آل انڈیا جوڈیشیل سروس اچھے ججوں کی تقرری کے لیے ہے ، روی شنکرپرسادنے وفاقی ڈھانچہ کو نقصان ہونے کی قیا س آرائیوں کوغلط قراردیا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 2nd January 2019, 11:10 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی2جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) قانون اور انصاف کے وزیر روی شنکر پرساد نے آج کہا کہ حکومت نچلی عدالتوں کے لیے ججوں کے انتخاب کے لیے آل انڈیا جوڈیشل سروس کی تشکیل کی سمت میں کوشاں ہے اور اس سے وفاقی ڈھانچے کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

مسٹر پرساد نے لوک سبھا میں ایک ضمنی سوال کے جواب میں کہا،’’ہم ریاستی حکومتوں کے حکام یا وہاں کے ریزرویشن سسٹم میں کوئی دخل دینا نہیں چاہتے۔ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ نچلی عدالتوں میں اچھے ججوں کی تقرری ہو۔اس کے خالی عہدوں کا ایک حصہ محض مرکزی امتحان کے ذریعہ سے پْر کیا جائیگا۔باقی عہدوں پر تقرری موجودہ سسٹم کے تحت ہوتی رہیگی۔‘‘انہوں نے کہا کہ آل انڈیاجوڈیشل سروس کی تشکیل سے پہلے ریاستوں اور ہائی کورٹ کی اجازت لینی ضروری ہوگی۔ان سے بات چل رہی ہے۔حکومت چاہتی ہے کہ یونین پبلک سروس کمیشن کے زیر انتظام قومی سطح پر امتحان کا انعقاد ہو اور اڈیشنل جج کے طورپر بھی باصلاحیت ججوں کی تقرری ہو۔

وزیرقانون نے بتایا کہ نچلی عدالتوں میں ملک بھر میں ججوں کے پانچ ہزار سے زیادہ عہدے خالی ہیں۔لیکن،نچلی عدالتوں میں تقرری میں مرکز یا ریاستی حکومتوں کا کوئی رول نہیں ہوتا۔یہ کام ہائی کورٹ کا ہوتا ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے سبھی ہائی کورٹ کو خط لکھ کر تقرری میں تیزی لانے کیلئے کہا ہے۔ساتھ ہی نچلی عدالتوں میں زیر التوا معاملوں کی تعداد کم کرنے کیلئے 10سال سے پرانے سبھی معاملوں کی فوری طورپر سماعت کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔مسٹر پرساد نے بتایا کہ ہائی کورٹ میں تقرری کے معاملے میں موجودہ حکومت کا کام پچھلی حکومتوں سے بہتر رہا ہے۔اس نے 2016میں 126ججوں ،2017میں 118ججوں اور 2018میں بھی سو سے زیادہ ججوں کی تقرری ہائی کورٹ میں کی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

مودی پھر جیتے تو ملک میں شاید انتخابات نہ ہوں: اشوک گہلوت

کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے منگل کو نریندر مودی حکومت کے دور میں ’جمہوریت اور آئین‘ کو خطرہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے دعوی کیا کہ اگر عوام نے مودی کو پھر سے اقتدار سونپا، تو ہو سکتا ہے