دہلی میں کورونا کے 2089نئے معاملے، اموات کی تعداد 3300 ہوئی

Source: S.O. News Service | Published on 11th July 2020, 11:12 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،11؍جولائی(ایس او نیوز؍یو این آئی) درالحکومت میں جمعہ کو مسلسل تیسرے روز راحت کی بات یہ رہی کہ نئے معاملوں کی بنسبت شفایاب ہونے والوں کی تعداد زیادہ رہی۔

وزارت صحت کے گزشتہ 24 گھنٹوں کےاعدادوشمار کے مطابق نئے معاملے 2089 رہے اور متاثرین کی کل تعداد ایک لاکھ نو ہزار 140 پر پہنچ گئی۔اس دوران 2468 مریضوں کے صحت یاب ہونے سے ان کی تعداد 84694 پہنچ چکی ہے۔ کل ریکارڈ 4027 مریض ٹھیک ہوئے تھے۔اس مدت میں مزید 42 لوگوں کی موت کے ساتھ ہی اموات کی کل تعداد 3300 ہوگئی۔

اس مدت کے دوران تشویش کی بات یہ رہی تھی کہ ممنوعہ زون کی نئی تعداد 71 کی وجہ سے یہ تعداد بڑھ کر 633 ہوگئی ہے۔

پیر کو نئے معاملے کم ہوکر 1379 رہ گئے تھے۔اس سے قبل دہلی میں 23 جون کو 3947 ایک روز میں سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے تھے۔

دہلی ،مہاراشٹر اور تمل ناڈو کے بعد تیسری ریاست ہے جہاں متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ مہاراشٹر میں وائرس کے معاملے دولاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔دہلی میں فعال کیسز کی تعداد بھی کم ہوکر آج 21146 رہ گئی۔

کورونا جانچ میں پچھلے کچھ دنوں میں آئی تیزی سےجانچ کی کل تعداد 747109 تک پہنچ گئی، 24 گھنٹوں کے دوران دہلی میں 22961 جانچ کی گئی۔۔ اس میں آر ٹی پی سی آر کی جانچ 10129 اورریپڈ اینٹی زون جانچ 12832 تھی۔

3 جولائی کو ریکارڈ 24165 جانچ کی گئی تھی دہلی میں 10 لاکھ کی آبادی پرجانچ کی اوسط بھی بڑھ کر 39321 ہوگئی ہے۔

یہاں کل کورونا بیڈ 15،244 ہیں جن میں سے 4613 پر مریض ہیں جبکہ 10،631 خالی۔ ہوم آئیسولیشن میں مریضوں کی تعداد 12272 رہ گئی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

کشمیر میں بی جے پی کارکنان کو ایک منصوبہ کے تحت نشانہ بنایا جارہا: الطاف ٹھاکر

 بی جے پی جموں و کشمیر یونٹ کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے پارٹی کارکنوں پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں بی جے پی کے کارکنوں کو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مرکزی حکومت کا ہتھیاروں کی درآمد پر پابندی کا فیصلہ ناقابل فہم: سوگت رائے

مرکزی حکومت کے ذریعہ 101ملٹری ہتھیاروں کی درآمدگی پر پابندی عاید کیے جانے پر ترنمول کانگریس نے سوال کھڑے کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم اٹھانے سے قبل ملک میں اسلحہ سازی کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کی ضرورت تھی اور اس کے لئے روڈ میپ تیار کیا جانا چاہیے۔

کشمیر: ڈاکٹر شاہ فیصل نے اٹھایا حیرت انگیز قدم، پارٹی کے صدارتی عہدہ سے دیا استعفیٰ

 کشمیری قوم کے لئے نیلسن منڈیلا بننے کی تمنا رکھنے والے 36 سالہ سابق آئی اے ایس افسر ڈاکٹر شاہ فیصل نے گزشتہ برس مارچ میں 'ہوا بدلے گی' نعرے کے تحت لانچ کردہ اپنی جماعت 'جموں و کشمیر پیپلز موومنٹ' کے صدارتی عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کی جگہ پر پارٹی کے نائب صدر فیروز پیرزادہ کو ...