ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / گروہا لکشمی کی 2 ہزار روپے کی رقم قرض یا سود کی ادائیگی کے لیے نہ کاٹنے کی ہدایت

گروہا لکشمی کی 2 ہزار روپے کی رقم قرض یا سود کی ادائیگی کے لیے نہ کاٹنے کی ہدایت

Wed, 30 Sep 2026 11:51:07    S O News

بنگلورو، 30/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ ریاستی حکومت کی گروہا لکشمی اسکیم کے تحت خواتین کے بینک کھاتوں میں ہر ماہ جمع ہونے والی 2 ہزار روپے کی رقم کسی بھی صورت قرض کی قسط یا سود کی ادائیگی کے لیے منہا نہ کی جائے۔ وزیر اعلیٰ نے چیف سکریٹری ڈاکٹر شالنی رجنیش کو بینکوں اور مالیاتی اداروں کو اس سلسلے میں واضح اور سخت ہدایات جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔

یہ ہدایت ضمانتی اسکیموں کے نفاذ سے متعلق اتھارٹی کے ریاستی نائب صدر اور قانون ساز کونسل کے رکن دنیش گولی گوڑا کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو پیش کردہ یادداشت کے بعد دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے چیف سکریٹری کو ہدایت دی کہ بینکوں کے انتظامیہ کو خط لکھ کر گروہ لکشمی اسکیم کی مستحق خواتین کے کھاتوں سے قرض کی قسط یا سود کی مد میں رقم منہا نہ کرنے کی واضح ہدایت کی جائے۔

دنیش گولی گوڑا نے اپنی یادداشت میں کہا کہ گروہا لکشمی اسکیم کے تحت ہر ماہ تقریباً 1 کروڑ 24 لاکھ 48 ہزار خاندانوں کی خواتین سربراہان کے کھاتوں میں 2 ہزار روپے جمع کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ رقم خواتین کے گھریلو اخراجات، بچوں کی تعلیم اور خود کفالت کے لیے اہم معاون ثابت ہوتی ہے۔

یادداشت میں الزام عائد کیا گیا کہ بعض تجارتی بینکوں، نجی مالیاتی کمپنیوں اور مائیکرو فنانس اداروں کی جانب سے رقم کھاتے میں جمع ہوتے ہی سابقہ قرض یا سود کی بقایا رقم کے نام پر اسے منہا کیا جا رہا ہے۔

یادداشت میں کہا گیا کہ اگر مستحقین کو اطلاع یا ان کی رضامندی کے بغیر رقم منہا کی جاتی ہے تو اس سے اسکیم کے بنیادی مقصد پر اثر پڑتا ہے۔

دنیش گولی گوڈا نے مطالبہ کیا کہ ریاستی سطح کی بینکرس کمیٹی کے ذریعے سرکاری اور نجی بینکوں کو واضح سرکلر جاری کیا جائے تاکہ گروہا لکشمی کی رقم کو سابقہ قرض، غیر زرعی قرض یا سود کی ادائیگی کے لیے خودکار طور پر منہا نہ کیا جائے اور خواتین کو اس رقم کے استعمال اور نکاسی کی سہولت حاصل رہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالیہ ضلعی سطح کی بینکرس جائزہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں بھی اس معاملے پر توجہ دی گئی ہے اور گروہ لکشمی کی رقم کو قرض کی قسط یا سود کی ادائیگی کے لیے منہا نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

یادداشت میں مائیکرو فنانس کمپنیوں اور ان کے ایجنٹوں کی جانب سے مستحق خواتین سے رقم کی مبینہ زبردستی وصولی اور دھمکانے کے معاملات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مطالبہ کیا گیا کہ ایسی شکایات کی صورت میں قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے اور خلاف ورزی کرنے والے اداروں یا ایجنٹوں کے خلاف ضروری قانونی اقدامات کیے جائیں۔

دنیش گولی گوڑا نے مطالبہ کیا کہ جن خواتین کے کھاتوں سے ان کی واضح تحریری رضامندی کے بغیر گروہ لکشمی کی رقم قرض کی بقایا رقم کے طور پر منہا کی گئی ہے، وہ رقم دوبارہ ان کے کھاتوں میں جمع کرانے کے لیے متعلقہ حکام کے ذریعے بینکوں کو ہدایت دی جائے۔

انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ غیر مجاز رقم کٹوتی سے متعلق شکایات کی نگرانی کی جائے۔ یادداشت میں کہا گیا کہ ڈپٹی کمشنروں اور پولیس سپرنٹنڈنٹس کو ایسے معاملات پر نظر رکھنی چاہیے اور مختلف محکموں اور ضمانتی اسکیموں کے نفاذ سے متعلق جائزہ اجلاسوں میں بھی اس مسئلے کو باقاعدگی سے زیرِ بحث لایا جانا چاہیے۔


Share: