رافیل معاملہ: راہل کے الزامات جھوٹے ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جے پی سی کی ضرورت نہیں:ارون جیٹلی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 3rd January 2019, 8:14 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،3 جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) رافیل معاملے میں کانگریس صدر راہل گاندھی کے الزامات کو‘جھوٹا‘ اور سابقہ یو پی اے حکومت پر ملک کی سلامتی سے سمجھوتہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے بدھ کو لوک سبھا میں کہا کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں فطری طور پر سچائی ناپسند ہوتی ہے۔انہیں صرف پیسے کا ریاضی سمجھ میں آتا ہے، ملک کی سلامتی کا نہیں۔

جے پی سی کی مانگ کو مسترد کرتے ہوئے جیٹلی نے کہا کہ اس میں مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نہیں ہو سکتی ہے، یہ پالیسی موضوع نہیں ہے۔یہ معاملہ سودے کے حق کے سلسلے میں ہے۔سپریم کورٹ میں یہ درست ثابت ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ جے پی سی میں دلگت سیاست کا موضوع آتا ہے۔بوفورس معاملے میں جے پی سی نے کہا تھا کہ اس میں کوئی رشوت نہیں دی گئی۔اب وہ ہی لوگ جے پی سی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ ایک شفاف حکومت کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کا موقع مل سکے۔رافیل طیارے سودا معاملے پر لوک سبھا میں بحث میں مداخلت کرتے ہوئے جیٹلی نے کہاکہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں پہلے سے لے کر آخری لفظ تک جو بھی بولا گیا، مکمل طور پر جھوٹ ہے۔

جیٹلی نے کہا کہ آج یہ راہل: کوئی ٹیپ لے کر آئے ہیں اور اس کی تصدیق نہیں کر رہے ہیں کیونکہ وہ غلط ہے۔یہ مکمل طور پر منگڑھت ہے۔یہ باتیں غلط اور ناقص ہیں۔وزیر خزانہ نے گاندھی خاندان پر نشانہ لگانے کے لئے بوفورس، آگسٹا ویسٹ لینڈ اور نیشنل ہیرالڈ معاملے کا ذکر کیا۔جیٹلی نے کہا کہ ہیرالڈ معاملے میں کیا ہوا، کس طرح سے پراپرٹی کو ذاتی ملکیت بنا دیا گیا۔آگسٹا ویسٹ لینڈ معاملے میں جس شخص کو لایا گیا ہے، اس سے متعلق ایک ای میل میں مسز گاندھی اور سنکشیپن کا استعمال کیا گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کا اُمیدوارکون ؟ راہول گاندھی، مایاوتی یا ممتا بنرجی ؟

آنے والے لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے عہدے کا اُمیدوار کون ہوگا اس سوال کا جواب ہرکوئی تلاش کررہا ہے، ایسے میں سابق وزیر خارجہ اور کانگریس کے سابق سنئیر لیڈر نٹور سنگھ نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ  اس وقت بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سربراہ مایاوتی ...

مدھیہ پردیش میں 5روپے، 13روپے کی ہوئی قرض معافی، کسانوں نے کہا،اتنی کی تو ہم بیڑی پی جاتے ہیں

مدھیہ پردیش میں جے کسان زراعت منصوبہ کے تحت کسانوں کے قرض معافی کے فارم بھرنے لگے ہیں لیکن کسانوں کو اس فہرست سے لیکن جوفہرست سرکاری دفاترمیں چپکائی جارہی ہے اس سے کسان کافی پریشان ہیں،