کلبرگی، 19/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے مرکزی وزیر ایچ ڈی کماراسوامی کی جانب سے اپنے اور اپنے خاندان کے خلاف لگائے جانے والے الزامات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ اسے عوام کے سامنے پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض الزامات لگانے کے بجائے متعلقہ دستاویزات جاری کی جائیں اور اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو اس کی تحقیقات کرائی جائیں۔
کلبرگی کے ایک نجی ہوٹل میں اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پریانک کھرگے نے الزام لگایا کہ کماراسوامی کی پدیاترا عوامی مفاد سے زیادہ ان کے ذاتی سیاسی مفادات کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کماراسوامی اپنی صحت کا خیال رکھتے ہوئے پدیاترا جاری رکھیں، لیکن ان کے پاس موجود تمام ثبوت پمفلٹ کے ذریعے عوام میں تقسیم کریں۔ ان کے بقول، خاندان کے خلاف الزامات لگانے کے بجائے دستاویزات جاری کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔
پریانک کھرگے نے سوال کیا کہ جب کسی کے خلاف الزام سامنے آئے تو تحقیقات سے کیسے انکار کیا جاسکتا ہے؟ کماراسوامی کے بعض کارکنوں کو حراست میں لے کر تفتیش کیے جانے پر اعتراض کیوں کیا جارہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہر معاملے میں الزام تراشی کا جواب دینا ممکن نہیں، اس لیے الزامات کے ساتھ ثبوت بھی سامنے آنے چاہئیں۔
کماراسوامی کی جانب سے انہیں ’متمول دلت‘ قرار دیے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پرینک کھرگے نے سوال کیا کہ دلت اگر معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط ہوں تو بعض لوگوں کو اس سے تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ خود کو ’مٹی کے بیٹے‘ کہنے والے لوگ فلم ساز، ہدایت کار اور اداکار بن سکتے ہیں، رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرسکتے ہیں اور لگژری گاڑیوں میں سفر کرسکتے ہیں، لیکن جب کوئی دلت کوٹ پہن کر، انگریزی بول کر اعلیٰ عہدے تک پہنچتا ہے تو اس پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا دلتوں کو وزیر داخلہ نہیں بننا چاہیے اور کیا انہیں معاشی طور پر مضبوط ہونے کا حق نہیں ہے؟ ان کے مطابق، دلتوں کی خود اعتمادی، ترقی اور اعلیٰ عہدوں تک رسائی کو برداشت نہ کرنا درست رویہ نہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ ان کے خاندان پر الزامات لگانے والے ثبوت جاری کریں۔
پرینک کھرگے نے دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا کماراسوامی نے ان واقعات کی مخالفت کی ہے جن میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو مندر میں داخلے کی اجازت نہ دینے اور سابق صدر رام ناتھ کووند و کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی شرکت کے بعد مقامات کی مبینہ تطہیر کیے جانے کے واقعات سامنے آئے تھے۔
مرکزی وزارت اور سیاسی الزامات پر تنقید کرتے ہوئے پرینک کھرگے نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا کے جذباتی انداز نے کماراسوامی کو مرکزی وزارت دلانے میں کردار ادا کیا، جبکہ اب انہیں اپنا عہدہ کھونے کا خوف لاحق ہے۔ ان کے مطابق، اسی اندیشے کے تحت ایسے الزامات لگائے جارہے ہیں۔ محفوظ نشست سے انتخاب جیت کر رکن اسمبلی بننے سے متعلق تنقید پر انہوں نے کماراسوامی کو چیلنج دیا کہ وہ کلبرگی یا ساحلی کرناٹک سے انتخاب لڑ کر کامیابی حاصل کرکے دکھائیں۔
اسٹنگ آپریشن معاملے پر پرینک کھرگے نے کہا کہ تحقیقات سائنسی بنیادوں پر کی جائیں گی۔ اگر کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے شخص کا قصور ثابت ہوا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کرناٹک پولیس کی کارکردگی پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پولیس معاملات کی تحقیقات اور ضروری کارروائی کررہی ہے۔
کلبرگی کی تور دال اور مقامی مصنوعات کو فروغ دینے کے سوال پر وزیر نے کہا کہ ضلع کی توگر دال کو جغرافیائی شناخت (جی آئی ٹیگ) دلانے کے علاوہ ’بھیمہ پلس‘، ’کلبرگی پلس‘ اور ’کلبرگی روٹی‘ جیسے اقدامات کے ذریعے مقامی مصنوعات کو شناخت اور مارکیٹ فراہم کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔