ورنکا کنڈوکیس:جیل سے نکلنے کے بعدماں کے ساتھ مندر گیاوکاس برالا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th January 2018, 10:53 AM | ملکی خبریں |

چنڈی گڑھ، 13جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)چندی گڑھ کے مشہور ورنکا کنڈو چھیڑچھاڑ کیس میں ملزم وکاس برالا پانچ ماہ بعد جیل سے باہر آیا تو سب سے پہلے اپنی ماں کے پاس گیا اور گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رویا۔اس نے اپنی ماں کو بتایا کہ وہ اس معاملے میں مکمل طور پر بے گناہ ہے،اس کو غلط طریقے پرپھنسایاگیا۔اس کے بعد وہ اپنی ماں اور دیگر خاندان کے ارکان کے ساتھ سیدھامندرگیا، جہاں پوجا کی،تاہم میڈیا کواس پورے معاملے سے دور رکھا گیا۔اس سے پہلے جمعہ کو جیل سے باہر آنے کے بعد وکاس برالا نے کسی سے بات نہیں کی اور سیدھے گاڑی میں اپنے دوستوں کے ساتھ وہاں سے رفوچکر ہو گیا،وہ سب سے پہلے اپنی ماں کے پاس گیا۔ایک سوال کے جواب میں وکاس برالا نے کہا کہ وہ وقت آنے پر میڈیا کے سامنے آئے گا اور پورے معاملے کی حقیقت بتائے گا۔واضح رہے کہ ہریانہ بی جے پی کے صدر سبھاش برالا کے بیٹے وکاس برالا کو آئی اے ایس افسر کی بیٹی ورنکا کنڈو سے چھیڑ چھاڑ کرنے، اغوا کی کوشش کرنے اور پیچھا کرنے کے الزام میں جیل جانا پڑا تھا۔دونوں ملزموں نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں ضمانت کے لئے درخواست دی تھی۔جمعہ کو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے برالا اور اس کے دوست آشیش کو مقدمہ میں ضمانت دے دی۔اسی سے ایک دن پہلے اس معاملے میں ورنکاسے کراس سوالات ختم ہوگئے۔چنڈی گڑھ میں چار اگست کی رات تقریباََ12بجے ہریانہ کے آئی اے ایس افسر کی بیٹی ورنکا اپنی گاڑی سے جا رہی تھیں، تبھی کار سوار دو لڑکوں نے اس کاپیچھاکیا۔اس کی گاڑی کو اپنی گاڑی سے آگے ڈال کر اسے روکنے کی کوشش کی۔ورنکا نے 100نمبرپر فون کیا اور پولیس کو بلایا اور پولیس نے دونوں ملزمان کو گرفتار کیا۔اس ورنکا کنڈو معاملے میں چار اگست 2017کو چنڈی گڑھ کے سیکٹر 26پولیس تھانے میں شکایت درج ہوئی تھی، جس میں شراب پی کر گاڑی سے پیچھا کرنے اور اغوا کی کوشش کرنے جیسے سنگین معاملے درج ہوئے تھے۔اس واقعہ کے دو دن بعد ہی ملزم وکاس برالا اور اس کے دوست آشیش کو چنڈی گڑھ پولیس نے گرفتار کیا تھا۔بہت ڈرامے کے بعد اسے سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا تھا۔اس وقت وکاس اتنا براپھنساکہ سب رسوخ دھراکادھرارہ گیا۔وکاس گزشتہ 5ماہ سے چنڈی گڑھ کے بڈیل جیل میں بند تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

چامراج نگر زہریلے پرسادسے ہلاکتوں کا معاملہ: گروہی مفاد پرستی نے لی 15بے قصوروں کی جان۔ مندر کے پجاری نے دی تھی سپاری !

چامراج نگر کے سولواڈی گاؤں میں مندر کا زہریلا پرساد کھانے کے بعد ہونے والی15بھکتوں کی ہلاکتوں کے پیچھے اسی مندر کے چیف پجاری کی سازش کا خلاصہ سامنے آیا ہے۔ ...

وزیراعظم مودی کا حملہ:4سال پہلے کسی نے سوچابھی نہیں تھا کہ سکھ فسادمعاملے میں کانگریس لیڈر کوسزا ملے گی

وزیر اعظم نریندر مودی نے 1984سکھ مخالف فسادات میں انصاف میں تاخیر کا خاکہ پیش کرتے ہوئے منگل کو کہا کہ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ کانگریس لیڈر کو معاملے میں مجرم ٹھہرایا جائے گا۔