ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / چیف جسٹس کو انڈیا اتحاد کا خط، انتخابی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں پر کارروائی کا مطالبہ

چیف جسٹس کو انڈیا اتحاد کا خط، انتخابی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں پر کارروائی کا مطالبہ

Sun, 05 Jul 2026 11:11:57    S O News

نئی دہلی ، 5/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) ملک کے انتخابی نظام سے متعلق اپوزیشن  پارٹیوں نے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن پر سنگین سوال اٹھائے ہیں۔ ۲۸؍ جون کو انڈیا بلاک میں شامل ۲۳؍ اپوزیشن پارٹیوں اور ایک آزاد رکن پارلیمنٹ نے چیف جسٹس آف انڈیا  سوریہ کانت کو اس بارے میں ایک مشترکہ خط لکھا ہے، جسے اب کانگریس  نے جاری کردیا ہے۔ یہ خط سینئر لیڈر کے سی وینوگوپال نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل سے شیئر کیا ہے۔ اس تعلق سے ایک خبر گزشتہ روز کے اخبار میں صفحہ اول پر شائع کی جاچکی ہے۔ اب ملاحظہ کریں اپوزیشن پارٹیوں کے خط میں موجود اہم باتوں اور شکایتوں کو تفصیل کے ساتھ :

انتخابی ہیرا پھیری :ہم تمام یکساں نظریات رکھنے والی سیاسی پارٹیوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہم بی جے پی کے سخت مخالف ہیں اور ہمارا ماننا ہے کہ انتخابی عمل میں ہیرا پھیری کی جا رہی ہے۔ کئی معاملات میں تو نتائج عوام کی توقعات کے مطابق قطعی نہیں ہوتےبلکہ بالکل برعکس آتے ہیں جو تشویشناک ہے۔

الیکشن کمیشن پر سوال : یہ بھی لکھا گیا  ہےکہ ’’یہ حقیقت ہے کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل ہمیشہ برسر اقتدار حکومت کی جانب سے کی جاتی رہی ہے۔۲۰۱۴ء سے پہلے چند استثنائی معاملات کو چھوڑ دیا جائے تو  بہت کم  ایسے مواقع آئے ہیں جب کمیشن کے اراکین کی دیانت داری پر سوال اٹھے ہوں لیکن۲۰۱۴ء کے بعد سے حکومت کی جانب سے تقریباً ہر تقرری ایسے افراد کی ہوئی ہے جو حکومت سے قریبی تعلق رکھتے ہیں اور بظاہر حکومت کے اشاروں پر انتخابی نتائج میں ہیرا پھیری کیلئے کھلے عام کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔‘‘

الیکشن کمشنر کا رویہ :خط میں لکھا گیا ہے کہ ’’ہماری سب سے بڑی تشویش الیکشن کمیشن، بالخصوص چیف الیکشن کمشنر کے جانبدارانہ رویے کو لے کر ہے۔ وہ انتخابی عمل اور نتائج کے دوران بی جے پی کی کھلے عام اور بے خوف حمایت کررہے ہیں۔
ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی : الیکشن کمیشن نے برسر اقتدار پارٹی کی جانب سے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر کارروائی نہ کر کے اپنی غیرجانبداری کو مجروح کیا ہے جبکہ اپوزیشن کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کئی مواقع پر جب بی جے پی لیڈران ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہے تھے، تب بھی کمیشن خاموش رہا۔

اداروں کی ذمہ داری: جب ادارہ جاتی نظام مکمل طور پر ناکام ہو جاتے ہیں تو جمہوریت انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس سے بچنے کیلئے اداروں کو اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ ہم عدلیہ پر سوال نہیں اٹھا رہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب تمام نظام ناکام ہو جاتے ہیں تو ہم عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں۔ اگر یہ راستہ بھی ناکام ہو جائے تو پھر ہم کس کے پاس جائیں؟ یہ سوال ہم آپ کے غور و فکر کے  لئے چھوڑتے ہیں۔

کورٹ کے فیصلے کا حوالہ: اپوزیشن کے  خط میںانوپ برنوال بنام یونین آف انڈیا مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پارلیمنٹ نے بعد میں قانون میں ترمیم کر کے چیف جسٹس آف انڈیا کو تقرری کمیٹی سے ہٹادیا ہے۔ اس سے الیکشن کمشنر کی تقرری میں حکومت کو اپنی من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔

آزاد انتخابات:اپوزیشن نے زور دیا کہ آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات ہی جمہوریت کی اصل بنیاد ہیں، اس  لئے سپریم کورٹ سے اپیل ہے کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ انتخابی نظام کی ساکھ، جوابدہی اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

میڈیا کی آزادی : خط میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ روایتی میڈیا کا بڑا حصہ دباؤ یا مفادات کے باعث اپنی غیر جانبداری کھوچکا ہے، تاہم آزاد صحافتی پلیٹ فارم اب بھی اقتدار سے سوال کرنے اور حقائق سامنے لانے کا کام کر رہے ہیں۔

اداروں کے حکومتی آلہ کار بننے کا الزام:  اپوزیشن نے الزام لگایا کہ بعض  ادارے عوام کے حقوق کے محافظ بننے کے بجائے حکومت کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بن گئے ہیں، جو جمہوریت کے مستقبل کے  لئےتشویشناک ہے۔ عدلیہ کو عوام کی آخری امید قرار دیا : اپوزیشن رہنماؤں نے لکھا کہ جب تمام دیگر ادارے ناکام ہو جاتے ہیں تو عوام کی آخری امید عدلیہ ہی  ہوتی ہے۔ اگر عدلیہ بھی بروقت مداخلت نہ کرے تو یہ جمہوری نظام کے لیے انتہائی سنگین صورتحال ہوگی۔شفافیت کے نام پر خط : کانگریس نے کہا کہ سپریم کورٹ کو بھیجا گیا یہ خط عوامی مفاد اور شفافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے منظرعام پر لایا گیا ہے تاکہ عوام بھی جان سکیں کہ اپوزیشن نے آئین، جمہوریت اور انتخابی نظام کے تحفظ کے لئے عدلیہ سے مداخلت کی اپیل کی ہے اور اسے کن باتوں پر تشویش ہے۔ اس سے قبل جون کے آخر میں کانگریس رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعہ ایس آئی آر، ووٹ چوری کے الزامات اور انتخابات میں مبینہ دھاندلی سے متعلق چیف جسٹس کو خط لکھنے کی اطلاع دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس خط کا مقصد الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر عمل اور انتخابات سے متعلق دیگر معاملات کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے۔


Share: