سپریم کورٹ میں طلاقہ ثلاثہ کو لے کر کپل سبل کی دلیلیں پختہ اور مضبوط؛ مسلمانوں میں شکوک شبہات پیدا کرنے کی کوشش جاری:مفتی اعجازارشدقاسمی

Source: S.O. News Service | By Roomana Sunehri | Published on 18th May 2017, 9:42 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی18مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ میں طلاق ثلاثہ کو لے کر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قانونی جنگ پوری قوت اور حکمت ومصلحت کے ساتھ جاری ہے، ملک کے ممتاز ترین وکیل کپل سپل مخلصانہ اور انتہائی جرأت مندانہ انداز میں بورڈ کا موقف رکھتے ہوئے عدالت کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ اس طرح کے معاملات عدالت کے دائرہ اختیار ہی میں نہیں ہیں، اس لیے ایسے حساس مذہبی معاملات میں کورٹ کی دخل اندازی بنیادی حقوق اور مذہبی آزادی پر راست حملہ ہوگا۔ان خیالات کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے رکن مفتی اعجاز ارشد قاسمی نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کپل سبل کا یہ کہنا کہ- جیسے ہندوؤں کا رام پر آستھا ہے، اسی طرح مسلمانوں میں تین طلاق کا مسئلہ قانون اسلامی کا حصہ ہے، جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات وابستہ ہیں - دانشمندانہ اور مصلحت پر مبنی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی بھی فیصلہ آستھا کی بنیاد پر نہیں ہوسکتا، لیکن مخالف وکلاء کو خاموش کرنے کے لیے اس طرح کی مثالوں میں کو ئی حرج نہیں ہے، کپل سبل نے یہی کیااور بہت اچھا کیا، اس پر کسی کا یہ شک کرنا کہ بابری مسجد کا کیس اس سے کمزور ہوگا، غلط ہے۔بابری مسجد کا قضیہ اس وقت مالکانہ حق کو لے کر ہے، ظاہر ہے کہ ملکیت کسی آستھا کی بنیاد پر ثابت نہیں ہوسکتی اور طلاق ثلاثہ کا مسئلہ بنیادی حقوق اور مذہبی آزادی کو لے کر ہے؛ ہمیں اس فرق کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔

مفتی اعجاز ارشد قاسمی نے عوام کو باخبر کرتے ہوئے کہا کہ ان دنوں کچھ غیر مسلم خواتین اردو نام رکھ کر ٹی وی چینلز پر بحث کے لیے آتی ہیں، جب کہ ان کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔فرح فیض نامی ایک خاتون وکیل باضابطہ طلاقہ ثلاثہ کے مسئلہ پر عدالت میں بحث بھی کررہی ہے، جب کہ ان کا اصلی نام لکشمی ورما ہے اور وہ ایک برہمن کے ساتھ ریلیشن شپ میں رہ رہی ہے۔ اسی طرح بھارتیہ مسلم مہیلا اندولن کے پلیٹ فارم سے ایک خاتون ذکیہ سونم کے نام سے ٹی وی چینلز پر شریعت اسلامی پر تنقید کرتی نظر آتی ہے، جب کہ وہ خو د وہ مرتد ہوکر ایک برہمن کے ساتھ رہ رہی ہے۔ٹی وی چینلز پر آنے والی بیشتر خواتین کا تعلق اسلام اور مسلمانوں سے نہیں ہے؛ لیکن وہ اسلام کی نمائندگی کرتی نظر آرہی ہیں، جو کہ انتہائی افسوس ناک اور الیکٹرانک میڈیا کے جانب دارانہ رویہ کا آئینہ دار ہے۔ مفتی اعجاز ارشدقاسمی نے برملا کہا کہ وہ خواتین جن کی زندگی خود اسلام سے بہت دور ہے، وہ بھلا شریعت اسلامی کی ترجمانی کیسے کرسکتی ہیں۔ ٹی وی اسکرین پر زلفیں لہراتی ہوئیں انتہائی فحش اور احمقانہ انداز میں علمائے کرام کی تذلیل اورغلط طریقہ سے دنیا کے سامنے قرآن کی توضیح وتشریح کرنا؛ ان کی بدنیتی پر مبنی ہے، جس کی توقع کسی بھی مسلم خاتون سے نہیں کی جاسکتی۔ ایسے خواتین کی سچائی سے سماج کو باخبر کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلم دشمن عناصر کے عزائم اور سازشوں کو سمجھنے کی تلقین کرتے ہوئے مفتی اعجاز ارشد قاسمی نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ایسے نازک وقت میں اتحاد کا مظاہر ہ کریں اور سماج میں شکوک وشبہات پیدا کرنے والوں کی منفی نیت کو بے نقاب کریں۔

ایک نظر اس پر بھی

کشمیر میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل

ترال میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں سبزار احمد بھٹ کے مارے جانے کے پیش نظر احتیاطی طور پر آج وادی کشمیرمیں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی۔

یوگی حکومت لاء اینڈرآرڈرلاگو کرنے میں بری طرح ناکام،ہرطرف خوف کا ماحول، دلتوں کودبایا جارہا ہے؛ کانگریس نائب صدر کا الزام

کانگریس نائب صدر راہل گاندھی ہفتہ کو نسلی تشدد سے متاثر سہارنپور کے متاثر خاندانوں سے ملنے پہنچے۔یہاں انہوں نے کچھ متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔

پانڈیچری کے وزیراعلیٰ کا مویشیوں کی فروخت پرپابندی سے متعلق نوٹیفیکشن واپس لینے کامطالبہ؛ حکومت کوکھانے پینے کی پسندپربندشیں مسلط کرنے کاکوئی حق نہیں

پانڈیچیری کے وزیراعلیٰ وی نارائن سامی نے ذبح کے لئے مویشیوں کی فروخت پرپابندی لگانے کے نوٹیفکیشن جاری کرنے پرمرکزی حکومت کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو لوگوں کے کھانے پینے کی پسندپربندشیں مسلط کرنے کاکوئی حق نہیں ہے۔

کیا ذبیحہ کے لئے جانور فروخت کرنے پرمرکزی سرکار کی پابندی کارگر ہوگی؟!

ذبیحہ کے لئے جانوروں کی فراہمی جانوروں کی مارکیٹ اور میلوں سے ہوا کرتی ہے۔ مختلف شہروں میں کسان ایسی مارکیٹوں اور جانوروں کے میلے میں اپنے جانورفروخت کرتے ہیں اور یہاں سے قصائی خانوں کی ضرورت پوری ہوتی ہے۔