پانچویں اور آٹھویں میں بچوں کو ہونا ہی ہوگا پاس، پارلیمنٹ میں پیش ہوا ترمیمی بل، تاہم کسی بچے کوابتدائی تعلیم مکمل کیے جانے تک اسکول سے نکالا نہیں جائے گا

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 12th August 2017, 3:47 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی:11/اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)چندسال پہلے حکومت نے ایک قانون کے ذریعے یہ صاف کر دیا تھا کہ آٹھویں تک بچوں کو کسی بھی کلاس میں فیل نہیں کیاجائے گا۔ لیکن اس نظام سے بہت لوگ ناراض بھی ہوئے اور الزام لگایا کہ اس تعلیم کی سطح میں کمی آئے گی۔ چندسالوں میں کئی ریاستی حکومتوں نے بھی ایسا ہی محسوس کیا اور مطالبہ کیا کہ اس نظام میں تبدیلی کی جائے۔ لوک سبھا میں مفت اور لازمی تعلیم کا حق دوسرا ترمیمی بل( 2017) پیش کیاگیاجس میں انتظام کیا گیا ہے کہ پانچویں اور آٹھویں کلاس میں باقاعدہ امتحان لیا جائے اوران امتحان میں طلباء کے ناکام ہونے پر دوبارہ امتحان کا ایک موقع دیا جائے گا اور اس میں بھی کامیاب نہیں ہونے پر دونوں کلاسوں میں بچوں کو روکا جا سکے گا۔ اگرچہ کسی بچے کو ابتدائی تعلیم مکمل کیے جانے تک اسکول سے نکال نہیں کیا جائے گا۔لوک سبھا میں فروغ انسانی وسائل کے وزیرمملکت اوپیندرکشواہانے مفت اور لازمی حق تعلیم دوسرا ترمیمی بل( 2017)پیش کیا۔ بل میں تجویزکی گئی ہے کہ ہر تعلیمی سال کے اختتام تک پانچویں اور آٹھویں کلاس میں باقاعدہ امتحان ہوگا۔ اگر کوئی بچہ اس میں ناکام ہو جاتا ہے تب اسے اضافی تعلیم دی جائے گی اور نتائج کا اعلان کیے جانے کی تاریخ سے دو ماہ کی مدت کے اندر اندر دوبارہ امتحان دینے کا موقع دیا جائے گا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ کوئی طالب علم دوبارہ ناکام ہوتا ہے تب پانچویں یا آٹھویں جماعت یا دونوں کلاسوں میں روکاجا سکے گا۔ بل میں تجویزکی گئی ہے کہ کسی طالب علم کو ابتدائی تعلیم مکمل کیے جانے تک اسکول سے نکال نہیں کیا جائے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

وزیر اعلیٰ نتیش کمارکا کشن گنج کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ;ایم پی مولانااسرارالحق قاسمی نے میمورنڈم سونپ کر سیلاب متاثرین کی فوری بازآبادکاری کامطالبہ کیا

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے آج کشن گنج کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرکے سیلاب متاثرین سے ملاقات کی اورراحت وامداد کے کاموں کا جائزہ لیا۔اس موقع پر علاقے کے ایم مولانا اسرارالحق

حادثات سے دکھی پربھونے کہا;ریلوے کے لئے خون اور پسینہ ایک کیا، استعفی پرمودی نے انتظارکرنے کوکہا

گزشتہ پانچ دنوں میں اتر پردیش میں دو ٹرینوں کے حادثات کی اخلاقی ذمہ داری لے کر ریلوے وزیر سریش پربھو استعفی دینے کی پیشکش کی ہے،اگرچہ ان کا استعفی ابھی تک قبول نہیں ہوا تھا۔

حکومت ہماری خاموشی کو بزدلی نہ سمجھے: سید عالمگیر اشرف;رائے پور میں بورڈ کی ہنگامی میٹنگ طلب، ملک بھر میں جاری کیا پیغام،مذہب میں دخل اندازی نا قابل برداشت

مرکزی حکومت کی مسلسل مذہب میں غیر قانونی دخل اندازی حکومت کے لئے اچھا نہیں ہے۔ اپنی ناکامیوں اورمجرموں کو شہ دینے کی مجراانہ سازشوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ملک کے