بنگلورو ، 10 /اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی)کرناٹک حکومت نے گروہا لکشمی اسکیم کے تحت خواتین کے بینک کھاتوں میں جمع ہونے والی ماہانہ 2,000 روپے کی رقم کو پرانے قرضوں کی قسطوں، سود یا دیگر واجبات کی ادائیگی کے لیے منہا کرنے سے روکنے کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ کی ہدایت پر حکومت کی ایڈیشنل چیف سکریٹری اور ڈیویلپمنٹ کمشنر اوما مہادیون نے ریاستی سطح کی بینکرس کمیٹی (ایس ایل بی سی) کے کنوینر کو مراسلہ روانہ کرتے ہوئے تمام متعلقہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ان ہدایات پر لازمی عمل کرنے کی تاکید کی ہے۔
گارنٹی اسکیموں کے نفاذ سے متعلق اتھارٹی کے ریاستی نائب صدر اور قانون ساز کونسل کے رکن دنیش گولی گوڑا نے اس مسئلے پر وزیرِ اعلیٰ سے نمائندگی کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ گروہا لکشمی کی رقم سے قرض کی قسطیں منہا کرنے کا سلسلہ روکا جائے۔ ان کی درخواست پر وزیرِ اعلیٰ نے فوری مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چیف سکریٹری کو ہدایت دی تھی کہ بینکوں کو واضح طور پر مطلع کیا جائے کہ مستحق خواتین کے کھاتوں سے مذکورہ رقم قرض کی قسطوں کے لیے منہا نہ کی جائے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق، تجارتی بینکوں، کوآپریٹیو بینکوں، علاقائی دیہی بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو گروہا لکشمی اسکیم کے تحت جمع ہونے والی رقم کو کسی بھی صورت قرض کی قسط، سود یا دیگر قرض واجبات میں ایڈجسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ بینکوں کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے تکنیکی انتظامات کریں جن کے ذریعے مستحق خواتین کے کھاتوں سے اس رقم کی خودکار کٹوتی نہ ہوسکے۔
تمام بینک شاخوں اور متعلقہ عملے کو واضح ہدایات جاری کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ اسکیم کی رقم مکمل طور پر خواتین تک پہنچے اور وہ اپنی ضروریات کے مطابق اسے استعمال کرسکیں۔
حکومت نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ مستحق خواتین کی واضح تحریری رضامندی کے بغیر قرض کی بقایا رقم کے نام پر پہلے ہی منہا کی گئی رقم فوری طور پر ان کے متعلقہ بینک کھاتوں میں واپس جمع کی جائے۔ اس سلسلے میں بینکوں اور تمام ضلع پنچایتوں کے چیف ایگزیکٹیو افسران کو بھی ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔
ریاستی سطح کی بینکرس کمیٹی کے کنوینر کو ہدایت دی گئی ہے کہ تمام بینکوں اور مالیاتی اداروں کے لیے سرکلر جاری کیا جائے، احکامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور کی گئی کارروائی کی رپورٹ حکومت کو پیش کی جائے۔ اس مراسلے کی نقول محکمۂ خواتین و اطفال کی سکریٹری، ریاست کے تمام ڈپٹی کمشنروں اور ضلع پنچایتوں کے چیف ایگزیکٹیو افسران کو بھی ضروری کارروائی کے لیے روانہ کی گئی ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ قانون ساز کونسل کے رکن دنیش گولی گوڑ نے وزیرِ اعلیٰ کو پیش کردہ درخواست میں کہا تھا کہ گروہا لکشمی اسکیم کے تحت ہر ماہ خواتین کے کھاتوں میں جمع ہونے والی 2,000 روپے کی رقم غریب خاندانوں کی روزمرہ ضروریات، بچوں کی تعلیم اور خواتین کی خود کفالت کے لیے اہم ہے۔ تاہم، پرانے قرضوں کی بنیاد پر بینکوں اور مائیکرو فنانس اداروں کی جانب سے رقم منہا کیے جانے سے اسکیم کا بنیادی مقصد متاثر ہورہا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ریاستی سطح کی بینکرس کمیٹی کے ذریعے تمام بینکوں کو سخت ہدایات جاری کی جائیں، تاکہ خواتین اپنی رقم آزادانہ طور پر نکال سکیں۔ اس کے علاوہ، رقم کھاتے میں جمع ہوتے ہی جبراً وصولی کرنے یا دھمکیاں دینے والے نجی مائیکرو فنانس اداروں کے خلاف وصولی کے نام پر استحصال کے مقدمات درج کرنے اور خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے لائسنس منسوخ کرنے کی کارروائی کی جائے۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ تحریری رضامندی کے بغیر منہا کی گئی رقم واپس دلانے کے لیے ضلع پنچایتوں کے چیف ایگزیکٹیو افسران بینکوں کو ہدایات دیں۔ ساتھ ہی، غیر قانونی کٹوتیوں کے معاملات پر ڈپٹی کمشنر اور پولیس سپرنٹنڈنٹ مسلسل نظر رکھیں اور گارنٹی اسکیموں سے متعلق کمیٹیوں کے جائزہ اجلاسوں میں ان معاملات کی باقاعدہ جانچ کی جائے۔