دن دھاڑے چار لوگوں کا قتل اُڈپی کی تاریخ کی سب سے وحشیانہ واردات - پورے گاوں میں سوگ کا ماحول - ظہر کی نماز کے بعد عمل میں آئی تدفین

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 13th November 2023, 4:14 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

اُڈپی 13 / نومبر (ایس او نیوز) اڈپی کے ملپے پولیس اسٹیشن حدود میں واقع تروپتی لے آوٹ پر بیک وقت ایک ہی خاندان کے چار افراد کا جو وحشیانہ قتل  انجام دیا گیا ہے ،اُڈپی کی تاریخ کی سب سے بھیانک قتل کی واردات سمجھی جا رہی ہے ۔     اس سے قبل سال 2019 میں شنکر نارائن پولیس تھانہ حدود میں ایک ذہنی طور پر غیر متوازن شخص نے اپنی بیوی اور دو بچوں کو قتل کرنے کے بعد خود کشی کی تھی ۔ اسی طرح 2019 میں ہی کوٹا منوری میں شرپسندوں نے دو نوجوانوں کا قتل کیا تھا ۔ لیکن اتوار کو نیجارو کے تروپتی لے آوٹ میں چار افراد کے قتل کو اب تک کی سب سے بھیانک واردات مانا جاتا ہے ۔ اس واردات کی وجہ سے ایک طرف مقامی طور پر پورے گاوں میں سوگ کا ماحول ہے تو دوسری طرف پورے ضلع میں خوف و دہشت کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ سماج کے ہر طبقہ کی طرف سے قاتل کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔

چاروں نعشوں کی منی پال اسپتال میں پوسٹ مارٹم کے بعد پیر بعد نماز ظہرکوڈی بینگرے جامع مسجد میں  نمازہ  جنازہ ادا کی گئی اور جامع مسجد کے قبرستان میں ہی تدفین عمل میں آئی۔  اس موقع پر مرحومہ  حسینہ کے شوہر سعودی عرب کے ریاض سے نورمحمد صبح قریب چھ بجے ہی اُڈپی پہنچ گئے ، جبکہ مرحومہ کا فرزند اسد بینگلور سے اتوار شام کو ہی اُڈپی پہنچ چکا تھا۔

پولس کے ہاتھ ابھی تک خالی:   دن دھاڑے چار لوگوں کا قتل کرکے  قاتل جتنی آسانی کے ساتھ پہلے ایک بائک سے لفٹ لے کرسنتے کٹے رکشہ اسٹینڈ پہنچا، پھر وہاں سے   غالباً بس پکڑنے کے لئے کراولی کراس پر پہنچا، سی سی  ٹی کیمرے میں قید مناظر دیکھنے سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پروفیشنل قاتل ہے اور اُڈپی کے راستوں سے بھی اچھی طرح واقف ہے۔ ویسے تو پولس  اس کو پکڑنے کی ہرممکن کوشش میں لگی ہوئی ہے، مگر  چوبیس گھنٹے گذرنے کے باوجود پولس کے ہاتھ  خالی ہیں اور قاتل کی گردن تک   نہیں  پہنچ پائے ہیں۔

    ایک مقامی شخص نذیر نیجارو نے بتایا کہ " نور محمد کے اہل خانہ کا کسی کے ساتھ کوئی جھگڑا اور تنازعہ نہیں تھا ۔ گھر کے تمام افراد بہترین اخلاق اور نرم مزاج کے حامل تھے ۔ ان لوگوں کے قتل کی وجہ سے  پورے علاقہ میں دہشت پیدا ہوئی ہے ۔" 

    اڈپی ضلع اوکوٹا کے صدر یاسین ملپے نے کہا :" چار افراد کا قتل انتہائی قابل مذمت حرکت ہے ۔ پولیس کو اس کی پوری طرح تحقیقات کرتے ہوئے مجرم کو فوراً گرفتار کرنا چاہیے اور اس خاندان کو انصاف دلانا چاہیے ۔" نور محمد فیمیلی کے ایک قریبی شخص اسلم ہائکاڈی نے کہا کہ دور دراز کے میٹرو شہروں میں اس طرح کے جرائم ہونے کی بات سننے میں آتی تھی مگر اب یہ واردات ہمارے دیہات میں پیش آئی ہے ۔ مجرم کو تلاش کرکے اسے سخت سے سخت سزا دینا چاہیے ۔"

    اسمبلی اسپیکر یو ٹی قادر نے اس واردات پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک خوفناک واردات قرار دیا ہے ۔ رائچور سے فون کے ذریعے اڈپی ضلع ایس پی  سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس کو چاہیے کہ اس واردات کو اپنے لئے ایک چیلنج سمجھے اور قاتل کو فوری طور پر گرفتار کرنے کی کارروائی کرے ۔ 

    اڈپی کے ایم ایل اے یشپال سوورنا نے کہا :" میرے حلقہ میں ایسی واردات ہوئی ہے جو کسی بھی جگہ نہیں ہونی چاہیے ۔ ایک ہی خاندان کے چار افراد کو قتل کر دیا گیا ہے ۔ دیوالی کے موقع پر پورے ماحول میں سوگ پھیل گیا ہے ۔ پولیس کو تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیتے ہوئے جلد از جلد متاثرہ خاندان کو انصاف دلانا چاہیے ۔ اس واردات کے اسباب معلوم کرکے مجرم کو سخت دلانا چاہیے ۔"

    کرناٹکا پردیش کانگریس کے جنرل سیکریٹری ایم اے غفور نے کہا " پولیس کو پوری غیر جانبداری سے اس معاملے کی تحقیقات کرنی چاہیے ۔ وزیر داخلہ کو اس واردات کی پوری جانکاری فراہم کردی گئی ہے ۔ یہ واردات پورے ضلع کے لئے ایک سیاہ داغ ہے ۔ محکمہ پولیس پر ہمیں پورا بھروسہ ہے ۔ جلد ہی مجرم کو گرفتار کیا جائے گا ۔"
    
    اڈپی ضلع اوکوٹا کے سابق صدر اور ضلع وقف مشاورتی کمیٹی کے نائب صدر ایم پی موئدینبّا نے اس واردات کی مذمت کرتے ہوئے پولیس سے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے ضلع کے  باشندوں کی حفاظت کو یقینی بنائے ۔ اسی طرح کا مطالبہ اڈپی جامعہ مسجد کی انتظامیہ کمیٹی کے علاوہ ایس ڈی پی آئی کے ضلع صدر شاہد علی نے بھی کیا ہے ۔ 

    معلوم ہوا ہے کہ ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ارون کمار کی نگرانی میں اس معاملے کی تفتیش اور قاتل کی گرفتاری کے لئے  چار تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ جلد ہی پولیس قاتل کو دبوچنے میں کامیاب ہوگی ۔ 

 اس نیوز سے منسلک  پہلے شائع رپورٹس:

اُڈپی کے ملپے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کا بہیمانہ قتل - ایک خاتون کی حالت نازک

اُڈپی میں چار لوگوں کے قتل کا معاملہ؛ زندہ بچنے والی عمر رسیدہ خاتون کی حالت قدرے مستحکم؛ کیاقاتل مینگلور سے آیا تھا ؟

Tragedy Strikes Udupi: Mother and Three Children Brutally Murdered, Shock Grips Coastal District

ಉಡುಪಿ: ನಾಲ್ಕರ ಬರ್ಬರ ಹತ್ಯೆ; ತಾಯಿ, ಮೂವರು ಮಕ್ಕಳನ್ನು ಇರಿದು ಕೊಂದ ದುಷ್ಕರ್ಮಿ; ಓರ್ವ ಮಹಿಳೆಗೆ ಗಂಭೀರ ಗಾಯ

Video reports:
Urdu : Mother and Three Children Brutally Murdered in Udupi

English: Mother and Three Children Brutally Murdered in Udupi

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں بارش سے گھروں کو پہنچے نقصانات کا جائزہ لینے تنظیم وفد کا متاثرہ علاقوں کا دورہ

   ہفتہ عشرہ سے  بھٹکل میں جاری زور دار بارش کے نتیجے میں کئی علاقوں میں مکانوں کو نقصان پہنچا ہے، جس کا جائزہ لینے آج پیر کو قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے ایک وفد نے   صدیق اسٹریٹ، نستار اور مخدوم کالونی علاقہ کا دورہ کیا اور تنظیم کی جانب سے ہرممکن تعاون کا یقین ...

انکولہ لینڈ سلائیڈ: بھٹکل اسکول ٹیمپو ڈرائیورس یونین نے پہاڑی کا ملبہ ہٹانے والے عملے میں تقسیم کیا کھانا

   انکولہ لینڈ سلائیڈ کے بعد  کیرالہ کے ارجن سمیت تین لاپتہ لوگوں  کی کھوج کرنے والے سو سے زائد  عملہ کو  آج بھٹکل اسکول ٹیمپو ڈرائیورس  یونین کی طرف سے  دوپہر کا کھانا تقسیم کیا گیا اور  کیرالہ سے خصوصی طور پر    ملبہ ہٹانے کے لئے پہنچے لوگوں کی ہمت بندھائی۔

نیشنل ہائی وے کا غیر سائنٹفک کام - این ای سی ایف نے مرکزی وزیر گڈکری کو بھیجا شکایتی مراسلہ

نیشنل ہائی وے کے مختلف مقامات پر چٹانیں اور زمین کھسکنے کے جان لیوا حادثات کے لئے شاہراہوں کے غیر سائنٹفک توسیعی کام کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے نیشنل اینوائرنمنٹ کیئر فیڈریشن (ین ای سی ایف) نے مرکزی وزیر برائے بری نقل و حمل نتین گڈکری کئی اہم سرکاری افسران کو شکایتی مراسلہ بھیجا ...

بینگلورو: دھوتی میں ملبوس کسان کو داخلہ نہ دینے کا معاملہ : حکومت نے دیا سات دن کے لئے مال بند کرنے کا حکم 

دو دن قبل بینگلورو کے ایک مال میں ایک عمر رسیدہ کسان اور اس کے اہل خانہ  کو اس وجہ سے داخلہ دینے سے انکار کیا گیا تھا کہ وہ کسان دھوتی میں ملبوس تھا ۔ اس واقعے کی ویڈیو کلپ وائرل ہونے کے بعد اس کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی تھیں اور مال کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا ۔ 

کرناٹک پرائیویٹ فرموں میں کناڈیگاس کے لیے 100فیصد کوٹہ لازمی کرنے والا بل منظور

کرناٹک کی کابینہ نے ایک بل کو منظور کیا ہے جس میں کننڈیگاس کو گروپ سی اور ڈی کے عہدوں کے لیے نجی شعبے میں 100 فیصد ریزرویشن لازمی قرار دیا گیا ہے،  وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہا۔یہ فیصلہ پیر کو ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔