ایودھیا تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیراعظم مودی نے کہا؛ خوف،ترشی اوردوریوں کومٹاکرآگے بڑھیں، امن،اتحاداوریکجہتی کوباقی رکھ کرمحبت کی فضاقائم کریں

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 9th November 2019, 9:29 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی9نومبر(آئی این آیس انڈیا/ایس او نیوز)    ایودھیا تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے اورپنجاب میں کرتارپور کوریڈور کے افتتاح کے بعد وزیراعظم نریندر  مودی نے ملک کے نام خطاب کرتے ہوئے  عوام سے امن، سکون اور ہم آہنگی بنانے کی اپیل کی، وزیر اعظم مودی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آج جو فیصلہ سنایا، دہائیوں پرانا مسئلہ حل ہوگیا۔ اس فیصلے کے بعدجس طرح ہر طبقہ، کمیونٹی کے لوگوں نے جس طریقے سے اسے قبول کیا ہے، وہ ہندوستان کے تنوع میں اتحاد کی عکاسی کرتاہے۔ فخرہوتاہے کہ ہزاروں سال بعد بھی کوئی تنوع میں اتحاد کی وضاحت کرے گا تو وہ اس واقعہ کا ضرور ذکر کرے گا۔

آج ایودھیا پر فیصلے کے ساتھ ہی، 9 نومبر کی یہ تاریخ ہمارے ساتھ رہ کر آگے بڑھنے کی راہ  بھی دے رہی ہے۔آج کے دن کا پیغام جڑنے کا ہے اور مل کر جینے کاہے۔انہوں نے کہا کہ نئے بھارت میں خوف، ترشی، منفی چیزوں کا کوئی مقام نہیں ہے۔عدالت عظمیٰ کایہ فیصلہ ہمارے لیے ایک نیا سویرالے کرآیاہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تنازعہ کا بھلے ہی کئی نسلوں پر اثر پڑا ہو، لیکن اس فیصلے کے بعد ہمیں یہ عہد کرناضروری ہے کہ اب نئی نسل، نئے سرے سے نیو انڈیا کے تعمیر میں جٹے گی۔ اب معاشرے کے ناطے، ہر ہندوستانی کواپنے فرائض، اپنی ذمہ داری کو ترجیح دیتے ہوئے کام کرناہے۔ہمارے درمیان ہم آہنگی، ہمارا اتحاد، ہمارا امن، ملک کی ترقی کے لیے بہت اہم ہے۔

بابری مسجد کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد پی ایف آئی نے کہا، فیصلہ غیرمنصفانہ ، بورڈ نے کہا، فیصلے کاکچھ حصہ ہمارے حق میں اور کچھ ہمارے خلاف، گلزار اعظمی نے کہا؛ مسلمان پانچ ایکڑ زمین کا محتاج نہیں
 

انہوں نے کہا  کہ ہم سب جانتے ہیں کہ خاندان کاایک مسئلہ بھی حل ہو تو یہ آسان نہیں ہوتاہے۔ سپریم کورٹ نے تمام فریقوں کو پورے صبر کے ساتھ سنا اور اس کے لیے پوراملک ان کا شکر گزارہے۔ آج 9 نومبر ہے، جس دن دیوار برلن گری، اسی دن دنیانے ایک نیاحل نکالا تھا۔آج کرتارپورکوریڈور کی شروعات ہوئی، جس میں بھارت اور پاکستان کا تعاون رہاہے۔

9 نومبر کی تاریخ ہمیں ساتھ میں آگے بڑھنے کی سیکھ دے رہی ہے۔انہوں نے کہا  کہ کسی کے ذہن میں کسی بھی قسم کی ترشی رہی ہے، اس کو بالائے طاق دینے کا بھی دن ہے۔قوم کے نام خطاب سے پہلے پی ایم مودی نے پہلا رد عمل ،  ٹویٹ کرکے دیا  تھاکہ ملک کے سپریم کورٹ نے ایودھیا پر اپنا فیصلہ سنا دیاہے۔ اس فیصلے کوکسی کی ہار یا جیت کے طور پر نہیں دیکھا جاناچاہیے۔ رام بھکت ہوں،یارحیم بھکت،یہ وقت ہم سب کے لیے بھارت بھکت کے احساس کومضبوط کرنے کاہے۔ ہم وطنوں سے میری اپیل ہے کہ امن، ہم آہنگی اور اتحاد برقرار رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بہت وجوہات سے اہم ہے۔یہ بتاتا ہے کہ کسی تنازعہ کو حل کرنے میں قانونی طریقہ کار پر عمل کتنا اہم ہے۔ہر فریق کو اپنی اپنی دلیل رکھنے کے لیے کافی وقت اور موقع دیاگیا۔ انصاف کے مندر نے دہائیوں پرانے کیس پرامن طریقے سے حل کر دیا۔

ایک نظر اس پر بھی

کشمیر: تاریخی جامع مسجد 15 ویں جمعے کو بھی مقفل، نماز پر پھر قدغن

 وادی کشمیر میں 103 دنوں سے جاری غیر یقینی صورتحال سایہ فگن رہنے کے بیچ جہاں ایک طرف معمولات زندگی پٹری پر آرہے ہیں تو وہیں انٹرینٹ اور ایس ایم ایس خدمات کی مسلسل معطلی کے ساتھ ساتھ نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کے محراب ومنبر 15 ویں جمعہ کو بھی خاموش رہے۔

کشمیرمیں اہم رہنماؤں کونظربند رکھنے کی وجہ بتائے حکومت: کانگریس

کانگریس نے کہاہے کہ جموں کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہونے کے بارے میں پوری دنیا میں شور مچارہی مودی حکومت کوبتانا چاہیے کہ کشمیر کو ملک کا اٹوٹ حصہ بنائے رکھنے میں تعاون کرنے والے مرکزی دھارے کے رہنماؤں کو حراست میں کس وجہ سے رکھاگیاہے۔