بنگلورو، 23 /ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی):اداکار اور سماجی کارکن چیتن اہنسا نے سابق رکن پارلیمان پرتاپ سمہا کے امبیڈکر اور دلت تنظیموں سے متعلق حالیہ بیان کے پس منظر میں کہا ہے کہ صرف بابا صاحب امبیڈکر کی تصویر رکھنے، ان کے مجسمے پر پھول چڑھانے یا ان کا نام لینے سے کوئی شخص امبیڈکری نہیں بن جاتا۔ انہوں نے کہا کہ امبیڈکر کے نظریات، مساوات، سماجی انصاف اور ایک مساوی معاشرے کے قیام کی کوشش ہی ان کی حقیقی فکر کو آگے بڑھانے کا ذریعہ ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیتن اہنسا نے کہا کہ آج کل بہت سے لوگ آسانی سے بابا صاحب امبیڈکر کی تصویر اپنے پاس رکھتے ہیں، لیکن ضروری ہے کہ پہلے ان کے نظریات اور تحریروں کو پڑھا اور سمجھا جائے۔ ان کے مطابق امبیڈکر کو کسی ایک ذات تک محدود نہیں کیا جاسکتا، تاہم ان کی فکر کو ایک نظریاتی بنیاد پر سمجھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف کسی خاص سیاسی نظریے یا جماعت سے وابستگی امبیڈکری ہونے کی ضمانت نہیں ہے۔ چیتن نے اپنے بیان میں دائیں بازو، بائیں بازو، کمیونسٹ، درمیانی دھارے کی سیاست اور مختلف سیاسی جماعتوں کے حوالے سے کہا کہ محض سیاسی شناخت کی بنیاد پر کسی کو امبیڈکری قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان کے مطابق اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ کوئی شخص یا تنظیم امبیڈکر کے مساوات اور سماجی انصاف کے نظریات کو عملی طور پر کس حد تک آگے بڑھاتی ہے۔
چیتن اہنسا نے کہا کہ کسی کے ہاتھ میں امبیڈکر کی تصویر دیکھ کر اسے امبیڈکری سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اسی طرح صرف امبیڈکر کا مجسمہ نصب کرنے یا اس پر پھولوں کی مالا چڑھانے سے بھی معاشرے میں تبدیلی نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ بابا صاحب کے نظریات، ان کا وژن اور ایک مساوی معاشرے کا خواب اہم ہے، اور اسی مقصد کے لیے بیداری، جدوجہد، عوامی خدمت اور تنظیم سازی کے ذریعے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سابق رکن پارلیمان پرتاپ سمہا کے دلت تنظیموں اور ’نیلی شال‘ سے متعلق ایک بیان پر کرناٹک میں سیاسی اور سماجی سطح پر ردعمل سامنے آرہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹی نرسی پور میں گنیش وسرجن جلوس کے دوران دیے گئے ایک بیان میں سمہا نے دلت سنگھرش سمیتی (DSS) کے کارکنوں کے احتجاج کے دوران نیلی شال پہننے کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے امبیڈکر کے بارے میں پڑھنے کو کہا تھا۔
اس بیان کے بعد دلت تنظیموں اور مختلف سماجی رہنماؤں کی جانب سے احتجاج اور مذمت کا سلسلہ شروع ہوا۔ مائیسور میں دلت رہنماؤں نے سمہا کی گرفتاری اور ان کے خلاف درج مقدمات کی سی آئی ڈی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ’نیلی شال‘ دلت تحریک میں سماجی انصاف، مساوات اور خودداری کی علامت کے طور پر اہمیت رکھتی ہے۔
چیتن اہنسا کے بیان سے ایک روز قبل چکبالاپور کے کانگریس رکن اسمبلی پردیپ ایشور نے بھی پرتاپ سمہا کے بیان پر سخت اعتراض کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ دلتوں کے حقوق، عزت اور شناخت کے معاملے پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا اور نیلی شال کے بارے میں سمہا کے تبصرے پر سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔
دوسری جانب، 23 ستمبر کو مائیسور سے موصولہ رپورٹ کے مطابق، پرتاپ سمہا کے خلاف دلت برادری اور دلتوں کی ثقافتی شناخت ’نیلی شال‘ کی مبینہ توہین کے الزام میں ایس سی/ایس ٹی (انسداد مظالم) قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ سمہا کے بیان میں دلت کارکنوں اور امبیڈکر کے نظریات کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کیے گئے۔
پولیس کے مطابق، ٹی نرسی پور پولیس اسٹیشن میں اس معاملے میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی متعلقہ دفعات اور ایس سی/ایس ٹی (انسداد مظالم) قانون کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ایک الگ رپورٹ کے مطابق، شکایت میں پولیس افسر کے خلاف مبینہ توہین آمیز اور دھمکی آمیز تبصرے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
اسی دوران وجے پور کے جمکھنڈی میں بھی سماجی کارکنوں نے پرتاپ سمہا کے بیان پر اعتراض کرتے ہوئے ان سے اپنے الفاظ واپس لینے اور دلت برادری سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیلی شال کو دلت برادری میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی فکر، مساوات، خودداری اور سماجی انصاف کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
چیتن اہنسا نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ امبیڈکر کے نظریات کے ذریعے ایک بہتر معاشرے کی تعمیر، عوام میں بیداری پیدا کرنا، سماجی مسائل پر جدوجہد کرنا اور عوامی خدمت کے ذریعے تبدیلی لانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سیاسی سرگرمیوں کا مقصد بھی ایک مضبوط متبادل، حل اور سماجی تبدیلی کی جانب کام کرنا ہے۔
واضح رہے کہ چیتن اہنسا حالیہ عرصے میں ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کی بات بھی کرچکے ہیں۔ ستمبر کے اوائل میں انہوں نے کہا تھا کہ مجوزہ سیاسی پلیٹ فارم آئین کے نظریات، سماجی انصاف، مساوات اور سیکولرازم کو مرکز میں رکھتے ہوئے کام کرے گا اور کسی ایک ذات یا برادری تک محدود نہیں ہوگا۔