اپوزیشن کے الزامات مسترد،آدھار ترمیمی بل ایوان میں پیش، ترنمول کانگریس نے کہا،حکومت کابل سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 2nd January 2019, 11:18 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی2جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)حکومت نے آدھار ترمیمی بل کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے آج لوک سبھا میں کہا کہ یہ ترمیمی بل آدھار معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق لایا گیا ہے۔قانون اور انصاف کے وزیر روی شنکر پرساد نے ایوان میں انا ڈی ایم کے اور تیلگو دیشم پارٹی کے اراکین کے ہنگامے کے درمیان ہی آدھار اور دیگر قوانین(ترمیمی) بل 2018 پیش کرنے کی اجازت مانگی ، جس کی کانگریس، ترنمول کانگریس اورریولیوشنری سوشلسٹ پارٹی نے مخالفت کی۔ترنمول کانگریس کے سوگت رائے نے الزام لگایا کہ حکومت کا یہ ترمیمی بل سپریم کورٹ کے 26 ستمبر2018 کے فیصلے کے خلاف ہے۔ مسٹر رائے نے کہا کہ حکومت کو یہ بل پیش نہیں کرنا چاہئے۔کانگریس کے ششی تھرور نے بھی بل کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ آدھار شناخت نہیں بلکہ استناد کا عمل ہے۔ مسٹر تھرور نے بل لانے کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی کہ سب سے پہلے حکومت کو ڈاٹا سیکورٹی سے متعلق قانون لانا چاہئے۔ آر ایس پی کے این کے پریم چندرن نے کہا کہ آدھار ترمیمی بل عام آدمی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔اس کے بعد مسٹر پرساد نے کہا کہ یہ ترمیمی بل کسی طرح سے عام آدمی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ یہ ترمیمی بل سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ آدھار سے ستر ہزار کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے۔ انہوں نے ڈاٹا سیکورٹی قانون کے متعلق اپوزیشن کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ بل تقریباً تیار ہے اور جلد ہی ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ اس کے بعد ایوان میں بل پیش کردیا گیا۔

ایک نظر اس پر بھی

اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کا اُمیدوارکون ؟ راہول گاندھی، مایاوتی یا ممتا بنرجی ؟

آنے والے لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے عہدے کا اُمیدوار کون ہوگا اس سوال کا جواب ہرکوئی تلاش کررہا ہے، ایسے میں سابق وزیر خارجہ اور کانگریس کے سابق سنئیر لیڈر نٹور سنگھ نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ  اس وقت بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سربراہ مایاوتی ...

مدھیہ پردیش میں 5روپے، 13روپے کی ہوئی قرض معافی، کسانوں نے کہا،اتنی کی تو ہم بیڑی پی جاتے ہیں

مدھیہ پردیش میں جے کسان زراعت منصوبہ کے تحت کسانوں کے قرض معافی کے فارم بھرنے لگے ہیں لیکن کسانوں کو اس فہرست سے لیکن جوفہرست سرکاری دفاترمیں چپکائی جارہی ہے اس سے کسان کافی پریشان ہیں،