وکلاء عدالتی کاروائی میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتے، مؤکلوں کے مفادات کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے: سپریم کورٹ

Source: S.O. News Service | Published on 13th October 2021, 11:34 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 13 اکتوبر (آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وکلاء کی ہڑتال یا بار ایسوسی ایشن کے بائیکاٹ کی وجہ سے سماعت کیلئے عدالت میں آنے سے انکار غیر پیشہ ورانہ اور غیر مہذب ہے کیونکہ وہ عدالتی کارروائی میں رکاوٹ اور اپنے مؤکل کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ایک وکیل عدالت کا افسر ہوتا ہے جو معاشرے میں ایک خاص حیثیت رکھتا ہے۔ جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس اے ایس بوپنا نے مذکورہ بالا تبصرہ 27 ستمبر 2021 کو راجستھان ہائی کورٹ کے وکلاء کی ہڑتال کے ایک کیس کی سماعت کے دوران کیا۔بار ایسوسی ایشن اور بار کونسل کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال یا بائیکاٹ کی وجہ سے کسی وکیل کے لیے عدالتی کارروائی میں شرکت سے انکار کرنا غیر پیشہ ورانہ اور غیر مہذب ہے۔ اتناہی نہیں وکیل عدالت کا افسر ہے اور معاشرے میں اسے ایک خاص حیثیت حاصل ہے، یہ وکلاء کی ذمہ داری اور فرض ہے کہ وہ عدالتی کارروائی کو آسانی سے چلنے دیں، ان کا اپنے مؤکلوں کے ساتھ فرض بنتا ہے اور ہڑتال انصاف کے عمل کوروکتاہے۔لہذا وہ عدالت کی کارروائی میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتے اور اپنے مؤکلوں کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس نے پیگاسس کیس پرعدالت کے فیصلے کاخیرمقدم کیا

کانگریس نے بدھ کو سپریم کورٹ کے مبینہ پیگاسس جاسوسی کیس کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ’ستیہ میو جیتے۔‘‘پارٹی کے چیف ترجمان رندیپ سرجے والانے ٹویٹ کیاہے کہ بزدل فاشسٹوں کی آخری پناہ گاہ مبینہ قوم پرستی ہے۔

بی جے پی رکن اسمبلی کرشنا کلیانی بھی ترنمول کانگریس میں شامل

 بنگال بی جے پی کو دھکچے لگنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب رائے گنج سے بی جے پی کے ممبر اسمبلی کرشنا کلیانی جنہوں نے یکم اکتوبر کو بی جے پی چھوڑ دی تھی نے قیاس آرائیوں کے مطابق آج پارٹی کے سکریٹری جنرل پارتھو چٹرجی کی موجودگی میں ترنمول کانگریس میں شامل ہوگئے۔

ہندوتوا وادی مظاہرین کے ہاتھوں تریپورہ کی 16 مساجد میں توڑ پھوڑ، 3 مساجد نذر آتش

شمال مشرقی ریاست تریپورہ میں حالات دن بدن شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف ہوئے تشدد کی مذمت میں کئی دنوں سے ریاست بھر میں مظاہرے اور ریلیاں جاری تھیں، لیکن یہ ریلیاں شدت اختیار کر گئیں اور ریاست کے مسلمانوں کے خلاف متشدد ہوگئیں۔

وزیراعلی ملازمتیں فراہم کریں یا مستعفی ہوجائیں: وائی ایس شرمیلا

 وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کی سربراہ وائی ایس شرمیلا نے کہا ہے کہ ہر گھر کو ایک ملازمت یا نہیں تو بے روزگاری کا الاونس فراہم کرنے ولے وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کے وعدہ پر یقین کرتے ہوئے عوام نے ان کو اقتدار حوالے کیا، تاہم موجودہ صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ ریاست میں بے روزگاری میں ...

پیگاسس معاملہ پر مرکز کو سپریم کورٹ سے جھٹکا! تفتیشی کمیٹی کا قیام

پیگاسس معاملہ میں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو جھٹکا دیتے ہوئے کہا کہ پیگاسس معاملہ کی جانچ ہوگی، عدالت نے جانچ کے لئے ماہرین کی ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اس معاملہ میں مرکز کا رخ واضح نہیں اور رازداری کی خلاف ورزی کی تحقیقات ہونی چاہئے۔