ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

ملک میں ویکسین لینے والوں کی تعداد 129 کروڑ 54 لاکھ سے متجاوز

ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ سے متاثرہ مریضوں کی تعداد کل کے مقابلہ آج بڑھ کر 8439 ہو گئی ہے جبکہ کل اسی مدت میں یہ تعداد 6822 تھی۔ صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے بدھ کو یہاں بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ-19 کے 8439 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

مودی حکومت کا تکبر اور دوستوں سے محبت، ہندوستان میں مسائل کے ذمہ دار: راہل گاندھی

پارلیمنٹ میں لگاتار کسانوں اور عوام کے حق میں آواز اٹھا رہے کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے حکومت پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ ملک کو مسائل در پیش ہیں اس کی وجہ مودی حکومت کا تکبر اور دوستوں سے محبت ہے۔ خیال رہے کہ راہل گاندھی اکثر وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ ...

مدھیہ پردیش کے مشنری اسکول میں توڑ پھوڑ معاملے میں 11 گرفتار

بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد سمیت دیگر انتہا پسند ہندو تنظیموں نے مدھیہ پردیش کے شہر ودیشا کے سینٹ جوزف کانوینٹ اسکول میں توڑ پھوڑ کی مشنری اسکول میں مبینہ طور پر تبدیلی مذہب کے معاملے میں پولیس نے 11 ملزمان کو گرفتار کیا ہے،

کانگریس پارلیمانی کمیٹی اجلاس: سونیا گاندھی مودی حکومت پر برہم، ’ارکان پارلیمنٹ کی معطلی غیرمعمولی اور ناقابل قبول‘

پارلیمنٹ کے مرکزی ہال میں کانگریس پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں کانگریس کی موجودہ صدر سونیا گاندھی، سابق صدر راہل گاندھی سمیت پارٹی کے دیگر ارکان پارلیمنٹ شامل ہوئے۔ اجلاس کے دوران شہید کسانوں، حزب اختلاف کے ارکان پارلیمنٹ کی معطلی اور مہنگائی جیسے مسائل ...