آدھار: گھبرائی مودی حکومت نے کیا نیا انتظام

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th January 2018, 2:06 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،10؍جنوری(ایس او نیوز؍ایجنسی) 500 روپے میں ’آدھار‘ کی جانکاری فروخت ہونے کی خبر کے بعد مرکز کی نریندر مودی حکومت کی چہار جانب سے تنقید شروع ہو گئی تھی جس کے بعد اس سلسلے میں حکومت کو ایک نیا قدم اٹھانا پڑا ہے۔ لوگوں کی ناراضگی کو ختم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے یو آئی ڈی اے آئی نے دو سطحی ایک نیا نظام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دو سطحی نظام میں کسی بھی ’آدھار‘ ہولڈر کے لیے آدھار کے 12 نمبروں کی جگہ 16 نمبروں کی ایک شناخت یعنی ورچوئل آئی ڈی بنائی جائے گی اور اس کا استعمال محدود ہوگا۔ ایسا کرنے سے کسی بھی شخص کے ’آدھار‘ کی جانکاری کسی ایجنسی کے پاس نہیں جا سکے گی اور اس کی تفصیلات محفوظ رہ سکے گی۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس 16 نمبر کی ورچوئل آئی ڈی کی وجہ سے کسی بھی آدھار نمبر کی توثیق کے وقت آپ کو اپنا آدھار نمبر بتانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس طرح آدھار کی توثیق اور تصدیق پہلے سے زیادہ محفوظ ہو جائے گی۔ یہ ورچوئل آئی ڈی صرف ضرورت کے وقت ہی کمپیوٹر سے جنریٹ ہوگا، ابالکل اسی طرح جس طرح وَن ٹائم پاسورڈ جنریٹ ہوتا ہے۔ یو آئی ڈی اے آئی نے سبھی ایجنسیوں سے اس سال یکم جون تک اس نئے نظام کو اپنانے کے لیے کہا ہے۔ نیا نظام یکم مارچ سے شروع ہو جائے گا۔

اس نئے سسٹم سے پیدا محدود کے وائی سی یعنی ’نو یور کسٹمر‘ آدھار کا استعمال کرنے والوں کے لیے نہیں بلکہ ایجنسیوں کے لیے ہوگا۔ دراصل ابھی تک ہوتا یہ ہے کہ کسی بھی کام کے لیے کوئی بھی ایجنسی آپ سے آدھار کی تفصیل طلب کرتی ہے اور اسے اپنے سسٹم میں محفوظ کر لیتی ہے۔ یہاں سے آپ کے آدھار کی تفصیلات کہیں بھی شیئر ہونے کا ہمیشہ خطرہ رہتا ہے۔ لیکن نئے سسٹم میں ورچوئل آئی ڈی سے ہونے والے محدود کے وائی سی میں آپ کے آدھار نمبر کی توثیق تو ہو جائے گی لیکن ایجنسی کے پاس آپ کا آدھار نمبر نہیں ہوگا۔ ایسی صورت میں ایجنسی آپ کے آدھار نمبر کو اسٹور بھی نہیں کر سکے گی۔

دوسری طرف اس سہولت کے تحت ایجنسیوں کو بغیر آپ کے آدھار نمبر کے ہی اپنا خود کا کے وائی سی کرنے کی اجازت ہوگی۔ ایجنسیاں ٹوکن کے ذریعہ یوزرس کی شناخت کریں گی۔ کے وائی سے کے لیے آدھار کی ضرورت کم ہونے پر ان ایجنسیوں کی تعداد بھی گھٹ جائے گی جن کے پاس آپ کے آدھار کی تفصیلات ہوں گی۔ یہاں یہ جاننا لازمی ہے کہ حال ہی میں ’ٹریبیون‘ اخبار نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس کے مطابق صرف 500 روپے میں اور 10 منٹ کے اندر کسی بھی شخص کے آدھار کی تفصیل خریدی جا سکتی تھی۔ اس کے بعد کافی ہنگامہ برپا ہوا اور مرکزی حکومت نے اس خبر کو شائع کرنے والے اخبار اور خبر لکھنے والی صحافی کے خلاف ہی ایف آئی آر درج کرا دیا۔ حکومت کے اس قدم کی چوطرفہ تنقید ہوئی۔ یہاں تک کہ ایڈیٹرس گلڈ اور کانگریس نے بھی ایف آئی آر کیے جانے کو غلط ٹھہرایا۔ خبر لکھنے والی صحافی کو اس خبر کے لیے اعزاز تک دیے جانے کی وکالت کی۔

واضح رہے کہ کچھ دنوں پہلے ہی آر بی آئی کی مدد سے تیار ایک رپورٹ میں یہ بات کہی گئی تھی کہ آدھار کے غلط استعمال کو روکنا بہت مشکل ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا تھا کہ آدھار سے ہونے والے فوائد سے متعلق بھی کچھ واضح نہیں ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق آدھار کو موجودہ وقت میں بھی اور آنے والے وقت میں بھی کافی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج ڈاٹا چوری کا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ منافع میں یقین رکھنے والی کاروباری دنیا ڈیٹا چوری کر کے اسے اپنے فائدہ کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ آدھار ڈاٹا آسانی سے لیک ہو سکتا ہے اور ایسی صورت میں سائبر کریمنل اس سے ائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

آپ کے20ممبران اسمبلی کی رکنیت منسوخ، الیکشن کمیشن نے دیا فیصلہ

الیکشن کمیشن نے منفعت بخش عہدہ معاملے میں دہلی میں حکمران عام آدمی پارٹی کے 20ممبران اسمبلی کو نااہل قرار دیا ہے۔کمیشن اپنی رپورٹ صدر رام ناتھ کووند کو بھیجے گا۔اب سب کی نظریں صدر لگی ہوئی ہیں، جو اس معاملے پر حتمی مہر لگائیں گے۔

پروین توگڑیا کاوشوہندوپریشد سے کوئی تعلق نہیں، سنت سمیلن میں رام مندرپر نہیں آئے گی تجویز: سوامی چنمیانند

وی ایچ پی کے صدر پروین توگڑیا کی طرف سے حکومت پر ان کے خلاف سازش کرنے اور انکاؤنٹر کر نے کی سازش جیسے الزامات کے بعد نہ صرف آر ایس ایس بلکہ وی ایچ پی نے بھی پورے تنازعہ سے خود کو الگ کر لیاہے

مہاتما گاندھی کو’’راشٹریہ پتا‘‘ کہناغلط،شنکرآچاریہ سروپانند کی زبان بے لگام 

اپنے متنازع بیانات کے لئے جانے جانے والے شنکرآچاریہ سوامی سوروپانندنے پھر ایک بار متنازعہ بیان دے کر ایک تنازعہ کو جنم دے دیا ہے۔انہوں نے مہاتما گاندھی کو بابائے قوم کہے جانے پراعتراض کیا ہے۔

حج کا معاملہ مسلمانوں پر چھوڑ دیا جائے،صرف حج سبسڈی روکناامتیازی سلوک،امرناتھ اورکیلاش میں بھی دی جانے والی سبسڈی ختم کی جائے: پاپولر فرنٹ آف انڈیا

مرکزی حکومت کے ذریعہ حج سبسڈی ختم کیے جانے پر، پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی سینٹرل سیکریٹریٹ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ مذہبی معاملات کو ان کے ماننے والوں پر چھوڑ دے اور ملک و بیرون ملک مختلف مذہبی اعمال پر دی جانے والی تمام مراعات کو ختم کرے۔