بنگال تشدد پر سیاست گرم۔امیت شاہ کے خلاف کیس درج کولکتہ میں ٹی ایم سی اور سی پی آئی تو دہلی میں بی جے پی کا احتجاج

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 16th May 2019, 11:06 AM | ملکی خبریں |

کولکتہ،16/مئی(پی ٹی آئی/ایس او نیوز) مغربی بنگال کے کولکتہ میں بی جے پی صدر امیت شاہ کے روڈ شو میں ہوئے تشدد کا جو ویڈیو سامنے آیا ہے اس میں صاف دیکھنے کو مل رہا ہے کہ بی جے پی کا پرچم ہاتھ میں لئے بھگوا لباس پہنے لوگ توڑ پھوڑ اور پتھراؤ کر رہے ہیں۔ اس تعلق سے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بی جے پی پر غنڈہ گردی کا الزام عائد کیا ہے۔ ترنمول کانگریس نے ویڈیو جاری کر کے الزام عائد کیا کہ روڈ شو کے دوران ہوئے پورے ہنگامہ کے پیچھے بی جے پی حامیوں کا ہاتھ تھا۔ تشدد کو لے کر امیت شاہ کے خلاف شکایت درج کرائی گئی ہے۔ یہ شکایت ودیاساگر کالج کی طالبہ سشویتا موکال نے درج کرائی ہے۔ دوسری جانب بی جے پی نے انتخابی کمیشن سے تشدد کی شکایت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ترنمول کانگریس لیڈر ڈیرک او برائن نے ٹوئٹر پر لگاتار تین ویڈیو شیئر کئے ہیں۔ ان ویڈیوز میں بی جے پی کارکنوں اور حامی خوب توڑ پھوڑ، آگ زنی اور پتھر بازی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ او برائن نے ان سبھی ویڈیوز کو ثبوت نمبر 1، 2 اور 3 لکھ کر شیئر کیا ہے۔ترنمول کانگریس لیڈر ڈیرک او برائن کی جانب سے جاری پہلے ویڈیو میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ بھگوا رنگ کی قمیص پہنے اور ہاتھ میں بی جے پی کا جھنڈا لئے کچھ لوگ پتھر پھینک رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سڑک کنارے آگ زنی کرتے ہوئے بھی نظر آ رہے ہیں۔دوسرے ویڈیو میں بھی آگ زنی کرتے ہوئے بھگوا لباس پہنے لوگ نظر آ رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں جلتی ہوئی گاڑیوں کے پاس موجود بھیڑ میں کچھ لوگ ڈنڈوں سے وہاں کھڑی دوسری گاڑیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہیں تیسرے ویڈیو میں بھیڑ کا ہنگامہ دکھایا گیا ہے۔ تینوں ویڈیو کو ڈیرک او برائن نے ثبوت کے طور پر ٹوئٹ کیا ہے۔ انھوں نے اس تشدد کے لئے بی جے پی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔دوسری طرف بی جے پی نے ترنمول کانگریس پر جوابی حملہ کرتے ہوئے ایک الگ ویڈیو ٹوئٹ کیا ہے۔ بی جے پی آئی ٹی سیل کے چیف امیت مالویہ نے ترنمول کانگریس پر امیت شاہ کے روڈ شو میں تشدد پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔اس واقعہ کے بعد مغربی بنگال اور دہلی کا سیاسی پارہ مزید گرم ہو گیا ہے۔ بی جے پی راجدھانی دہلی میں جنتر منتر پر واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہی ہے۔قابل غور ہے کہ امیت شاہ لوک سبھا انتخاب کے آخری مرحلہ میں اتوار کو ہونے والی ووٹنگ کے لئے پارٹی امیدواروں کی حمایت میں تشہیر کرنے کے لئے کولکتہ میں ہیں اور انہوں نے منگل کو یہاں ایک روڈ شو کیا۔ ان کے روڈ شو کے دوران خوب ہنگامہ ہوا۔ شاہ کے روڈ شو کے دوران یونیورسٹی کے دروازے کے سامنے اور ودیاساگر کالج کے ہاسٹل کے سامنے ترنمول کانگریس اور بی جے پی حامیوں کے درمیان پرتشدد تصادم ہوئے۔ اس دوران کالج احاطہ میں توڑ پھوڑ، آگ زنی اور پتھر بازی بھی ہوئی۔بی جے پی صدر امیت شاہ کے روڈ شو کے دوران ہوئے تشدد میں ایشورچند ودیا ساگرکی مورتی توڑنے پر ٹی ایم سی کی اسٹوڈنٹ ونگ نے چہارشنبہ کو احتجاج کیا۔اس کے علاوہ سی پی آئی (ایم) نے بھی اس کی مخالفت میں احتجاج کیا۔سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری نے کہاکہ جانچ ہونی چاہیے کہ یہ کولکتہ میں کیسے ہوا؟ دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی احتجاج کیا ہے۔امیت شاہ کے روڈ شو میں ہوئے تشدد کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں نے دہلی میں مظاہرہ کیا۔اس دوران مرکزی وزیر ہرش وردھن، جتیندر سنگھ اور وجے احتجاج کے دوران میں موجود تھے۔بی جے پی لیڈروں نے انگلی منہ پر رکھی ہوئی تھی اور ہاتھ میں بینر پکڑے ہوئے تھے۔ان بینرز پر لکھا تھاکہ بنگال بچاؤ، جمہوریت بچاؤ۔ معروف ہستی ایشورچندر ودیاساگرکے مجسمہ کو توڑے جانے کی مخالفت میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس کے کئی قدآورلیڈروں نے چہارشنبہ کو اپنے اپنے فیس بک اور ٹویٹر اکاؤنٹ پر اس کو شیئر کیا۔ سوشیل نیٹ ورکنگ فورم ٹویٹر اور فیس بک پر ترنمول کانگریس کے سرکاری پروفائل ڈی پی کو بدل کر ان کی جگہ ایشورچندر ودیاساگر کی تصویر لگائی گئی ہے۔شمالی کولکتہ میں منگل کو بی جے پی کارکنوں کی طرف سے مورتی توڑے جانے کی مخالفت میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ایک احتجاجی ریلی نکالی۔بی جے پی صدر امیت شاہ پر حملہ کرتے ہوئے بنرجی نے کہا تھاکہ امیت شاہ خود کو کیا سمجھتے ہیں؟ کیا وہ سب سے بڑھ کر ہیں؟ کیا وہ ایشورہیں کہ ان کی کوئی مخالفت نہیں کر سکتا؟وزیرا عظم مودی کو”ایکسپائری وزیرا عظم“ قراردیتے ہوئے ترنمول کانگریس کے قومی ترجمان ڈیریک اوبرائن نے کہا ہے کہ امیت شاہ نے آج جو کچھ پریس کانفرنس میں کہا ہے اس سے ثابت ہوگیا ہے وہ مکمل طور پر جھوٹے ہیں۔اوبرائن نے کہا کہ ترنمول کانگریس کے قیام کو 21سال مکمل ہوچکے ہیں اور میں 16سالوں سے پارٹی کا ترجمان ہوں، مگرآج کا دن بہت ہی افسوس ناک دن ہے۔آج کے دن ہم لوگ نہ صرف غصے میں ہیں،بلکہ کل شام جو کچھ ہوا اس سے دکھی ہیں۔کل جو کچھ ہوا وہ افسوس ناک تھا۔امیت شاہ کے روڈ شو میں باہر سے لوگ لائے گئے تھے۔طلباء پر امن ماحول میں احتجاج کررہے تھے۔مگر بی جے پی والوں نے پورے کالج میں ہنگامہ کردیا۔زعفرانی کپڑے میں ملبوس بی جے پی ورکروں نے ودیا ساگر جیسی عظیم شخصیت کے مجسمے کو توڑدیا۔ اوبرائن نے کہا کہ مگر ہمیں امید ہے کہ بنگال کے عوام مودی اور بی جے پی کو وہی سبق سکھلائیں گے جو 2002کے گجرات فسادات کے بعد دکھلایا تھا۔اوبرئن نے کہا کہ یہی فرق ہے۔ممتا بنرجی کو مودی اسپیڈ بریکر کہہ کر بلاتے ہیں یقینا وہ اسپیڈبریکر ہیں اور آپ کے اقتدار کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔پہلے بھی ممتا بنرجی اسپیڈ بریک کیا تھا اور اب بھی انہیں وزیراعظم نہیں بننے دیں گے۔دوسری جانب الیکشن کمیشن سے ملاقات کرنے کے بعد ترنمول کانگریس کے لیڈر شوکھندو شیکھر رائے نے کہا کہ ترنمول کانگریس نے الیکشن کمیشن کو ویڈیو بطور ثبوت پیش کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کل امیت شاہ کے روڈ شو کے دوران ہنگامہ آرائی کیلئے کون ذمہ دار ہے۔بی جے پی نے ایک خاص مقصد کے تحت ہنگامہ آرائی کی ہے۔پہلے سے ہی بی جے پی ورکروں کو ہتھیار لے کر آنے کو کہا گیا تھا۔بی جے پی کے کئی لیڈراس میں ملوث تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

سیلاب اور بارش سے کیرالہ، کرناٹک، مہاراشٹر وغیرہ بے حال، اَب دہلی پر منڈلایا خطرہ

ہریانہ کے ہتھنی كنڈ بیراج سے گزشتہ 40 برسوں میں سب سے زیادہ آٹھ لاکھ سے زیادہ کیوسک پانی جمنا میں چھوڑے جانے کے بعد دہلی اور ہریانہ میں دریاکے کنارے کے آس پاس کے علاقوں میں سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور اگلے 24 گھنٹے انتہائی سنگین بتائے جا رہے ہیں۔