ایمس انتظامیہ کی لاپروائی، مُسلم خاتون کا ’انتم سنسکار‘، اہل خانہ نے کی پولیس سے شکایت

Source: S.O. News Service | Published on 8th July 2020, 9:54 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،8؍جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں کی گئی ایک بڑی لاپروائی نے کورونا وائرس کی مار برداشت کر رہے دو خاندانوں کا دکھ دوبالا کر دیا ہے۔ ایمس کے ٹراما سینٹر میں کورونا انفیکشن کی وجہ سے فوت ہونے والی دو خواتین کی لاشوں کو غلط خاندانوں کو دے دیا گیا۔ یعنی ان دونوں خواتین میں جو خاتون مسلمان تھی اسے ہندو خاندان کو دے دیا گیا اور جو ہندو تھی اسے مسلم خاندان کے حوالے کر دیا گیا۔

فوت ہونے والی مسلم خاتون بریلی کی رہائشی تھی اور اس کا نام انجمن تھا۔ انجمن کو چار جولائی کو ایمس کے ٹراما سینٹر میں داخل کرایا گیا تھا۔ ٹیسٹ رپورٹ آنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ کورونا انفیکشن میں مبتلا ہیں۔ اس کے بعد 6 جولائی کو رات 11 بجے اس کا انتقال ہو گیا۔ اسپتال کی جانب سے اہل خانہ کو اطلاع دیر رات 2 بجے دی گئی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اہل خانہ کو لاش تبدیل ہونے کے بارے میں اس وقت پتہ چلا جب خاتوں کے اہل خانہ ایمس کے ٹراما سینٹر سے لاش لے کر گھر پہنچے اور تدفین کی تیاری کرنے لگے۔ آخری دیدار کے لئے اہل خانہ نے جب مرحومہ کا چہرہ دیکھا تو ان کے ہوش اڑ گئے، کیونکہ اسپتال نے انہیں کسی دوسری خاتون کی لاش دے دی۔

اہل خانہ نے اس کی اطلاع ایمس ٹراما سینٹر کو دی۔ اسپتال انتظامیہ نے جانچ کرنے کے بعد بتایا کہ مسلم خاتون کی لاش کو کسی ہندو خاندان کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ مسلم خاندان کو یہ جان کر اس وقت شدید جھٹکا لگا کہ ہندو خاندان نے انجمن کی لاش کو چتا پر رکھ کر نذر آتش کر دیا تھا۔ اتنی بڑی لاپروائی کی شکایت مسلم خاندان کی طرف سے دہلی پولیس میں کی گئی ہے جبکہ ایمس انتظامیہ نے اسے غلطی مانتے ہوئے محض سسٹم کو درست کرنے کی بات کہی ہے۔

انجمن کے بھائی شریف خان کا کہنا ہے کہ ’’انجمن کے خاندان پر اس وقت دکھوں کا پہاڑ ٹوٹ گیا ہے۔ چھ مہینے پہلے ہی ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا تھا اور انہوں نے اپنے پیچھے تین چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑے ہیں۔ اسپتال کی لاپروائی کی وجہ سے معصوم بچوں کو آخری وقت اپنی امی کا چہرہ دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوا۔ معصوموں کی آنکھوں میں جو آنسو ہیں اس کے لئے ایمس انتظامیہ ذمہ دار ہے۔‘‘

اس لاپروائی کے حوالہ سے اہل خانہ کا الزام ہے کہ جب انہوں نے ایمس انتظامیہ سے بات کرنی چاہی تو وہاں موجود سیکورٹی گارڈ اور باؤنسر نے نہیں دھمکایا۔ ایسے میں انہوں نے پولیس چوکی میں اپنی شکایت درج کرائی۔ ادھر جب ایمس انتظامیہ سے میڈیا نے بات کی تو انہوں نے وضاحت پیش کی اور اسے محض سسٹم کی غلطی مان کر اس میں سدھار کرنے کو کہا۔

ایک نظر اس پر بھی

بے لگام میڈیا پر جمعیۃ کی عرضی: جب تک عدالت حکم نہیں دیتی حکومت خود سے کچھ نہیں کرتی: چیف جسٹس

مسلسل زہر افشانی کرکے اور جھوٹی خبریں چلاکر مسلمانوں کی شبیہ کوداغدار اور ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوارکھڑی کرنے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں کے خلاف داخل کی گئی

دہلی فسادات: پروفیسر اپوروانند کی حمایت میں سامنے آئے ملک و بیرون ملک کے دانشوران

 ملک اور بیرون ملک کے ایک ہزار سے زائد معروف دانشوروں، نوکر شاہوں، صحافیوں، مصنفوں، ٹیچروں او اسٹوڈنٹس نے دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند سے مشرقی دہلی میں فسادات کے معاملے میں پوچھ گچھ کئے جانے اور انکا موبائل فون ضبط کرنے کے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور پولیس کے ذریعہ ...

کالعدم چینی کمپنیوں سے بی جے پی کے گہرے رشتے ہیں: کانگریس

 کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے قومی سلامتی کے لیے خطرہ بتاتے ہوئے جن چینی کمپنیوں پر پابندی لگائی ہے ان میں سے کئی کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے گہرے رشتے ہیں اور گزشتہ عام انتخابات میں ان کمپنیوں نے اس کے لیے تشہیری مہم کا کام کیا تھا۔

ریا چکرورتی کا سوشانت کے ساتھ جڑنے کا واحد مقصد ان کی جائیداد ہڑپنا تھا: بہار پولیس کا حلف نامہ

 بہار پولیس نے اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی مبینہ خودکشی کے معاملے میں سپریم کورٹ میں دائر حلف نامے میں کہا کہ کلیدی ملزمہ ریا چکرورتی اور اس کے اہل خانہ کا اداکار کے ساتھ جڑنے کا واحد مقصد اس کی جائیداد ہڑپنا تھا۔