لدھیانہ میں یوگی اور محبوبہ حکومت کے خلاف زبردست احتجاج ،آصفہ کے قاتلوں کو پھانسی دو : مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th April 2018, 12:16 AM | ملکی خبریں |

لدھیانہ،16اپریل(ایس او نیوز؍محمد فرقان) جموں کشمیر میں 8 سالہ آصفہ اور یوپی میں 16 سالہ اناؤ کی بیٹی جیسی معصوم بیٹیوں کے ساتھ ہوئے عصمت دری کے خلاف لدھیانہ جامع مسجد کے باہر بڑی تعداد میں مسلمانوں نے مجلس احرار اسلام ہند کی طرف سے اتر پردیش کی یوگی حکومت اور کشمیر کی محبوبہ حکومت کا پتلا جلا کر زبردست احتجاج کیا۔ اس موقع پر مجلس احرار اسلام ہند کے قومی صدر اور پنجاب کے شاہی امام حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب ثانی لدھیانوی نے کہا معصوم بچیوں کی عزت لوٹنے اور قتل کرنے والوں کو سربازار گولی مارنی یا پھانسی دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی اور یوگی ادتیہ ناتھ کو شرم آنی چاہئے کہ انکی حکومت میں معصوم بیٹیوں کے ساتھ غیر انسانی حرکت کرنے والوں کو عوام کے احتجاج کے بعد پکڑا گیا. اگر عوام شور نہ مچاتی تو یہ درندے ایسے ہی آزاد پھرتے رہتے۔شاہی امام مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی نے کہا کہ دکھ کی بات یہ ہے کہ آزاد بھارت میں سیاسی روٹیاں سیکنے والے اب یہ دردناک واقعات کو بھی مذہبی رنگ دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام میں زنا کار کا سر قلم کرنے کا حکم ہے، تاکہ کوئی بھی حیوان کسی کی بیٹیوں کی زندگی خراب نہ کر سکے۔قائد الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی نے کہا کہ تین طلاق پر قانون بنانے والی مرکزی مودی حکومت کو بیٹیوں کے تحفظ کیلئے قانون بنانا چاہئے۔ شاہی امام پنجاب نے کہا کہ سیاست میں مذہب اور ذات کے نام پر اقتدار حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن ملک میں بھائی چارہ اور امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔امن کے لئے ضروری ہے کہ ملک کے سبھی لوگوں کے ساتھ انصاف کیا جائے۔شاہی امام نے کہا کہ سبھی حکومت کو یاد رکھنا چاہئے کہ اقتدار کا مذہب صرف انصاف ہوتا ہے. انہوں نے کہا کہ آصفہ ہو یا اناؤ کی بیٹی سب معزز ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بھیما کورے گاؤں تشدد:کنوئیں میں ملی 19سال کے چشم دید کی لاش

ایک جنوری کو پونے کے بھیما کوریگاؤں میں دو فرقوں کے درمیان فساد بھڑک گیا تھا۔اس تشدد میں ایک نوجوان کی موت ہوگئی تھی۔وہیں اس تشدد کی گواہ ایک 19سال کی چشم دید کی لاش فسادات متاثرین کے لئے لگائے گئے ریلیف کیمپ کے پاس ہی ایک کنوئیں میں ملی ہے۔