بھومی پوجن سے قبل اویسی نے ٹوئٹ کر کہا ’بابری مسجد تھی، ہے اور رہے گی‘

Source: S.O. News Service | Published on 5th August 2020, 12:08 PM | ملکی خبریں |

لکھنؤ، 5؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) ایودھیا میں رام مندر تعمیر کے لیے آج بھومی پوجن کو لے کر جشن کا ماحول ہے۔ پی ایم نریندر مودی اپنے ہاتھوں سے سنگ بنیاد رکھنے والے ہیں۔ اس سے قبل آج صبح آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے ”بابری مسجد تھی، ہے اور رہے گی۔ انشاء اللہ۔“ اس کے ساتھ ہی انھوں نے دو تصویریں بھی شیئر کی ہیں جن میں سے ایک عالیشان بابری مسجد کی پرانی تصویر ہے اور دوسری تصویر بابری مسجد کے انہدام کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اسدالدین اویسی سپریم کورٹ کے ذریعہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کیے جانے کا فیصلہ دیے جانے کے بعد سے ہی ناراض ہیں اور انھوں نے اپنے کئی بیانوں میں ناراضگی کا اظہار بھی کیا ہے۔ اب جب کہ بھومی پوجن کا وقت قریب آ گیا ہے، انھوں نے ایک بار پھر ٹوئٹ کے ذریعہ اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے بتانے کی کوشش کی ہے کہ ایک جگہ جب مسجد بن جاتی ہے تو وہ ہمیشہ مسجد ہی رہتی ہے۔ اسی لیے انھوں نے ٹوئٹ میں صاف لفظوں میں لکھا ہے "بابری مسجد تھی، ہے اور رہے گی۔"

بہر حال، رام مندر تعمیر کی تیاریوں کے درمیان یوگ گرو بابا رام دیو کا بھی ایک بیان سامنے آیا ہے۔ انھوں نے آج صبح ہنومان گڑھی مندر میں پوجا کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ ”ہنومان جی سے بس یہی آشیرواد مانگنے آئے ہیں کہ بغیر کسی رخنہ کے رام مندر تعمیر کام پورا ہو جائے۔“ بابا رام دیو نے مزید کہا کہ ”رام صرف پربھو نہیں ہیں، وہ ہماری ثقافت ہیں۔ رام مندر کے ساتھ ساتھ اب رام راجیہ کا عزم بھی پورا ہوگا۔“

ایک نظر اس پر بھی

ایردوآن نے یو این میں اٹھایا مسئلہ کشمیر، ’اندرونی معاملات میں دخل نہ دے ترکی‘ انڈیا کی تاکید

 جموں و کشمیر کے حوالہ سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوآن کے بیان پر اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ ٹی ایس ترومورتی نے سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کو دوسرے ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا سیکھنا چاہئے۔

ممبئی میں طوفانی بارش سے سیلابی صورتحال، عام زندگی مفلوج، متعدد رہائشی کالونیاں زیر آب

ملک کی تجارتی راجدھانی ممبئی میں گزشتہ شب سے جاری بھاری بارش کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ستمبر کے مہینے میں اس طرح کی بارش نے ایک بار پھر شہر کی عام زندگی کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔