گائے کے نام پرتشدد:وزیر اعظم کابیان محض دکھاوا مودی اگرواقعی گؤرکشاکے نام پر تشددسے فکرمندہیں توعملی قدم اٹھائیں:مولانااسرارالحق قاسمی

Source: S.O. News Service | By Sheikh Zabih | Published on 17th July 2017, 9:30 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی18جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)گؤرکشاکے نام پر جاری تشدداور دہشت گردی کے نہ تھمنے والے سلسلے پر سخت تشویش کا اظہارکرتے ہوئے معروف عالم دین اور ممبر پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے مرکزی حکومت اور بی جے پی لیڈران کی فرقہ پرستانہ پالیسی پر سخت تنقید کی اورکہاکہ حکومت ملک میں جانوروں کے نام پر انسانوں کے قتل کی خاموش حمایت کررہی ہے۔انھوں نے کل جماعتی میٹنگ میں وزیر اعظم نریندرمودی کے اس بیان کو محض دکھاواقراردیاجس میں انھوں نے گؤرکشاکے نام پر تشدد کی مذمت کی ہے اور کہاہے کہ ریاستی حکومتیں ان غیر سماجی عناصرکے خلاف سخت کارروائی کریں جوگائے کے نام پر تشددکررہے ہیں ، انھوں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہاہے کہ اس طرح کے ماحول سے عالمی سطح پر ملک کی شبیہ خراب ہورہی ہے اوراس کی روک تھام کے لئے تمام سیاسی پارٹیوں کو آگے آناچاہئے۔

مولاناقاسمی نے وزیر اعظم کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اگروہ اس معاملے کے تئیں سنجیدہ ہوتے توخود عملی طورپرکوئی قدم اٹھاتے،اپنے وزیروں کوہدایات دیتے اور کم ازکم بی جے پی حکومت والی ریاستوں کوپابند کرتے لیکن پہلے توانھوں نے گؤرکشاکے نام پر پھیلنے والی دہشت گردی پر چپی سادھے رکھی اورجب گزشتہ جون میں بلبھ گڑھ کے جنید نامی بچے کا قتل ہوااور پورے ملک میں لوگوں نے اس کے خلاف احتجاج کیاتب ان کی زبان کھلی،انھوں نے اس وقت بھی صرف بیان دیاتھااور اس کے بعد حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی ، اسی طرح ان کے حالیہ بیان کابھی زمینی سطح پر کوئی اثرنہیں ہواہے،چنانچہ جس دن وزیر اعظم کایہ بیان آیاہے اسی دن بجرنگ دل والوں نے بلبھ گڑھ کے علاقے میں ہی ایک شخص کی پٹائی کی ہے،اسی طرح بہارکے ایک حافظ قاری گلزارکے ساتھ ٹرین میں تشددکاواقعہ بھی کل ہی رونماہواہے۔

مولاناقاسمی نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اگر وہ واقعی گائے کے نام پر پھیلنے والے تشدداور دہشت گردی کے رجحانات پر فکر مندہے توسخت قدم اٹھائے،تمام ریاستوں کوٹھوس ہدایات جاری کرے کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف کڑی کارروائی کرے اور انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

ایک نظر اس پر بھی