مدھیہ پردیش: حکومت سے پریشان ہو کر یونیورسٹی کی جس زمین کو چھوڑ بھاگے تھے انل امبانی، وہاں ٹیکسٹائل پارک بنانے کا اعلان

Source: S.O. News Service | Published on 18th September 2021, 11:54 PM | ملکی خبریں |

بھوپال،18؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال سے اچار پورہ تقریباً 14 کلو میٹر دور ہے۔ یہ علاقہ ایک بار پھر موضوعِ بحث ہے۔ دراصل 2010 میں شیوراج حکومت نے کھجوراہو میں انویسٹر میٹ کا انعقاد کیا تھا۔ اس دوران صنعت کار انل امبانی نے والد دھیرو بھائی امبانی کے نام پر یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا تھا۔ تب ریاستی حکومت نے نجی یونیورسٹی قائم کرنے کے لیے معاہدے کے تحت اچارپورہ میں زمین الاٹ کی تھی۔ مدھیہ پردیش نجی یونیورسٹی ایکٹ، 2007 کے ضابطے اور گائیڈ لائنس کے تحت ریلائنس پاور لمیٹڈ کے ساتھ معاہدہ پر دستخط ہوا تھا۔ ریاست میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے امبانی ٹرسٹ کو سال 2011 میں اچار پورہ میں 44 ہیکٹیر، یعنی تقریباً 110 ایکڑ زمین الاٹ کی گئی تھی۔

اس وقت بتایا گیا تھا کہ یہ یونیورسٹی 110 ایکڑ علاقہ میں بنائی جائے گی جو جدید سہولیات کے ساتھ عالمی سطح کی ہوگی۔ اس یونیورسٹی میں انفارمیشن اینڈ مواصلاتی ٹیکنالوجی اور دیگر متعلقہ موضوعات پر پڑھائی کے علاوہ تحقیقی کام کی بھی سہولت ملے گی اور یہاں مدھیہ پردیش کی معاشی ترقی سے متعلق پروگرام بھی چلائے جائیں گے۔ ٹرسٹ کے چیئرمین انل امبانی نے اس وقت کہا تھا کہ مدھیہ پردیش اپنے دانشورانہ وسائل کی طاقت پر معاشی ترقی کے شعبہ میں صف اول میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ٹرسٹ نے باؤنڈری وال بنانے میں 1.04 کروڑ روپے خرچ کیے۔ ٹرسٹ کے پانچ کروڑ میں سے 3 کروڑ 23 لاکھ 43 ہزار روپے کی رقم زمین کی لیز سے متعلق پریمیم رقم جمع کرنے میں خرچ ہو گئی۔ لیکن اس کے بعد پنچایت سے لے کر محکمہ جنگلات، ہارٹیکلچر محکمہ، محکمہ تعلیم اور محکمہ تعمیرات عامہ سمیت دیگر حکومتی محکموں سے این او سی لینے میں امبانی ٹرسٹ کے پسینے چھوٹ گئے۔ ذرائع کے مطابق امبانی این او سی میں ہو رہی تاخیر سے اتنے پریشان ہوئے کہ انھوں نے 2015 میں زمین واپس کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ویسے اس وقت انل امبانی کے پاس پیسے کی قلت کی خبر آج کی طرح برسرعام نہیں ہوئی تھی۔ لیکن گروپ نے ستمبر 2015 میں زمین واپس کرتے ہوئے گارنٹی رقم نجی یونیورسٹی ریگولیٹری کمیشن سے مانگی تھی۔ ریاستی حکومت میں اس وقت یہ بتانے کو کوئی تیار نہیں ہے کہ اس رقم کو حکومت نے اب تک واپس کیا ہے یا نہیں۔

خیر، پانچ سال بعد اچار پورہ پھر موضوعِ بحث ہے کیونکہ وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے یہاں 13 ستمبر کو ٹیکسٹائل پارک کی رسم رونمائی انجام دیا۔ انھوں نے اس موقع پر منعقد تقریب میں بتایا کہ گوکل داس ایکسپورٹس کے ذریعہ مجوزہ یہ یونٹ 10 ایکڑ زمین پر بنے گی اور اس میں کمپنی 110 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گی جس سے 4 ہزار سے زیادہ مقامی اشخاص کو روزگار دستیاب ہو سکے گا۔ ساتھ ہی پلانٹ میں تین چوتھائی سے زیادہ خواتین کام کریں گی۔ حکومت نے اس یونٹ سے ہی تقریباً 10 ہزار لوگوں کو روزگار دینے کا دعویٰ کیا۔ اچار پورہ صنعتی علاقہ 146 ہیکٹیر اراضی پر مبسوط ہے۔ صنعت قائم کرنے پر 800 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی امید ظاہر کی گئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ تقریباً 10 سال یونیورسٹی کے انتظار میں مایوس ہو گئے لوگوں کو اب ٹیکسٹائل منصوبہ پورا ہونے کے لیے کتنے سالوں تک انتظار کرنا ہوگا؟

ایک نظر اس پر بھی

سماج وادی پارٹی اور راجبھر کی سہیل دیو پارٹی کے درمیان اتحاد

 اسمبلی انتخابات سے قبل اترپردیش میں تیزی سے بدلتے سیاسی منظر نامے کے درمیان سال 2017 میں بی جے پی حکومت کا حصہ رہنے والی سہیل دیو سماج پارٹی نے بدھ کو مین اپوزیشن سماج وادی پارٹی کے ساتھ ہاتھ ملا کر بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

بی جے پی کو بے دخل کرنے لئے سیکولر پارٹیاں متحد ہوں: شیوپال یادو

 پرگتی شیل سماج پارٹی (لوہیا) کے سربراہ شیوپال یادو نے کہا کہ بی جے پی کو اترپردیش کے اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے یکساں نظریات کی حامل سبھی سیکولر پارٹیوں کو ایک ساتھ آنا ہوگا۔ وہ اس کے لئے سماج وادی پارٹی سمیت کسی بھی پارٹی سے اتحاد کرنے کو تیار ہیں۔

شوپیاں تصادم: ایک مزدور کی ہلاکت میں ملوث ملی ٹنٹ سمیت دو ملی ٹنٹ ہلاک، آپریشن جاری

جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے درگڈ علاقے میں بدھ کی صبح سیکورٹی فورسز اور ملی ٹنٹوں کے درمیان چھڑنے والے مسلح تصادم میں دو ملی ٹنٹ ہلاک ہوئے ہیں جبکہ آپریشن ابھی جاری ہے۔ مہلوک ملی ٹنٹوں میں سے ایک کی شناخت عادل احمد وانی کے بطور کی گئی ہے جو پلوامہ کے لتر علاقے میں ایک غریب ...

اتراکھنڈ: شدید بارش سے اب تک 46 افراد ہلاک، 11 لاپتہ

اتراکھنڈ میں تقریباً 48 گھنٹے ہوئی موسلا دھار بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آنے سے اب تک کل 46 افراد ہلاک اور 11 دیگر لاپتہ ہیں۔ اس تباہی میں کل 12 افراد زخمی حالت میں اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ تباہی میں کل نو عمارتوں کو جزوی یا مکمل طور پر نقصان پہنچا ہے۔

کشمیر کے تمام لوگ شہری ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہیں: غلام نبی آزاد

 سنیئر کانگریس لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر کے تمام لوگ شہری ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہیں اور ان میں ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مارنے والوں کا طریقہ بدل گیا ہے لہذا ضروری ہے کہ ایک آدھ مارنے والوں کو پکڑا جائے تاکہ ان ...

اگر میرے ساتھ تصویر لینا گناہ ہے تو اس کی سزا بھی مجھے ملے: پرینکا گاندھی

حراست میں فوت ہونے والے ارون والمیکی کے اہل خانہ سے ملاقات کے لئے جا رہی کانگریس کی جنرل سیکریٹری کو پہلے پولیس انتظامیہ نے روکا اور انہیں شاہراہ سے لکھنؤ پولیس لائن لے کر آئی بعد میں انہیں 4 لوگوں کے ساتھ آگرہ جانے کی اجازت فراہم کر دی گئی۔