وزیر دفاع نے رافیل پر میرے سوالات کا جواب نہیں دیا، ڈرامہ کیا: راہل 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 5th January 2019, 12:41 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی 4 جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) رافیل ڈیل پر کانگریس صدر راہل گاندھی حکومت کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مورچہ کھولے ہوئے ہیں۔ جمعہ کو لوک سبھا کے اندرپی ایم نریندر مودی پر رافیل ڈیل میں کرپشن کا براہ راست الزام لگانے کے فورا بعد راہل گاندھی ایوان سے باہر آکر حکومت پر برسے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اس ڈیل سے منسلک حساس سوالات کا جواب دینے کے بجائے وزیر دفاع ڈرامہ کر رہی ہیں۔

راہل نے کہا کہ جس رافیل ڈیل کو 8 سال تک وزارت دفاع کے حکام نے، ایئر فورس کے حکام نے نیگوشیٹ کیا، اس کو وزیر اعظم نے بائی پاس سرجری کر ایک ہی جھٹکے میں تبدیل کر دیا۔کانگریس صدر نے کہا کہ کیا وزیر دفاع یہ بتائیں گی کہ کیا اس ڈیل کی بائی پاس سرجری کا ایئر فورس کے لوگوں نے اعتراض کیا تھا؟ راہل نے کہا کہ اس سوال کا جواب دینے کی بجائے نرملا سیتا رمن نے ڈرامہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ایوان میں نہیں آتے اور سابق وزیر دفاع گوا میں بیٹھے ہیں۔لوک سبھا میں بولی گئیں باتوں کو دہراتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ انہوں نے بہت سے سوال اٹھائے، لیکن کسی کا جواب نہیں ملا۔ راہل نے کہا کہ وزیر دفاع نے 2 گھنٹے تک بولا، لیکن انل امبانی کا نام نہیں لیا، میں نے ان سے پوچھا کہ کیا جب پی ایم نے اس ڈیل کی بائی پاس سرجری کی تو ایئر فورس نے کوئی اعتراض کیا، اس سوال کا جواب دینے کے بجائے وزیر دفاع ڈرامہ کرنے لگیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر دفاع نے اپنی تقریر میں خود تسلیم کیا کہ 36 رافیل ہوائی جہاز خریدنے کے لئے ایک نیا کنٹراکٹ تیار کیا گیا ہے ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کا اُمیدوارکون ؟ راہول گاندھی، مایاوتی یا ممتا بنرجی ؟

آنے والے لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے عہدے کا اُمیدوار کون ہوگا اس سوال کا جواب ہرکوئی تلاش کررہا ہے، ایسے میں سابق وزیر خارجہ اور کانگریس کے سابق سنئیر لیڈر نٹور سنگھ نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ  اس وقت بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سربراہ مایاوتی ...

مدھیہ پردیش میں 5روپے، 13روپے کی ہوئی قرض معافی، کسانوں نے کہا،اتنی کی تو ہم بیڑی پی جاتے ہیں

مدھیہ پردیش میں جے کسان زراعت منصوبہ کے تحت کسانوں کے قرض معافی کے فارم بھرنے لگے ہیں لیکن کسانوں کو اس فہرست سے لیکن جوفہرست سرکاری دفاترمیں چپکائی جارہی ہے اس سے کسان کافی پریشان ہیں،