آزاد ہندوستان کا پہلا دہشت گرد ہندو تھا: کمل ہاسن

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th May 2019, 12:11 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،14؍مئی(ایس او نیوز؍ایجنسی) معروف اداکار اور مکل ندھی میم (ایم این ایم) کے بانی کمل ہاسن نے کہا ہے کہ، آزاد ہندوستان کا پہلا دہشت گرد ہندو تھا۔ غور طلب ہے کہ کمل ہاسن نے مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کے بارے میں بات کرتے ہوئے یہ بیان دیا ہے۔ایک انتخابی جلسے کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایسے ہندوستانی ہیں جو برابری والا ہندوستان چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میں ایسا اس لیے نہیں بول رہا ہوں کہ یہ مسلم اکثریتی علاقہ ہے بلکہ میں یہ بات گاندھی کے مجسمے کے سامنے بول رہا ہوں۔ آزاد ہندوستان کا پہلا دہشت گرد ہندو تھا اور اس کا پورا نام ناتھو رام گوڈسے ہے۔ وہیں سے دہشت گردی کی شروعات ہوئی۔مہاتما گاندھی کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کمل ہاسن نے کہا کہ وہ اس قتل کا جواب تلاش کرنے آئے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ ایم این ایم چیف کمل ہاسن نے اپنی پارٹی کے امیدوار ایس موہن راج کے لیے عوامی رابطہ مہم کے دوران یہ باتیں کہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب انہوں نے اس طرح کا کوئی بیان دیا ہے، اس سے پہلے 2017 میں ہندوتوا اور اس کی شدت پسندی پر بیان دے کر بھی وہ تنازعہ میں گھر چکے ہیں۔واضح ہوکہ تمل ہفتہ وار میگزین‘آنندا وکٹن‘ میں لکھے اپنے ایک مضمون میں انہوں نے کہا تھا کہ ہندو کیمپوں میں دہشت گردی گھس چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رائٹ ونگ نے اب اپنی قوت کا مظاہرہ شروع کیا ہے۔ اب کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ہندو دہشت گردی کا وجود نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہندو رائٹ ونگ دوسری مذہبی جماعتوں سے تنازعات پر صرف علمی بحث کیا کرتے تھے، لیکن جیسے ہی یہ طریقہ ناکام ہونے لگا انہوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ہندوؤں میں طاقت کے مظاہرے کی سب اچھی مثال تملناڈو کی مذہبی تقریبات میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔دریں اثنا اس معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پیر کو الیکشن کمیشن میں کمل ہاسن کے خلاف شکایت درج کرائی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مہاتما گاندھی کے سلسلے میں ناتھورام گوڈسے کو آزاد ہندوستان کا پہلا ہندو دہشت گرد قرار دینے کی وجہ سے ان پر5دن کی پابندی لگائی جائے۔ بی جے پی رہنما اشونی اپادھیائے نے یہ شکایت درج کرائی ہے-

 

ایک نظر اس پر بھی