’مسلمانوں میں خوف کا ماحول‘، دی اکونومسٹ نے مودی حکومت کو بنایا تنقید کا نشانہ

Source: S.O. News Service | Published on 24th January 2020, 11:16 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،24/جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) ملک کے الگ الگ حصوں میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔ مظاہرین مودی حکومت سے اس قانون کو واپس لینے کی مانگ کر رہے ہیں۔ اسی درمیان لندن سے شائع ہونے والے رسالہ ’دی ایکونومسٹ‘ کی کور اسٹوری میں شہریت قانون سمیت مختلف ایشوز کو لے کر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ مضمون میں مودی حکومت پر ملک میں الگاؤ پیدا کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

مضمون کے مطابق مودی حکومت نے شہریت ترمیمی قانون میں بدلاؤ کر کے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے مظلوم کا شکا رہو کر آنے والے لوگوں کو (جس میں ہندو، سکھ، عیسائی کے لوگ شامل ہیں) شہریت دینے کا اعلان کیا، لیکن اس قانون میں مظلوم مسلمانوں کو شامل نہیں کیا ہے اور اسی لیے پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔

مضمون کے ایک حصے میں لکھا گیا ہے کہ بی جے پی حکومت سبھی ہندوستانیوں کے لیے ایک رجسٹر بنانا چاہتی ہے، جس میں 1.3 ارب ہندوستانیوں کے ڈاٹا کو شامل کیا جائے گا اور غیر قانونی پناہ گزینوں کی شناخت کی جائے گی۔ لیکن ملک میں حالات یہ ہے کہ 20 کروڑ مسلمانوں میں سے کئی لوگوں کے پاس شہریت ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت تک نہیں ہے، ان کے پاس کوئی کاغذ نہیں ہے۔ اس حالت کو لے کر ملک کے مسلمان خوفزدہ ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ وہ ملک سے باہر کر دیے جائیں گے۔ ’دی اکونومسٹ‘ کے مضمون میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حکومت نے ڈٹینشن کیمپ بنانے کا حکم دے دیا ہے جس سے مسلمانوں میں مزید خوف ہے۔

مضمون میں مودی حکومت پر ہندوستانی آئین کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مودی حکومت آئین میں موجود ضابطوں کو کمزور کر رہی ہے اور اس کا اثر دہائیوں تک ملک پر دیکھنے کو ملے گا۔ ’دی اکونومسٹ‘ کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس طرح کے قدم سے ملک میں تشدد بھی برپا ہو سکتا ہے لیکن مذہب اور قومی شناخت کی بنیاد پر تفریق پیدا کرنے سے بی جے پی حکومت کو فائدہ مل سکتا ہے۔

شائع مضمون میں یہ بات بھی واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ شہریت قانون اور این آر سی جیسے اقدام سے ملک کے لوگوں کا دیگر ایشوز، مثلاً معیشت اور بے روزگاری سے دھیان بھی ہٹائے جانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ مضمون میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ لوگوں کے ذہن میں خوف بیٹھا کر مودی حکومت اقتدار پر قابض رہنا چاہتی ہے۔ قابل غور بات یہ بھی ہے کہ مضمون میں مہاتما گاندھی کے اصولوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ پی ایم مودی ان کے اصولوں کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

تبلیغی جماعت کا ’ٹائمز آف انڈیا‘ کو ہتک عزت کا نوٹس، بے بنیاد خبریں شائع کرنے کی پاداش میں معافی مانگنے اور ایک کروڑ ہر جانہ ادا کرنے کا مطالبہ 

تبلیغی جماعت سے منسلک ایک رکن نے آج ٹائمز آف انڈیا گروپ کو جماعت کے بارے میں اشتعال انگیز اور بے بنیاد خبریں شائع کرنے کی پاداش میں ہتک عزت کا قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔

کرونا سے لڑنے کے بہانے ملک پر ایک خاص مذہبی عقیدے کو تھوپنے کی کوشش: ڈاکٹر شکیل احمد، سابق مرکزی وزیر نے کہا “ملک کو اس وقت مستحکم طبی نظام کی ضرورت”

کرونا بلا شبہ ایک خطرناک مہلک مرض ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں جانچ اور علاج کے مستحکم انتظام کے ساتھ مضبوط منصوبہ بندی کی ضرورت ہے

کاسرگوڈ میں کورونا وائرس کا بڑھتا ہوا قہر۔ مزید 9افراد کی جانچ رپورٹ آئی پوزیٹیو۔ مریضوں کی تعداد ہوگئی 151

کیرالہ کے کاسرگوڈ میں کورونا وائرس کاقہر ابھی تھمتا نظر نہیں آرہا ہے۔ 6اپریل کی شام تک کی جو صورتحال ہے اس کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے مزید9معاملات سامنے آئے ہیں جس کے ساتھ ضلع میں جملہ مریضوں کی تعداد 151ہوگئی ہے۔

اترپردیش: بی جے پی کی خاتون لیڈر نے کورونا کو مارنے کے لیے چلائی گولی، ایف آئی آر درج

وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اتوار کو رات 9 بجے 9 منٹ تک چراغاں کرنے کی اپیل کے دوران بعد اترپردیش کے ضلع بلرامپور میں 'دیا' جلانے کے بعد کورونا وائرس کو مارنے کے لئے ہوا میں فائرنگ کرنے والی بی جے پی کی سینئر خاتون لیڈر کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔