بابری مسجد قضیہ : پانچ ججوں کا آئینی بنچ 10 جنوری کو کرے گا سماعت، سرکلر جاری

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 9th January 2019, 2:10 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی:8/جنوری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)بابری مسجد قضیہ کی سماعت سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کا آئینی بنچ کرے گا ۔ دس جنوری کو معاملے کی سماعت ہوگی۔ سماعت کرنے والے آئینی بنچ میں چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس ایس اے بوبڑے، جسٹس این وی رمنا، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ ہیں۔ بابری مسجد قضیہ کی سماعت آئینی بنچ کے سپرد کئے جانے کے سلسلے میں سپریم کورٹ نے سرکلر جاری کر دیا ہے۔ سماعت کرنے والے بنچ میں چیف جسٹس کے علاوہ وہ چار جج ہیں جو مستقبل میں چیف جسٹس بنیں گے۔ اس میں کوئی مسلم جج نہیں ہے۔سابق میں سپریم کورٹ نے طے کیا تھا کہ ایودھیا کیس کی سماعت اب 10 جنوری کو نیا بنچ کرے گا۔ اس بنچ کی تشکیل 10 جنوری سے پہلے کئے جانے کی بات کہی گئی تھی۔ منگل کو اس بنچ کو تشکیل دے دی گئی ۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کے بنچ نے گزشتہ سماعت بمشکل آدھے منٹ میں ختم کر دی تھی۔ سماعت میں کہا تھا کہ نیا بنچ اب اس معاملے میں آگے کی حکم جاری کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی صاف ہو گیا تھا کہ نیا بنچ ہی طے کرے گا کہ معاملے کی سماعت کب سے کی جائے۔ نئے بنچ ہی یہ فیصلہ کرے گاکہ معاملے کی سماعت باقاعدگی کی جائے گی یا نہیں۔ 

ایک نظر اس پر بھی

جماعت اسلامی نے عوامی منشور برائے پارلیمانی انتخابات جاری کیا

جماعت اسلامی ہندنے عوامی منشوربرائے پارلیمانی انتخابات 2019جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ کسی بھی ملک میں صحت مند جمہوریت کی بقا کے لئے ضروری ہے کہ عوام اور سول سوسائیٹی اپنے لئے بہترین نمائندوں اور اچھی سیاسی جماعت کے انتخاب اور رائے وہی میں اقدامی اور فعال کردار ادا کریں۔ عوام سے ...

مودی کی ’چوکیدار مہم‘ پر پرینکا نے کہاراہل ٹھیک کہتے ہیں ’امیروں کا ہوتا ہے چوکیدار‘

وزیر اعظم نریندر مودی کی ’چوکیدار مہم‘ پر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے زور دار حملہ کیا ہے۔پی ایم مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ غریب لوگوں کے چوکیدار نہیں ہوتے۔

مرکزی وزیر رام داس اٹھاؤلے کا بی جے پی۔شیوسینا کو انتباہ، کہا دلت ووٹ کو کم نہ گرداناجائے

مہاراشٹر میں بی جے پی، شیو سینا کو 23 نشستیں دے کر اپنے پالے میں رکھنے میں کامیاب ہو گئی ہے لیکن ریاست میں بی جے پی کی اتحادی پارٹی آر پی آئی کے لیڈر اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ رام داس اٹھاولے کا بیان اس کی مشکلیں بڑھا سکتا ہے۔