گورکھپور حادثہ: آکسیجن کی کمی سے بچوں کی موت، ذمہ دار حکومت سچ نہیں بتا رہی ہے: اکھلیش یادو، آکسیجن سلینڈر پہنچانے والی کمپنی میں چھاپہ ماری پراٹھے سوال

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 13th August 2017, 1:18 AM | ملکی خبریں |

گورکھپور:12/اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)گورکھپور میڈیکل کالج میں گزشتہ48 گھنٹوں میں 30 بچوں کی موت کی صورت میں ایس پی لیڈر اکھلیش یادو نے ریاست کی بی جے پی حکومت پر نشانہ لگایا ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں حکومت پر لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آکسیجن کی کمی سے بچوں کی موت ہوئی ہے۔ اگرچہ حکومت نے اس کی تردیدکی ہے۔ اس پراکھلیش یادو نے کہا کہ حکومت سچ نہیں بتارہی ہے۔ ادھر گورکھپور میڈیکل کالج میں حادثے کے بعد سینئر لیڈر غلام نبی آزاد کی قیادت میں کانگریس کے وفد نے موقع پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر غلام نبی آزاد نے کہا کہ یوپی حکومت کی لاپرواہی سے یہ حادثہ ہوا۔ ہسپتال میں آکسیجن کی کمی تھی۔ آزاد نے یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے استعفی کامطالبہ کیا۔ اس وفد میں آزاد کے علاوہ، آر پی این سنگھ، راج ببر اور پرمود تیواری موجودتھے۔ادھر گورکھپور میڈیکل کالج میں مائع آکسیجن سلینڈرپہنچانے والی کمپنی پشپاسیلزپرائیویٹ لمیٹڈ کے دفتر پر گزشتہ رات سے چھاپہ ماری ہو رہی ہے۔ اس کمپنی کے مالک منیش بھنڈاری کے گھر اور اس کے رشتہ داروں کے یہاں بھی چھاپہ ماری ہو رہی ہے۔ منیش بھنڈاری لیکن فرار بتایا جا رہا ہے۔ظاہرہے کہ اس پرسوال اٹھ سکتاہے کہ جب پیسے بقایاتھے توذمہ داری یوگی سرکارکی ہوئی یاگیس فراہم کرنے والی ایجنسی کی،اپوزیشن اس پرسوال اٹھاسکتاہے کہ یوگی سرکارکوبچانے کے لیے الٹی کارروائی ہورہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ گورکھپور میں گزشتہ پانچ دنوں میں60 بچوں کی دردناک موت نے کئی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ جان گنوانے والے بچوں میں5نوزائیدہ بھی تھے۔اگرچہ یوپی حکومت کا کہنا ہے کہ آکسیجن کی کمی سے موت نہیں ہوئی۔ 9 تاریخ کی آدھی رات سے لے کر 10 تاریخ کی آدھی رات کو 23 اموات ہوئیں جن میں سے 14 اموات نو نیٹل وارڈیعنی نومولود بچے کو رکھنے کے وارڈمیں ہوئی ۔یہ بھی حیرت انگیز ہے کہ10 اگست کی رات کو آکسیجن کی سپلائی خطرناک طور پر کم ہو گئی۔

ایک نظر اس پر بھی