ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / سری لنکا کی نیگومبو جیل میں خونریز تصادم، 25 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی

سری لنکا کی نیگومبو جیل میں خونریز تصادم، 25 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی

Tue, 07 Jul 2026 06:35:28    S O News
سری لنکا کی نیگومبو جیل میں خونریز تصادم، 25 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی

کولمبو 7 جولائی (رائٹرس/اے پی/ایس او نیوز): سری لنکا کے مغربی ساحلی شہر نیگومبو کی مرکزی جیل میں دو روز تک جاری رہنے والے پرتشدد تصادم میں کم از کم 25 افراد ہلاک جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں قیدیوں کے ساتھ متعدد جیل اہلکار بھی شامل ہیں۔ یہ واقعہ گزشتہ کئی برسوں میں سری لنکا کی جیلوں میں پیش آنے والا سب سے ہولناک سانحہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد حکومت نے بڑے پیمانے پر تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

حکام کے مطابق تصادم کا آغاز اتوار کی صبح ناشتے کی تقسیم کے دوران ہوا، جب سزا یافتہ قیدیوں اور زیرِ حراست (ریمانڈ) قیدیوں کے دو گروپ آپس میں الجھ پڑے۔ جیل عملہ صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا کہ پیر کی صبح دوبارہ شدید جھڑپیں شروع ہوگئیں، جن میں قیدیوں نے مبینہ طور پر جیل اہلکاروں پر حملہ کیا اور مرکزی دروازے سے فرار ہونے کی کوشش بھی کی۔

صورتحال قابو سے باہر ہونے پر پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس (STF)، انسداد فسادات دستوں اور فوج کو طلب کیا گیا۔ فضائی نگرانی کے لیے سری لنکن ایئر فورس کے ہیلی کاپٹر اور ڈرون بھی استعمال کیے گئے، جبکہ جیل کے اطراف فوجی دستے اور بکتر بند گاڑیاں تعینات کی گئیں تاکہ کسی بڑے جیل بریک یا مزید تشدد کو روکا جا سکے۔

نیگومبو جنرل اسپتال کے مطابق 100 سے زائد زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جن میں متعدد افراد کو گولیاں لگنے، گہرے زخم اور شدید چوٹیں آئی ہیں۔ زخمیوں میں قیدی اور جیل اہلکار دونوں شامل ہیں، جبکہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق جھڑپوں کی ایک ممکنہ وجہ جیل کے اندر منشیات کی غیر قانونی سرگرمیوں سے وابستہ دو گروہوں کے درمیان دشمنی بتائی جا رہی ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی اصل وجہ جاننے کے لیے متعدد تحقیقات جاری ہیں اور حتمی نتیجہ سامنے آنے تک کسی ایک سبب کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔

وزیر انصاف ہرشانا نانائیکارا نے جیل کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ صورتحال اب مکمل طور پر قابو میں ہے۔ انہوں نے ہلاک شدگان کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ تشدد میں ملوث اہم قیدیوں کو دیگر جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے اور اس سانحہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سری لنکا کی جیلوں میں شدید گنجائش سے زیادہ قیدی رکھے جانے کا مسئلہ عرصۂ دراز سے چلا آ رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کی جیلوں کی مجموعی گنجائش تقریباً 10 ہزار قیدیوں کی ہے، جبکہ اس وقت وہاں 39 ہزار سے زائد افراد قید ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہی بھیڑ، ناقص انتظامات اور جرائم پیشہ گروہوں کی سرگرمیاں اس نوعیت کے پرتشدد واقعات کی بڑی وجوہات میں شمار کی جاتی ہیں۔

یہ واقعہ سری لنکا میں گزشتہ برسوں کے مہلک جیل فسادات کی یاد تازہ کرتا ہے۔ اس سے قبل 2020 میں مہارا جیل میں ہونے والے فساد میں 11 قیدی ہلاک ہوئے تھے، جبکہ 2012 میں ویلیکاڈا جیل میں بھی خونریز تصادم میں 27 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ حالیہ سانحہ کو ان واقعات کے بعد ملک کی تاریخ کے بدترین جیل فسادات میں شمار کیا جا رہا ہے۔


Share: