ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کستوری رنگن رپورٹ پر کرناٹک کا موقف سپریم کورٹ میں پیش ہوگا: شیوکمار

کستوری رنگن رپورٹ پر کرناٹک کا موقف سپریم کورٹ میں پیش ہوگا: شیوکمار

Wed, 23 Sep 2026 12:08:16    S O News

بنگلورو ، 23/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ کستوری رنگن رپورٹ کی بنیاد پر مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے معاملے میں ریاست کا واضح موقف سپریم کورٹ کے سامنے پیش کرنے کے لیے سینئر وکیل مقرر کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت رپورٹ کی سفارشات کو نظر انداز کرنے کے بجائے ریاست کے زمینی حالات اور مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے سائنسی بنیادوں پر ضروری ترامیم کی خواہاں ہے۔

ڈی کےشیوکمار نے ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر آر۔ اشوک کی جانب سے قومی سبز ٹریبونل سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ کستوری رنگن رپورٹ اور مغربی گھاٹ سے متعلق ساتویں مسودہ اطلاع پر کرناٹک اسمبلی میں 21 سے 23 ستمبر تک خصوصی اجلاس جاری ہے۔ مرکزی حکومت نے یہ مسودہ 27 جولائی 2026 کو جاری کیا تھا اور ریاست سے 27 ستمبر تک اعتراضات اور تجاویز طلب کی گئی ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق قومی سبز ٹریبونل نے کستوری رنگن رپورٹ کے نفاذ کے سلسلے میں مرکزی حکومت کو حتمی اطلاع جاری کرنے کے عمل کو آگے بڑھانے کی ہدایت دی ہے اور اطلاع جاری ہونے کے بعد معاملے کو ٹریبونل کے علم میں لانے کے لیے کہا ہے۔ انہوں نے تاہم کہا کہ مغربی گھاٹ سے متعلق اس عمل میں ان ریاستوں کے مخصوص موقف کا واضح ذکر نہیں کیا گیا جو اس خطے کا حصہ ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ کرناٹک حکومت کستوری رنگن کمیٹی کی جانب سے مغربی گھاٹ کے ماحولیاتی حساس علاقوں سے متعلق سفارشات کو مسترد یا نظر انداز نہیں کر رہی، بلکہ ریاست کا مطالبہ ہے کہ ان سفارشات کا مقامی حالات اور زمینی حقائق کی بنیاد پر سائنسی طور پر ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔

ڈی۔ کے۔ شیوکمار نے کہا کہ اسمبلی میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈرون یا مصنوعی سیارے سے کیے جانے والے سروے میں بعض مقامات پر جنگلات اور زرعی و باغبانی علاقوں کی شناخت میں فرق واضح طور پر سامنے نہیں آتا۔ اس لیے ریاستی حکومت زمینی حقائق کی درست نشاندہی کے لیے محکمۂ محصولات کے ذریعے سروے کرانے کی ضرورت پر زور دے رہی ہے۔

ریاستی حکومت پہلے ہی گاؤں اور سروے نمبر کی بنیاد پر زمینی جائزے کی تجویز پیش کرچکی ہے، تاکہ جنگلات، زرعی اراضی، باغبانی کے علاقوں اور آبادی والے مقامات کی درست نشاندہی کی جاسکے۔ حکومت نے اس مقصد کے لیے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے اور مرکز سے مزید وقت طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

کستوری رنگن رپورٹ پر کرناٹک کا موقف اس وقت قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس کے دوران زیرِ بحث ہے۔ 22 ستمبر کو دونوں ایوانوں نے رپورٹ کی موجودہ شکل پر نظرِ ثانی، زمینی سروے اور مرکز کے سامنے ریاستی موقف پیش کرنے سے متعلق متفقہ فیصلہ بھی کیا ہے۔


Share: