ریٹائرڈ جسٹس جوزف کورین نے کہا؛ اُس وقت کے چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کو باہر سے کوئی کنٹرول کررہا تھا

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 3rd December 2018, 9:26 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی 3/ڈسمبر (ایس او نیوز/ایجنسی)  حال ہی میں سپریم کورٹ سے ریٹائرڈ ہونے والے جسٹس کورین جوزف نے  بعض میڈیا والوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ   سابق چیف جسٹس دیپک مشرا  آزادانہ طور پر فیصلے نہیں لے رہے تھے بلکہ ہمیں ایسا لگ رہا تھا کہ  وہ کسی باہری مداخلت  پر فیصلے لے رہے تھے۔اور ہمیں محسوس ہورہا تھا کہ اُنہیں باہر سے کوئی کنٹرول کررہا ہے، اسی لئے ہمیں پریس کانفرنس کرنی پڑی۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ جسٹس دیپک مشرا کے چیف جسٹس بننے کے 4 ماہ کے اندر کیا غلط ہوا تو    جسٹس جوزف نے کہا، ’’ سپریم کورٹ میں کام کاج پر بیرونی اثرات کی کئی مثالیں ہیں، جن میں مخصوص ججوں کی سپریم کورٹ اور  ہائی کورٹ میں تقرری، خاص معاملات کو مخصوص بنچ کے سپرد کرنا وغیرہ۔ 

انہوں نے کہا کہ کسی جج کی طرف سے عدالتی اختیارات کے استعمال پر کوئی سیاسی دباؤ نہیں ہوتا، لیکن جس طرح سے تقرریوں میں منتخب طریقے سے تاخیر کی جا رہی تھی  یا انہیں روک کر رکھا جا رہا  تھا  وہ ایک طریقے سے انصاف میں مداخلت تھا ۔

 جسٹس کورین کے مطابق، 'یہ عدلیہ کی آزادی کا سوال تھا، جمہوریت اور سپریم کورٹ جیسے ادارہ کی حفاظت کا سوال تھا.'جسٹس کورین نے کہا،  یہ ایک یا دو فیصلوں کا سوال نہیں تھا، مزید کہا کہ  عام طور پر چیف جسٹس اور بھارت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر اُن کی جو ذمہ داری تھی ،  ہم محسوس کررہے تھے کہ  چیزیں صحیح سمت میں نہیں جا رہی ہیں. '  انہوں نے مزید کہا کہ اب چیزیں بدل رہی ہیں، سپریم کورٹ کے انتظامات اور روایات میں تبدیلی آنے میں ابھی کافی وقت لگے گا کیونکہ وہ طویل وقت سے موجود ہیں۔

 

خیال رہے کہ جنوری میں جسٹس جوزف نے سپریم کورٹ کے تین دیگر اعلیٰ ججوں جسٹس جے چیلامیشور (جو اب ریٹائرڈ ہو چکے ہیں)، جسٹس رنجن گوگوئی (جو اب چیف جسٹس بن چکے ہیں) اور جسٹس مدن لوكر کے ساتھ مل كر تب کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف پریس کانفرنس کی تھی اور خدشات سے سب کو آگاہ کرایا تھا ۔

تب کے واقعات کو یاد کرتے ہوئے جسٹس کورین نے کہا، 'ہم چاروں کولیجیم  میں تھے، ہم نے چرچہ  کی اور اسے چیف جسٹس کے دھیان میں لایا  کہ چیزیں صحیح سمت میں نہیں جا رہی ہیں، لہٰذا آپ کو اپنے طریقے سدھارنے  چاہئے. ہم اُن سے ملے، ہم نے تحریری طور پر بھی یہ باتیں انہیں بتائیں. اور جب ہمیں لگا کہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا ہے تو  جیسے میں اکثر کہتا ہوں، بھونکنے  والے کتے کو کاٹنا ہی تھا. '

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ  وہ کون تھا جو چیف جسٹس کو کنٹرول کر رہا تھا تو انہوں نے کہا، 'مجھے یہ پتہ نہیں ہے کہ وہ کون  شخص تھا، لیکن ہم سب کی یہ پکی رائے تھی کہ چیف جسٹس آزاد طریقے سے فیصلے نہیں لے رہے  ہیں۔

 

ایک نظر اس پر بھی

جے پی سی سے جانچ کرانے کا راستہ ا بھی کھلا ہے، عام آدمی پارٹی نے کہا،عوام کی عدالت اورپارلیمنٹ میں جواب دیناہوگا،بدعنوانی کے الزام پرقائم

آپ کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ رافیل معاملے میں جمعہ کو آئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود متحدہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے اس معاملے کی جانچ پڑتال کرنے کا اراستہ اب بھی کھلا ہے۔

رافیل پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ، راہل گاندھی معافی مانگیں: بی جے پی

فرانس سے 36 لڑاکا طیارے کی خریداری کے معاملے میں بدعنوانی کے الزامات پر سپریم کورٹ کی کلین چٹ ملنے کے بعد کانگریس پر نشانہ لگاتے ہوئے بی جے پی نے جمعہ کو کہا کہ کانگریس پارٹی اور اس کے چیئرمین راہل گاندھی ملک کو گمراہ کرنے کیلئے معافی مانگیں۔