بابری مسجد ملکیت مقدمہ کی سماعت کا 21واں دن متنازعہ اراضی پررام للا کا کبھی مالکانہ حق نہیں رہا:سنی وقف بورڈ

Source: S.O. News Service | Published on 12th September 2019, 10:59 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،12؍ستمبر (ایس اونیوز؍یو این آئی) ایودھیا میں رام جنم بھومی بابری مسجد اراضی تنازعہ پر آج21ویں دن سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، جس میں جہاں سماعت کے براہ راست ٹیلی کاسٹ کے سلسلے میں عرضی کا خصوصی ذکر کیا گیا، وہیں سنی وقف بورڈ نے اپنے مزید دلائل پیش کئے - چیف جسٹس رنجن گگوئی، جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبدالنظیر کی آئینی بنچ کے سامنے سنی وقف بورڈ کے وکیل راجیو دھون نے ہندو فریق کے اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ کیا رام للا ویراجمان کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس زمین پر مالکانہ حق ان کا ہے؟نہیں، کیونکہ ان کا مالکانہ حق کبھی نہیں رہاہے-دھون نے1962میں عدالت عظمیٰ کے دئے گئے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر سوال اٹھایا، اور کہا کہ جو غلطی پہلے ہوچکی ہے اسے جاری نہیں رکھا جانا چاہئے - انہوں نے دلیل دی کہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ زمین پہلے ہندو فریق کے قبضے میں تھی، جو صحیح نہیں ہے -دھون نے مزید کہا کہ نرموہی اکھاڑا نے غیر قانونی طور پر چبوترے پر قبضہ کیا،اس پر مجسٹریٹ نے نوٹس دے دیا جس کے بعد عدالتی جائزہ شروع ہوا اور ایک”غلط“ نوٹس کی وجہ سے آج عدالت عظمیٰ میں سماعت چل رہی ہے -آئینی بنچ وقفہ طعام سے قبل نہیں بیٹھی تھی- وقفہ طعام کے بعد جب سماعت شروع ہوئی سابق سنگھ پرچارک کے - این گوونداچاریہ کی جانب سے، سینئر وکیل وکاس سنگھ نے اس معاملے کی سماعت کا براہ راست ٹیلی کاسٹ کے حوالے سے عرضی کا خصوصی ذکر کیا، جس پر عدالت عظمیٰ نے کہا کہ وہ اس کی سماعت 16ستمبر کو کرے گی- بابری انہدام کیس کی سماعت کر رہے اسپیشل سی بی آئی جج ایس یادو کی مدت بڑھا دی گئی ہے- اتر پردیش کی حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کرکے جج ایس کے یادو کی مدت بڑھا دی ہے- یوپی حکومت نے اس بارے میں سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا ہے-اتر پردیش کی حکومت نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اسپیشل سی بی آئی جج ایس کے یادو کی مدت بڑھا دی گئی ہے-گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے اسپیشل سی بی آئی جج ایس کے یادو سے اپریل 2020تک معاملے کی سماعت مکمل کرکے فیصلہ سنانے کو کہا تھا-لکھنؤ کی سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، سابق وزیر اعلیٰ اوما بھارتی، سادھوی رتمبرا، مہنت نرتیگوپال داس اور دیگر پر بابری مسجد انہدام کا مقدمہ چل رہا ہے- اس سے پہلے جولائی میں اسپیشل جج ایس یادو کی مدت سپریم کورٹ نے بڑھا دی تھی- سپریم کورٹ نے کہا کہ جج کی مدت بڑھائی جارہی ہے تاکہ وہ ٹرائل پورا کرکے فیصلہ سنا سکیں -ساتھ ہی سپریم کورٹ نے کہا کہ ٹرائل مکمل کر کے فیصلہ نو ماہ کے اندر سنایا جائے- کورٹ نے چھ ماہ میں کیس کی سماعت مکمل کرنے کو کہا تھا-جسٹس ایس کے یادو کو30ستمبر کو ریٹائر ہونا تھا-جج کی مدت بڑھانے کو لے کر سپریم کورٹ نے یوپی حکومت سے جواب طلب کیا تھا-یوپی حکومت نے کہا ہے کہ ریاست میں کسی جج کی مدت بڑھانے کیلئے کوئی شرائط نہیں ہیں -

ایک نظر اس پر بھی

دہلی میں جماعت اسلامی ہند کا یک روزہ ورکشاپ۔ امیر جماعت نے کہا؛ ہر زمانے میں سخت اور چیلنجنگ حالات میں ہی دعوت دین کا کام انجام دیا گیا ہے

 جماعت اسلامی ہند حلقہ دہلی کا یک روزہ ورکشاپ برائے ذمہ دران حلقہ،انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامی اسٹڈیز ابو الفضل انکلیو، اوکھلا میں منعقد ہوا۔ ورکشاپ میں نئی میقات 2019تا2023کی پالیسی پروگرام کی تفہیم کرائی گئی۔ صبح 10  بجے  سے شام تک چلے اس ورکشاپ میں جماعت اسلامی ہند دہلی کے ...

ایک قوم‘ایک زبان معاملہ: سیاسی قائدین کی جانب سے شدید رد عمل کا اظہار

اداکار سے سیاست داں بنے جنوبی ہند چینائی کے کمل ہاسن نے ایک قوم ایک زبان کے معاملہ میں بی جے پی قومی صدر امیت شاہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان 1950ء میں کثرت وحدت کے وعدے کے ساتھ جمہوریہ بناتھا اور اب کوئی شاہ یا سلطان اس سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔

بی جے پی حکومت کی اُلٹی گنتی شروع: کماری شیلجہ

ہریانہ کانگریس کی ریاستی صدر اور رکن پارلیمنٹ کماری شیلجہ نے آج دعوی کیا کہ ریاست کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جےپی) حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے کیونکہ عوام اس حکومت کی بدنظمی سے تنگ آچکے ہیں۔

جموں و کشمیر کے سابق سی ایم فاروق عبداللہ کو پی ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی حراست لیا گیا ہے۔ان کے حراست کو لے کر سپریم کورٹ میں داخل عرضی پر سماعت کے دوران عدالت نے مرکزی حکومت کو ایک ہفتے کا نوٹس دے کر جواب دینے کے لئے کہا گیا ہے۔