ریزرویشن کے معاملے پر راجیہ سبھا میں آج تیسرے دن بھی ہنگامہ، اجلاس پورے دن کے لیے ملتوی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 6th February 2019, 8:25 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 6 فروری (آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز) اعلی تعلیمی اداروں میں ریزرویشن سے متعلق روسٹر نظام کی مخالفت میں آج بدھ کو لگاتار تیسرے دن  راجیہ سبھا میں ایس پی اور بی ایس پی سمیت مختلف جماعتوں کے بھاری ہنگامے کی وجہ سے ایوان بالا کا  اجلاس ایک بار پھر ملتوی ہوگیا۔

 دوپہر تقریبا دو بجے جب ملتوی شدہ اجلاس دوبارہ شروع ہوا  تو سماج وادی پارٹی کے رام گوپال یادو نے بکنگ معاملے پر ایوان میں بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔اسی دوران ایس پی، بی ایس پی، آر جے ڈی اور ترنمول کانگریس وغیرہ کے ارکان مختلف  ایشوز کے لے کر  نعرے بازی کرتے ہوئے چیئرمین کے قریب آ گئے۔ہنگامے کے دوران ہی وزیر داخلہ کرن رججو نے چیئرمین کی اجازت سے آئین 125 واں ترمیم بل 2019ایوان میں پیش کیا۔ہنگامے کے درمیان ہی ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے رام گوپال یادو سے ریزرویشن کا مسئلہ جمعرات کو وقفہ صفر میں اٹھانے کی درخواست کرتے ہوئے صدر کے خطاب پر بحث میں حصہ لینے کی اپیل کی۔

یادو نے کہا کہ یہ ملک کی 85فیصد آبادی سے منسلک مسئلہ ہے اور یہ دکھ کی بات ہے کہ حکومت میں پسماندہ ذاتوں کے ہی لوگ اس میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔بی ایس پی کے ستیش چندر مشرا اور بہت سے دوسرے اراکین نے کہا کہ حکومت نے روسٹر نظام کو لاگو نہ کرنے کا یقین دلایا تھا لیکن اس کے باوجود گزشتہ چند دنوں میں تعلیمی اداروں میں متنازعہ ریزرویشن طریقہ ہی خالی جگہوں کو بھرنے کے لیے اودین جاری کیے گئے ہیں۔اس کے جواب میں فروغ انسانی وسائل کے وزیر پرکاش جاؤڑیکر نے صورت حال کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ ابھی عدالت کے سامنے زیر غور ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے خصوصی اجازت یافتہ درخواست اور نظر ثانی درخواست دائر کی جائے گی۔جاؤڑیکر نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ، پسماندہ قبیلے اور دیگر پسماندہ طبقوں کے ریزرویشن پر آنچ نہیں آنے دے گی،اس کے بعد بھی نعرے بازی نہیں تھمنے پر ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ ہنگامے کی وجہ سے ایوان کااجلاس چلا پانا ممکن نہیں ہے۔انہوں نے اجلاس کو دن بھر کے لئے ملتوی کر دیا۔

اس سے پہلے صبح 11بجے اجلاس شروع ہونے پر چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے ضروری دستاویزات ایوان میں پیش کئے۔انہوں نے ایوان کو مطلع کیا کہ ایس پی کے بینی پرساد ورما اور کیرالہ کانگریس کے جوس کے منی نے موجودہ سیشن سے رخصت مانگی ہے۔ایوان کی اجازت سے انہوں نے دونوں اراکین کو رخصت کی منظوری دے دی۔انہوں نے ایوان کو مطلع کیا کہ انہیں مختلف مسائل پر بحث کرنے کے لئے ایس پی کے رام گوپال یادو، راشٹریہ جنتا دل کے منوج جھا، کانگریس کے رپن بورا سمیت پانچ ارکان کے نوٹس ملے ہیں۔اسی دوران ایس پی ارکان نے اعلی تعلیمی اداروں میں ریزرویشن سے متعلق روسٹر نظام کا مسئلہ اٹھایا۔چیئرمین نے سماج وادی پارٹی ارکان سے کہا کہ ان کی بات ریکارڈ میں نہیں جائے گی۔کانگریس کے رپن بورا نے شہریت (ترمیمی)بل کا مسئلہ اٹھایا۔پارٹی کے ارکان نے ان کی بات کی حمایت کی۔چیئرمین نے ارکان سے پرسکون رہنے اور ایوان کے اجلاس چلنے دینے کی درخواست کی لیکن ہنگامہ تھمتے نہ دیکھ انہوں نے 11بج کر 6 منٹ پر ہی اجلاس کو دوپہر دو بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا۔ہنگامے کی وجہ سے اعلی ایوان میں آج بھی وقفہ صفر اوروقفہ سوال نہیں ہو پایا۔

ایک نظر اس پر بھی

مودی پھر جیتے تو ملک میں شاید انتخابات نہ ہوں: اشوک گہلوت

کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے منگل کو نریندر مودی حکومت کے دور میں ’جمہوریت اور آئین‘ کو خطرہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے دعوی کیا کہ اگر عوام نے مودی کو پھر سے اقتدار سونپا، تو ہو سکتا ہے